30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲۴؎ یعنی برے الفاظ سے یاد کرکے فرمایا کہ اس نے میرے کپڑے خراب کردیئے نہ یہ زنا کرتی نہ رجم کی جاتی نہ اس کے خون سے میرے کپڑے نجس ہوتے۔
۲۵؎ اور اسے برا نہ کہو کیونکہ اس کی شاندار مغفرت ہوچکی ہے۔
۲۶؎ معلوم ہوا کہ اپنے جرم کا اقرار کرنا اس کی سزا لے لینا بھی توبہ ہے اگرچہ منہ سے توبہ کے الفاظ نہ کہے،ندامت و شرمندگی آئندہ کے لیے گناہ سے بچنے کا عہد بھی توبہ ہے۔
۲۷؎ یہاں مرقات نے فرمایا کہ ٹیکس لگانے اور وصول کرنے کا حکم کرنے کا محکمہ بدترین محکمہ ہے اور وہاں کے ملازمین بدترین قسم کے مجرم ہیں کیونکہ جتنا ظلم اس محکمہ میں ہوتا ہے اتنا دوسرے محکموں میں نہیں ہوتا کہ ناجائز طریقوں سے رعایا کا مال نہایت بے دردی سے وصول کیا جاتا ہے۔
۲۸؎ ظاہر یہ ہے کہ خود حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز نہ پڑھی بلکہ لوگوں کو اس کا حکم دے دیا تاکہ آئندہ کے لیے عبرت ہو جیسے مقروض پر بعض دفعہ حضور نے نماز نہ پڑھی،اس جملہ کے معنی یہ بھی کیے گئے کہ حضور نے اس کے غسل و کفن کا حکم دیا پھر نماز پڑھی یعنی امر کا مفعول غسل و کفن ہے اور فعل بصیغہ معروف ہے اسی وجہ سے آئمہ میں اختلاف ہے،بعض کہتے ہیں کہ سلطان اسلام مرحوم پر نماز نہ پڑھے،بعض فرماتے ہیں کہ پڑھے۔خیال رہے کہ ان لوگوں کا صرف زبانی توبہ نہ کرنا اور اصرار سے اپنے کو رجم کرا لینا اسی لیے تھا کہ اس توبہ کا قبول ہونا مشکوک تھا اور اس توبہ کا قبول ہونا یقینی۔
|
3563 -[9] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِذَا زَنَتْ أَمَةُ أَحَدِكُمْ فَتَبَيَّنَ زِنَاهَا فَلْيَجْلِدْهَا الحدَّ وَلَا يُثَرِّبْ عَلَيْهَا ثمَّ إِنْ زنَتْ فلْيجلدْها الحدَّ وَلَا يُثَرِّبْ ثُمَّ إِنْ زَنَتِ الثَّالِثَةَ فَتَبَيَّنَ زِنَاهَا فَلْيَبِعْهَا ولوْ بحبْلٍ منْ شعرٍ» |
روایت ہے ابو ہریرہ سے فرماتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جب تم میں سے کسی کی لونڈی زناکرے پھر اسکا زنا ظاہر ہوجائے تو اسے سزاءً کوڑے لگائے ۱؎ صرف بُرا بھلا نہ کہے اگر پھر زنا کرے ۲؎ تو اسے سزاءً کوڑے لگائے اور صرف سرزنش نہ کرے۳؎ اگر تیسری بار زنا کرے۴؎ اس کا زنا ظاہر ہوجائے تو اسے بیچ دے اگرچہ بال کی رسّی کے عوض ۵؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ اس حدیث کی بنا پر امام شافعی فرماتے ہیں کہ مولیٰ اپنی لونڈی کو خود حد لگاسکتا ہے سلطان اسلام کا فیصلہ شرط نہیں،مگر ہمارے امام اعظم فرماتے ہیں کہ حد کے لیے فیصلہ حاکم شرط ہے۔اس حدیث کے معنے یہ ہیں کہ حاکم کا فیصلہ کراکر کوڑے لگائے،یہاں نسبت سببیت کی ہے یعنی حد لگانے کا سبب بن جائے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ لونڈی خواہ کنواری ہو یا شادی شدہ اس کے لیے زنا کی سزا پچاس کوڑے ہیں،یعنی آزاد عورت کی سزا آدھی اسے رجم نہیں کیا جائے گا،رب تعالٰی لونڈیوں کے متعلق فرماتاہے:"فَاِنْ اَتَیۡنَ بِفٰحِشَۃٍ فَعَلَیۡہِنَّ نِصْفُ مَا عَلَی الْمُحْصَنٰتِ مِنَ الْعَذَابِ"۔اس آیت میں عذاب سے مراد کوڑے ہیں نہ کہ رجم کیونکہ رجم آدھا نہیں ہوسکتا۔
۲؎ اس جملہ کے دو معنے ہوسکتے ہیں:ایک یہ کہ زانیہ لونڈی کو کوڑے ضرور لگائے صرف برا بھلا کہہ کر ٹال نہ دے۔دوسرے یہ کہ کوڑے مارنے کے بعد برا بھلا نہ کہے کہ یہ کوڑے اس کی پوری سزا ہوگئی۔
۳؎ خیال رہے کہ لونڈی غلاموں کے متعلق اتفاق ہے کہ انہیں دیس نکالا نہ دیا جائے کہ اس میں سخت خطرات ہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع