دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

۱۳؎ اس بی بی نے اپنے کو غائب کے صیغہ سے تعبیر کیا کیونکہ اس نے اپنے کو بارگاہ عالی کی حاضری کے لائق نہ سمجھا گویا اب میں اس بارگاہ سے غائب ہوچکی ہوں۔(اشعہ)مقصد یہ تھا کہ میں تو اپنے اقرار سے پھرسکتی نہیں کہ میرا حمل میرے جرم کی دلیل ہے ماعز پھر سکتے تھے کہ وہاں کوئی دلیل نہ تھی۔

۱۴؎  کیونکہ اس حالت میں تجھے رجم کرنے سے حمل کی جان بلا وجہ ضائع ہوگی۔اس سے معلوم ہوا کہ حاملہ کو قتل یا رجم نہیں کیا جاسکتا نہ حق اﷲ میں نہ حق العباد میں لہذا قاتلہ حاملہ سے بچہ جننے کے بعد قصاص لیا جائے گا کیونکہ ماں کے قصور سے بچہ ہلاک نہیں کیا جاسکتا۔

۱۵؎ یعنی اس بی بی کی حفاظت حمل جننے کے خرچہ وغیرہ کا میں کفیل ہوں،یہ ملزم کو حاضر کرنے کی کفالت و ضمانت نہیں ہے کہ شرعی حد میں ضمانت جائز نہیں،آج بھی قتل کے ملزم کی ضمانت حکومت نہیں لیتی بلکہ اسے دوران مقدمہ حوالات میں رکھتے ہیں۔

۱۶؎ یعنی اس کفیل نے عورت کے بچہ جن دینے کی خبر دے کر دریافت کیا کہ اب اس کے لیے کیا حکم ہے رجم کی جائے گی یا اسے مہلت دی جائے گی۔

۱۷؎ یعنی اب بھی ہم اسے رجم نہ کریں گے کیونکہ اب بھی ماں کو رجم کردینے سے بچہ ضائع ہوجائے گا۔

۱۸؎  لہذا اسے فی الفور رجم فرما کر پاک فرما دیجئے۔غالبًا یہ سب کچھ اس بی بی کے کہنے سے عرض کیا ہوگا تب حضور نے رجم کا حکم دیا۔

۱۹؎  یہ ٹکڑا دینا علامت اس کی تھی کہ اب بچہ مجھ ماں کے بغیر بھی رہ سکتا ہے میرے دودھ کا محتاج نہیں اس سے پتہ چلتا ہے اس بی بی کی استقامت اور خوف خدا کی پختگی کا کہ اتنا دراز عرصہ گزرنے کے بعد بھی اس کا جوش توبہ کم نہ ہوا برابر حاضر ہوتی ہے اور رجم کی درخواست کرتی رہی۔

۲۰؎ یہ روایت گزشتہ روایت کے خلاف ہے پہلی روایت سے معلوم ہوا تھا کہ بچہ جنتے ہی رجم کردی گئی اور بچہ کی شیر خوارگی کسی نے اپنے ذمہ لے لی۔اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عورت دودھ چھوڑانے کے بعد رجم کی گئی،شاید یہ واقعہ دوسری عورت کا ہے اسی لیے پہلی عورت کو ازدیہ کہا گیا ہے اور یہ عورت جہنیہ تھی یا پہلی روایت سے یہ روایت زیادہ قوی ہے کہ اس پہلی روایت میں بشیر ابن مہاجر راوی ہے اور اس دوسری روایت میں مقاتل راوی ہے یا پہلی حدیث کا مطلب بھی یہ ہی ہے کہ دودھ چھوڑانے کے بعد رجم کی گئی،وہاں علی رضاعۃ میں رضاعت سے مراد پرورش ہے۔واﷲ اعلم!(مرقات و نووی)

۲۱؎  تاکہ ملزمہ عورت پتھروں کی تکلیف پا کر بھاگ نہ سکے اور اس کی پردہ دری نہ ہو،یہ امرا ستحبابی تھا وجوبی نہیں۔عورت کو رجم کرتے وقت گڑھے میں داب دینا مستحب ہے واجب نہیں۔(ہدایہ،فتح القدیر،مرقات)ظاہر یہ ہے کہ گڑھا کھودنے کا حکم خود سرکار عالی نے دیا۔

۲۲؎  ظاہر یہ ہے کہ حضور انور خود بھی وہاں تشریف فرما رہے جیساکہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔فقہاء فرماتے ہیں اگر زنا کا ثبوت گواہوں سے ہو تو پہلے گواہ پتھر ماریں پھر حاکم پھر دوسرے لوگ اور اگر ثبوت خود ملزم کے اقرار سے ہو تو پہلے حاکم پتھر مارے پھر دوسرے لوگ حضرت علی رضی اﷲ عنہ سے یوں منقول ہے۔

۲۳؎  یقبل حال ہے مگر ماضی کے معنی میں کبھی یقینی ماضی کو حال کے صیغہ سے بیان کردیتے ہیں یہ ظاہر کرنے کو کہ مجھے اس واقعہ کا ایسا یقین ہے جیسے ابھی میرے سامنے ہورہا ہے،اظہار تعجب کے لیے بھی ایسا کیا جاتا ہے،خواب بیان کرتے وقت کہا جاتا ہے کہ میں نے سال پہلے خواب دیکھا کہ فلاں جگہ جارہا ہوں وغیرہ۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن