30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
3562 -[8] وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: جَاءَ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ طَهِّرْنِي فَقَالَ: «وَيْحَكَ ارْجِعْ فَاسْتَغْفر الله وَتب إِلَيْهِ» . فَقَالَ: فَرَجَعَ غَيْرَ بَعِيدٍ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ طَهِّرْنِي. فَقَالَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ ذَلِكَ حَتَّى إِذَا كَانَتِ الرَّابِعَة قَالَه لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فِيمَ أُطَهِّرُكَ؟» قَالَ: مِنَ الزِّنَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَبِهِ جُنُونٌ؟» فَأُخْبِرَ أَنَّهُ لَيْسَ بِمَجْنُونٍ فَقَالَ: «أَشَرِبَ خَمْرًا؟» فَقَامَ رَجُلٌ فَاسْتَنْكَهَهُ فَلَمْ يَجِدْ مِنْهُ رِيحَ خَمْرٍ فَقَالَ: «أَزَنَيْتَ؟» قَالَ: نَعَمْ فَأَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ فَلَبِثُوا يَوْمَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً ثُمَّ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «اسْتَغْفِرُوا لِمَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ لَقَدْ تَابَ تَوْبَةً لَوْ قُسِّمَتْ بَيْنَ أُمَّةٍ لَوَسِعَتْهُمْ» ثُمَّ جَاءَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ غَامِدٍ مِنَ الْأَزْدِ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ طَهِّرْنِي فَقَالَ:«وَيَحَكِ ارْجِعِي فَاسْتَغْفِرِي اللَّهَ وَتُوبِي إِلَيْهِ» فَقَالَتْ: تُرِيدُ أَنْ تَرْدُدَنِي كَمَا رَدَدْتَ مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ: إِنَّهَا حُبْلَى مِنَ الزِّنَا فَقَالَ: «أَنْتِ؟» قَالَتْ: نَعَمْ قَالَ لَهَا: «حَتَّى تَضَعِي مَا فِي بَطْنِكِ» قَالَ: فكَفَلَها رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ حَتَّى وَضَعَتْ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: قَدْ وَضَعَتِ الغامديَّةُ فَقَالَ: «إِذاً لَا نرجُمها وندعُ وَلَدَهَا صَغِيرًا لَيْسَ لَهُ مَنْ يُرْضِعُهُ» فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ: إِلَيَّ رَضَاعُهُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَالَ: فَرَجَمَهَا. وَفِي رِوَايَةٍ: أَنَّهُ قَالَ لَهَا: «اذْهَبِي حَتَّى تَلِدِي» فَلَمَّا وَلَدَتْ قَالَ: «اذْهَبِي فَأَرْضِعِيهِ حَتَّى تَفْطِمِيهِ» فَلَمَّا فَطَمَتْهُ أَتَتْهُ بِالصَّبِيِّ فِي يَدِهِ كِسْرَةُ خُبْزٍ فَقَالَتْ: هَذَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَدْ فَطَمْتُهُ وَقَدْ أَكَلَ الطَّعَامَ فَدَفَعَ الصَّبِيَّ إِلَى رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَحُفِرَ لَهَا إِلَى صَدْرِهَا وَأَمَرَ النَّاسَ فَرَجَمُوهَا فَيُقْبِلُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ بِحَجْرٍ فَرَمَى رَأْسَهَا فَتَنَضَّحَ الدَّمُ عَلَى وَجْهِ خَالِدٍ فَسَبَّهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «مهلا يَا خَالِد فو الَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ تَابَهَا صَاحِبُ مَكْسٍ لَغُفِرَ لَهُ» ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فصلى عَلَيْهَا ودفنت. رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت بریدہ سے فرماتے ہیں کہ ماعز ابن مالک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے بولے یا رسول اﷲ مجھے پاک فرمادو ۱؎ تو فرمایا افسوس ہے ارے لوٹ جا اﷲ سے معافی مانگ لے اور توبہ کرلے ۲؎ فرماتے ہیں وہ تھوڑی دور لوٹے پھر آگئے عرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے پاک فرمادو ۳؎ تب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح فرمایا حتی کہ جب چوتھی بار ہوئی تب اس سے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا میں تجھے کس چیز سے پاک کروں ۴؎ عرض کیا زنا سے فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا اسے دیوانگی ہے ۵؎ خبر دی گئی کہ اسے دیوانگی نہیں پھر فرمایا کیا اس نے شراب پی ہے ۶؎ تو ایک شخص اٹھا اس نے اس کے منہ کی بو سونگھی تو اس سے شراب کی بو نہ پائی ۷؎ تب فرمایا کیا تو نے زنا کیا ہے عرض کیا ہاں تو رجم کیا گیا لوگ دو تین دن ٹھہرے ۸؎ پھر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے فرمایا ماعز ابن مالک کے لیے دعائے مغفرت کرو ۹؎ اس نے ایسی شاندار توبہ کی ہے کہ اگر ایک جماعت کے درمیان وہ بانٹ دی جائے تو ان کو شامل ہوجائے ۱۰؎ پھر حضور کی خدمت میں ازد کے قبیلہ غامد کی عورت آئی ۱۱؎ بولی یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے پاک فرما دو فرمایا افسوس تجھ پر لوٹ جا اﷲ سے معافی مانگ اور توبہ کر ۱۲؎ بولی کیا آپ چاہتے ہیں کہ مجھے ایسے لوٹا دیں جیسے ماعز ابن مالک کو لوٹایا تھا یہ بندی تو زنا سے حاملہ ہے ۱۳؎ تب فرمایا کہ تُو،بولی ہاں تب اس سے فرمایا حتّٰی کہ تو اپنے پیٹ کے بچہ کو جن دے ۱۴؎ راوی نے کہا کہ اس کا ایک انصاری مرد کفیل و ضامن ہوگیا ۱۵؎ حتی کہ اس نے جن دیا تب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا عرض کیا کہ غامدیہ نے بچہ جن دیا ۱۶؎ فرمایا تب تو ہم اس کو رجم نہ کریں گے اس کے چھوٹے بچے کو یوں ہی نہ چھوڑیں گے ۱۷؎ کہ اسے کوئی دودھ پلانے والا نہ ہو تو ایک انصاری مرد کھڑا ہوا عرض کیا کہ اس کا دودھ میرے ذمہ ہے یا نبی اﷲ ۱۸؎ فرماتے ہیں تب اسے رجم کیا گیا اور ایک روایت میں یوں ہے فرمایا جا حتی کہ بچہ جن دے پھر جب جن چکی تو فرمایا جا اسے دودھ پلا حتی کہ اس کا دودھ چھوڑا دے پھر جب اس کا دودھ چھڑا دیا تو بچہ کو لے کر آئی اس کے ہاتھ میں روٹی کا ٹکڑا تھا ۱۹؎ بولی یا نبی اﷲ میں نے اس کا دودھ چھوڑا دیا ہے اور اب بچہ کھانا کھانے لگا ہے تب حضور نے بچہ ایک مسلمان کے سپرد کیا ۲۰؎ پھر اس کے متعلق حکم دیا تو اس کے لیے سینہ تک گڑھا کھودا گیا ۲۱؎ اور لوگوں کو حکم دیا انہوں نے اسے رجم کیا ۲۲؎ خالد ابن ولید پتھرلا رہے تھے وہ اس کے سر میں مارا ۲۳؎ تو خالد کے چہرے پر خون کی چھینٹیں پڑ گئیں اسے خالد نے برا کہا ۲۴؎ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٹھہر جا اے خالد ۲۵؎ اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے اس نے ایسی توبہ کی ہے ۲۶؎ کہ اگر یہ توبہ ٹیکس لینے والا کرتا تو اس کو بھی بخش دیا جاتا ۲۷؎ تو اس پر نماز پڑھی گئی اور وہ دفن کردی گئی ۲۸؎ (مسلم) |
۱؎ سزا قائم فرماکر زنا کی پلیدی سے پاک فرمادو۔معلوم ہواکہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم سے پاکی مانگنا شرک نہیں،رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَیُزَکِّیۡہِمْ"تزکیہ اور طہار ت کا فرق بارہا بیان ہوچکا۔
۲؎ لفظ ویحك یا ویحًالك رحم یا تعجب یا تعریف کے موقعہ پر بولا جاتا ہے یہاں تینوں معنی میں ہوسکتا ہے۔حضور نے ماعز سے گناہ نہ پوچھا تاکہ اس کی پردہ دری نہ ہو۔استغفار سے مراد زبانی توبہ ہے اور تُب سے مراد دلی توبہ۔شعر
جویہاں عیب کسی کےنہیں کھلنےدیتے کب وہ چاہیں گے مری حشرمیں رسوائی ہو
۳؎ یعنی حضرت ماعز رضی اللہ عنہ کو توبہ کی طہارت پر صبر نہ آیا،تیمم سے وضو کو افضل جانا اس لیے پھر لوٹے۔
۴؎ اﷲ اکبر! یہ ہے حضور انور کی شان ستاری کہ تین بار پردہ ڈالا جب ماعز نے اصرار کیا تب حد جاری کرنے کے لیے صراحۃً اقرار زنا کرایا کہ اس صریحی اقرار کے بغیر یہ سزا دینا درست نہ ہوتا تھا وہ تھا کرم یہ ہے قانون،فیم میں فی بمعنی من ہے یا بمعنی ب سببیہ۔
۵؎ یہ ارشاد عالی حاضرین بارگاہ سے ہے جو حضرت ماعز کے حالات سے خبردار تھے۔
۶؎ معلوم ہوا کہ دیوانے اور نشہ والے کا اقرار زنا معتبر نہیں۔
۷؎ اس جملہ سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ نشہ والے کا اقرارمعتبر نہیں خواہ کوئی اقرار ہو۔دوسرے یہ کہ شراب پینے کا ثبوت باقی ہو جس میں شراب نکلے یا منہ کی بو ہے یا بے ڈھنگی چال ہے کہ انسان سیدھا نہ چل سکے مگر ان سب میں منہ کی بو بڑا ثبوت ہے۔
۸؎ اس دوران میں ماعز کا کوئی تذکرہ بارگاہ عالی میں نہ ہوا۔
۹؎ کہ اس کے گناہ کی معافی تو رجم سے ہی ہوگئی اب اس دعا سے اس کی ترقی درجات ہوگی۔معلوم ہوا کہ کوئی شخص دعائے خیر سے خصوصًا حضور کی دعا سے مستغنی نہیں اور دعائے مغفرت صرف گناہ کی معافی کے لیے نہیں بلکہ بلندی درجات کے لیے بھی ہوتی ہے،رب تعالٰی نے فرمایا:"لِیَغْفِرَ لَکَ اللہُ"۔(مرقات)
۱۰؎ اس سے معلوم ہوا کہ زانی کے رجم میں اس کی توبہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رجم کو توبہ قرار دیا اور چونکہ اس نے خود اقرار گناہ کرکے رجم قبول کیا اس لیے اس کا یہ عمل شاندار توبہ بنا،یہاں توبہ کو مادی چیز سے تشبہ دی گئی ہے کہ اس کے لیے تقسیم کا ذکر فرمایا اور ہوسکتا ہے کہ تقسیم توبہ سے مراد اس کے ثواب کی تقسیم ہے اس دوسری توجیہ کو مرقات نے ترجیح دی۔
۱۱؎ ازد بڑے قبیلہ کا نام ہے اور غامد اس کے بطن کا نام جیسے پٹھانوں میں یوسف زئی،کمال زئی وغیرہ۔خیال رہے کہ ازد ابن الغوث اس قبیلہ ازد کے مورث اعلیٰ کا نام ہے ان ازدکی اولاد میں تمام انصار ہیں ان کا لقب ازد شنوہ ہے۔(اشعۃ اللمعات)
۱۲؎ اس سے معلوم ہوا کہ اگر زانی کا زنا ثابت نہ ہو اور وہ خفیہ ہی توبہ کرلے تو مغفرت کی امید ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:" وَیَغْفِرُ مَا دُوۡنَ ذٰلِکَ لِمَنۡ یَّشَآءُ"کفر و شرک کے سواء جسے چاہے معاف فرمادے،دیکھو یہاں بھی حضور نے اس کا گناہ نہ پوچھا،یہ ہے شانِ ستاری۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع