30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ضروری نہیں نہ امام اس سے یہ پوچھے اور اگر وہ کسی عورت کا نام لے بھی تب بھی وہ اس ملزم کے اقرار سے رجم نہیں کی جائے گی کیونکہ ہر شخص کا اقرار اپنے متعلق ہوسکتا ہے عورت خود اقرار کرے تو سزا پائے گی۔
۵؎ معلوم ہوا کہ محصن زانی کو صرف رجم کیا جائے گا کوڑے نہ مارے جائیں گے،یہ حدیث اس گزشتہ حدیث کی ناسخ ہے جس میں کوڑوں کا بھی حکم ہے۔
۶؎ ابن شہاب کا نام امام زہری ہے،آپ تابعی ہیں یعنی میں نے حضرت جابر سے خود نہ سنا کسی اور صحابی یا تابعی سے سنا ہے چونکہ امام زہری بڑے پایہ کے محدث ہیں اس لیے ان کا یہ ابہام حدیث کو ضعیف نہ کردے گا کہ اتنا بڑا محدث ثقہ سے ہی روایت کرے گا امام بخاری کی تعلیق بھی معتبر ہے۔
۷؎ اس سے معلوم ہوا کہ مرد زانی کو باندھ کر یا گاڑھ کر رجم نہ کیا جائے گا ورنہ وہ بھاگ نہ سکتا البتہ عورت کا نصف حصہ گاڑھ کر رجم کیا جاوے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے غامدی عورت کو گاڑھ کر رجم فرمایا تھا کیونکہ مرد کی رجم کی شہرت چاہیے اسی لیے شہر میں بلکہ بازار میں رجم کیا جاوے،عورت کے پردہ کا لحاظ رکھا جائے،کوڑے بھی سب کے سامنے مارے جائیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَ لْیَشْہَدْ عَذَابَہُمَا طَآئِفَۃٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِیۡنَ"۔
۸؎ حرہ کے معنے ہیں پتھریلی زمین،مدینہ منورہ میں مدینہ پاک کے دو پہاڑوں کے درمیان کی زمین حرہ کہلاتی ہے یہ جگہ شہر سے متصل ہے۔
۹؎ یہ جنازگاہ جنت البقیع قبرستان میں تھا۔معلوم ہوا کہ جنازگاہ پر مسجد کے احکام جاری نہ ہوں گے،دیکھو مسجد میں رجم حرام ہے کہ اس سے مسجد خون سے لتھڑ جائے گی مگر جنازہ گاہ میں جائز ہے،اسی طرح جنازہ گاہ میں جنبی آسکتا ہے یہاں مصلی سے مراد نماز جنازہ کی جگہ ہے۔(مرقات) اشعۃ اللمعات نے فرمایا کہ یہ جنازہ گاہ مسجد نبوی سے متصل ایک چبوترا تھا جو نماز جنازہ کے لیے مقرر تھا مگر مرقات کا قول قوی ہے۔
۱۰؎ خیال رہے کہ اقراری زانی اگر رجم کے دوران میں بھاگ جائے توہمارے امام اعظم کے نزدیک اسے چھوڑ دیا جائے گا کہ یہ بھاگنا اپنے اقرار سے پھر جانا ہے اور اقرار زنا میں پھر جانا قبول ہے،امام شافعی کے ہاں اس صورت میں رجم بند کردیا جائے گا پھر اس سے پوچھا جائے گا اگر اپنے اقرار پر قائم رہے تو رجم کیا جائے گا اگر اقرار سے پھر جائے تو چھوڑ دیا جائے گا،ہماری دلیل وہ حدیث ابوداؤد کی ہے کہ اس موقعہ پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ھلا ترکتموہ تم نے اسے چھوڑ کیوں نہ دیا مگر چونکہ حد کا ثبوت صراحۃً اقرار سے ہوچکا تھا اور رجوع اقرار صراحۃً نہ تھا اس لیے وہ رجم کردینے والے صحابہ معذور سمجھے گئے اور ان پر قصاص یا دیت لازم نہ فرمائی۔امام مالک نے اس حدیث کی بنا پر فرمایا کہ ایسی حالت میں بھاگ جانے پر بھی رجم کیا جائے گا وہ اس حدیث کے ظاہر سے دلیل لیتے ہیں۔
۱۱؎ یعنی مرحوم کے لیے دعائے مغفرت فرمائی اور اس کی نماز جنازہ خود پڑھی یا صحابہ کرام کو اس کا حکم دیا،اس جملہ کی اور بھی شرحیں ہوسکتی ہیں مگر یہ شرح ظاہر ہے۔
|
3561 -[7] وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا أَتَى مَاعِزُ بن مَالك النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ: «لَعَلَّكَ قَبَّلْتَ أَوْ غَمَزْتَ أَوْ نَظَرْتَ؟» قَالَ: لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: «أَنِكْتَهَا؟» لَا يُكَنِّي قَالَ: نَعَمْ فَعِنْدَ ذَلِكَ أَمر رجمه. رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ جب ماعز ابن مالک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ۱؎ تو آپ نے ان سے فرمایا شاید تو نے بوسہ لے لیا ہوگا یا اشارہ کیا ہوگا۲؎ یا دیکھ لیا ہوگا عرض کیا نہیں یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا تو کیا تو نے اس سے صحبت کرلی کنایۃً ۳؎ عرض کیا ہاں تو اس وقت ان کے رجم کا حکم دیا۴؎ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع