دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

ہے۔حق یہ ہے کہ حضور کا ہر حکم در حقیقت حکم قرآنی ہے کہ رب نے فرمایا:"مَاۤ اٰتٰىکُمُ الرَّسُوۡلُ فَخُذُوۡہُ"حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر حکم قرآنی حکم ہے حضور ناطق قرآن ہیں۔

۱۰؎ غالبًا اس شخص نے یہ بکریاں اور لونڈی خیرات نہ کی تھیں ورنہ صدقہ و خیرات دے کر واپس نہیں ہوسکتی بلکہ عورت کے خاوند اور اس کے عزیزوں کو دی ہوں گی کیونکہ ان کی آبروریزی ہوئی جیسے قاتل مقتول کے ورثاء کو دیت دیتا ہے۔

۱۱؎ سو کوڑے تو حد کے طور پر اور ایک سال کا دیس نکالا بطور تعزیر کہ اگر امام اس میں مصلحت دیکھے تو یہ سزا بھی دے یہ ہی ہمارا مذہب ہے،امام شافعی کے ہاں یہ بھی حد ہے مگر امام اعظم کا قول قوی ہے کیونکہ حضرت عمر نے ایک بار زانی کو دیس نکالا دیا وہ کفار سے جا ملا تو آپ نے پھر یہ سزا نہ دی،اگر یہ بھی حد ہوتی تو آپ اسے بند نہ کرتے دیکھو طحاوی شریف،نیز کبھی دیس نکالا مضر بھی ہوتا ہے کہ زانی باہر جاکر اور آزاد ہوجاتا ہے اس لیے اگر مفید ہو تو یہ سزا دی جائے۔

۱۲؎ ان کا نام انس ابن ضحاک اسلمی ہے،محبت وپیار میں انیس تصغیر سے فرمایا۔

۱۳؎ اقرار سے مراد شرعی اقرار ہے یعنی چار بار۔اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ اقرار نامہ زنا سلطان اسلام کے سامنے ہونا ضروری نہیں بلکہ اس کے نائب کے سامنے بھی ہوسکتا ہے۔دوسرے یہ کہ زانی کے رجم کے وقت سلطان کی موجودگی ضروری نہیں، نائب سلطان کی حاضری گویا سلطان ہی کی حاضری ہے۔تیسرے یہ کہ فریقین میں سے ایک کے بیان پر بھی قاضی کفایت کرسکتا ہے،د یکھو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف اس ایک شخص کا بیان سنا عورت کے خاوند کا بیان نہ لیا،ہاں دوسرے ملزم کو سزا اس کے اقرار پر دی،حضرت داؤد علیہ السلام کے پاس جب فرشتے مدعی و مدعیٰ علیہ کی شکل میں حاضر ہوئے تو آپ نے ایک کا بیان سن کر فرمادیا کہ یہ دوسرا ظالم ہے جو اپنے پاس ننانوے بکریوں ہوتے ہوئے تیری ایک بکری مانگتا ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف ہندہ کا بیان سن کر حکم دیا کہ ابو سفیان کی جیب سے بقدر ضرورت خرچ لے لیا کرو۔بعض نے فرمایا کہ فتویٰ اور قضاء میں فرق ہے،فتویٰ ایک بیان پر ہوسکتا ہے،امام شافعی نے اس حدیث کی بنا پر فرمایا کہ چوری و قتل کی طرح زنا میں بھی ایک اقرار کافی ہے کیونکہ یہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے چار اقراروں کی شرط نہ لگائی مگر یہ دلیل بہت کمزور ہے کیونکہ حضرت ماعز کی روایت میں چار اقراروں کی تصریح ہے اور یہاں ایک اقرار کی تصریح نہیں لہذا یہاں بھی شرعی اقرار مراد ہے یعنی چار بار،مذہب حنفی بہت قوی ہے۔

3556 -[2]

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ فِيمَنْ زَنَى وَلَمْ يُحْصَنْ جَلْدَ مِائَةٍ وَتَغْرِيبَ عَامٍ. رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت زید ابن خالد سے فرماتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ اس کے متعلق جو بغیر محصن ہوئے زنا کرے ۱؎ ایک سو کوڑے اور ایک سال دیس نکالا کا حکم دیتے تھے ۲؎ (بخاری)

۱؎ شریعت میں محصن وہ ہے جو مسلمان آزاد عاقل بالغ ہو اور بذریعہ نکاح صحیح صحبت کرچکا ہو اگر ان میں سے ایک چیز نہ ہو تو غیر محصن ہے غیر محصن زانی کی سزا سو کوڑے ہیں۔

۲؎ خیال رہے کہ احناف کے نزدیک ایک سال کا دیس نکالا بطور تعزیر ہے حد صرف سو کوڑے ہیں لہذا یہ حدیث قرآن کریم کی اس آیت کے خلاف نہیں"اَلزَّانِیَۃُ وَ الزَّانِیۡ فَاجْلِدُوۡا کُلَّ وٰحِدٍ مِّنْہُمَا مِائَۃَ جَلْدَۃٍکوڑا کیسا ہو اور کس طرح مارا

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن