30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۹؎ مگر اس کے باوجود بہت تحمل فرمایا کہ نہ اس کے قتل کا حکم دیا نہ اس پر کوئی اور سختی فرمائی ورنہ یہ مرتد لائق قتل تھا کیونکہ حضور اقدس کے کسی فعل کا حقارت کی نظر سے دیکھنا اور آپ پر ظلم کا اتہام لگانا کفر ہے اس کو قتل نہ کرنے کی وجہ آگے آرہی ہے۔
۱۰؎ یہاں بعد بمعنی سواء ہے لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ حضور سے بڑھ کریا حضور کے برابر عادل نہ حضور کے زمانہ میں تھا نہ بعد۔
۱۱؎ حضور کا یہ شاید فرمانا یقین کے لیے ہے جیسے رب تعالٰی فرماتاہے:"لَعَلَّ اللہَ یُحْدِثُ بَعْدَ ذٰلِکَ اَمْرًا"یعنی یہ ان لوگوں کے سرداروں امیروں میں سے ہے۔
۱۲؎ جو لوگ خوارج کو کافر نہیں کہتے صرف گمراہ کہتے ہیں وہ یہاں اسلام کے معنے کرتے ہیں سلطان کی اطاعت مگر یہ ضعیف ہے کیونکہ دوسری روایت میں بجائے اسلام کے دین ارشاد ہوا ہے یعنی وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شرکار سے،اس کی شرح پہلے ہوچکی ہے۔
۱۳؎ خدا کی پناہ ہر جگہ خوارج کی پہچان سر منڈانا ارشاد ہوئی جیساکہ پہلے گزر چکا۔
۱۴؎ اور دنیا میں فساد پھیلاتے ہی رہیں گے یہ کبھی فنا نہ ہوں گے اور ان کی فساد انگیزی ختم نہ ہوگی۔ (مرقات)
۱۵؎ یعنی یہ ہمیشہ مسلمانوں سے لڑتے رہیں گے اور کفارومشرکین کے ساتھی رہیں گے حتی کہ جب دجال نکلے گا تو اس کے ساتھی اس کے حمایتی یہ ہی لوگ ہوں گے،حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی یہ پیش گوئی اب تک ہم آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ وہابیوں کے حملے ہمیشہ مسلمانوں پر ہوئے اور کانگریس کے حمایتی ہندوؤں کے دوست ہمیشہ یہ ہی حضرات رہے،نجدیوں نے مسلمانوں بلکہ صحابہ کرام اہل بیت عظام کی قبور ڈھادیں مگر جواہر لعل نہرو کو رسول السلامۃ کا خطاب دیا،اس کی اور گاندھی کی شان میں عربی کتابیں لکھیں چھاپیں اور حرمین طیبین میں درسًا پڑھائیں۔خبر ملی ہے کہ یوپی میں بریلی میں ایک وہابی صاحب نے ہندوؤں کے لیے مندر تعمیرکرایا ہے جس پر اپنی جیب سے قریبًا اسی۸۰ ہزار روپیہ خرچ کیا ہے،پاکستانی اخبارات نے یہ خبر چھاپی،ان بزرگوں کو شرک سے ظاہری نفرت مگر مشرکوں سے محبت ہے،یہ ہے اس حدیث پاک کا ظہور۔
۱۶؎ فاذا کی خبر یا تو فاعلموا یا فاقتلوا ہے جیساکہ دوسری احادیث میں وارد ہے۔خیال رہے کہ یا تو خلق اور خلیقہ ایک ہی معنے میں ہیں یا خلق سے مراد انسان ہیں اور خلیقہ سے مراد دوسری مخلوق یعنی یہ لوگ تمام مخلوق سے بدترین ہیں،قرآن کریم فرماتا ہے:"اُولٰٓئِکَ ہُمْ شَرُّ الْبَرِیَّۃِ"۔
|
3554 -[22] وَعَن أبي غالبٍ رأى أَبُو أُمامةَ رؤوساً مَنْصُوبَةً عَلَى دَرَجِ دِمَشْقَ فَقَالَ أَبُو أُمَامَةَ: «كِلَابُ النَّارِ شَرُّ قَتْلَى تَحْتَ أَدِيمِ السَّمَاءِ خَيْرُ قَتْلَى مَنْ قَتَلُوهُ» ثُمَّ قَرَأَ (يَوْمَ تبيَضُّ وُجوهٌ وتَسوَدُّ وُجوهٌ)الْآيَةَ قِيلَ لِأَبِي أُمَامَةَ: أَنْتَ سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: لَوْ لَمْ أَسْمَعْهُ إِلَّا مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ أوْ ثَلَاثًا حَتَّى عَدَّ سَبْعًا مَا حَدَّثْتُكُمُوهُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ |
روایت ہے حضرت ابو غالب سے ۱؎ کہ حضرت ابو امامہ نے ۲؎ کچھ سر دمشق کے راستہ پر لٹکے دیکھے ۳؎ تو ابو امامہ نے فرمایا کہ دوزخ کے کتے ہیں ۴؎ آسمان کی وسعت کے نیچے بدتر مقتولین ہیں بہترین مقتول وہ ہیں جس کو یہ قتل کریں ۵؎ پھر پڑھا کچھ منہ اس دن سفید ہوں گے اور کچھ منہ سیاہ،پوری آیت ۶؎ ابوامامہ سے پوچھا گیا آپ نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سے سنا ہے فرمایا اگر میں نے حضور کو ایک بار یا دو بار تین بار حتی کہ سات بار گِنا فرماتے نہ سنا ہوتا تو میں تم سے روایت نہ کرتا ۷؎ (ترمذی،ابن ماجہ)ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن ہے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع