30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسلمان کفار پر شب خون ماریں جس سے وہاں کے بعض مسلمان بھی بے خبری میں مارے جائیں تو کچھ لازم نہ ہوگا،یہاں چونکہ انہوں نے اسلام ظاہر کیا جسے مسلمان سمجھے نہیں اس لیے نصف دیت لازم فرمائی۔
۷؎ یعنی حضور ایسے مسلمانوں سے کیوں بیزار ہیں یا ان لوگوں کی آدھی دیت کیوں واجب فرمائی پوری کیوں نہ واجب کی لم اصل میں لما تھا الف گرادیا گیا۔
۸؎ یہ جملہ نیا ہے جس میں اس فرمان عالی کی وجہ بیان فرمائی گئی ہے یعنی ان مسلمانوں کو چاہیے تھا کہ کفار سے اتنی دور رہتے کہ ایک دوسرے کی آگ روشنی یا دھواں نہ دکھائی دیتا،انہوں نے یہ نہ کیا اس لیے یہ حکم جاری ہوا۔اس لیے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ حتی الامکان مسلمان مشرک کے گھر مہمان ہوکر بھی نہ رہے کہ خطرہ ہے۔دوسرے یہ کہ مسلمان کفار کی سی شکل یا لباس یا وضع قطع اختیار نہ کریں ورنہ لڑائی کے موقعہ پر ممکن ہے کہ مسلمان کے ہی ہاتھ سے مارے جائیں جیساکہ ہندوستان میں بار ہا ہوا کہ قربانی گائے یا محرم کے موقعہ پر جب ہندو مسلم فساد ہوئے تو بہت سے ہندو نما مسلمان خود مسلمانوں کے ہاتھوں مارے گئے۔تیسرے یہ کہ کفار کے ہاتھوں میں مسلمان قیدی جب موقعہ پائے تو بھاگ جائے وہاں ٹھہرے نہیں کہ خطرہ ہے۔(مرقات)
|
3548 -[16] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْإِيمَانُ قَيَّدَ الْفَتْكَ لَا يفتِكُ مُؤمنٌ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا ایمان شب خونی سے آڑ ہے مؤمن اچانک نہیں مارتا ۱؎ (ابوداؤد) |
۱؎ یعنی مسلمان کسی کو بغیر تحقیق کیے اچانک نہیں قتل کرتا اسلام اس سے منع فرماتا ہے پہلے تحقیق کرلے کہ مؤمن ہے یا کافر اور اگر کافر ہے تو ذمی یا مستامن یا حربی،جب پتہ لگ جائے کہ حربی کافر ہے تب اسے قتل کرتا ہے۔خیال رہے کہ اگر پہلے سے کسی کا کافر حربی ہونا معلوم ہو اور اسے قتل کی خبر دینے میں نقصان ہو تو اچانک قتل جائز ہے جیسے کعب ابن اشرف اورابو رافع وغیرہ کا قتل، یہاں نفی بمعنی نہی ہے۔
|
3549 -[17] وَعَنْ جَرِيرٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا أَبَقَ الْعَبْدُ إِلَى الشِّرْكِ فقد حلَّ دَمه» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت جریر سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا جب غلام بھاگ جائے دارالحرب کی طرف تو اس کا خون حلال ہوگیا ۱؎(ابوداؤد) |
۱؎ یعنی اگر مسلمان غلام مرتد نہ بھی ہو مسلمان ہی رہے مگر بھاگ کر دارالحرب پہنچ جائے پھر اسے کوئی قتل کردے تو اس قاتل پر کچھ لازم نہ ہوگا کہ اس قتل میں خود غلام کا قصور ہے۔
|
3550 -[18] وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ يَهُودِيَّةً كَانَتْ تَشْتِمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَقَعُ فِيهِ فَخَنَقَهَا رَجُلٌ حَتَّى مَاتَتْ فَأَبْطَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَمَهَا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت علی سے کہ ایک یہودی عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو گالیاں دیتی اور آپ کی بدگوئی میں مشغول رہتی تھی ۱؎ تو ایک شخص نے اس کا گلا گھونٹ دیا حتی کہ وہ مرگئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کا خون باطل فرمادیا ۲؎(ابوداؤد) |
۱؎ اگرچہ وہ مدینہ منورہ میں ذمیہ ہوکر رہتی تھی مگر پھر بھی یہ حرکت کرتی تھی۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع