30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہے۔خیال رہے کہ اگر کافر کسی مسلمان سے عشری زمین خریدے تو وہ زمین کافر کے پاس پہنچ کر بجائے عشری کے خراجی بن جاتی ہے لیکن زمین ایک بار خراجی بن جائے وہ ہمیشہ خراجی رہتی ہے خواہ کافر کے پاس رہے یا مسلمان کے پاس آجائے۔
۳؎ یہ جملہ پچھلے جملہ کی تفصیل ہے اور یہاں ذلت سے مراد وہ ہی ادائے خراج ہے جو اب اس مسلمان کو ادا کرنا پڑے گا۔غور کرو کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم اپنی امت کی کیسی عزت چاہتے ہیں۔افسوس ہے ان مسلمانوں پر جو آج اندھا دھند عیسائیوں،انگریزوں کی ہر ادا کو پسند کرتے ہیں،ان کے نقال بنتے ہیں،کفار ذلیل ان کی ہر ادا ذلت و خواری ہے ان کا نقال خود انکی ذلت اپنے گلے میں ڈالتا ہے۔
|
3547 -[15] وَعَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً إِلَى خَثْعَمَ فَاعْتَصَمَ نَاسٌ مِنْهُمْ بِالسُّجُودِ فَأَسْرَعَ فِيهِمُ الْقَتْلَ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ لَهُمْ بِنِصْفِ الْعَقْلِ وَقَالَ: «أَنَا بَرِيءٌ مِنْ كُلِّ مُسْلِمٍ مُقِيمٍ بَيْنَ أَظْهُرِ الْمُشْرِكِينَ» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ لِمَ؟ قَالَ: «لَا تَتَرَاءَى نَارَاهُمَا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ |
روایت ہے حضرت جریر ابن عبداللہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک لشکر خثعم کی طرف بھیجا ۱؎ تو ان کے بعض نے سجدہ کے ذریعہ بچنا چاہا ۲؎ ان حضرات نے ان میں قتل تیز کردیا ۳؎ یہ خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی ۴؎ تو حضور نے ان کے لیے آدھی دیت کا حکم دیا ۵؎ اور فرمایا میں ہر اس مسلمان سے بیزار ہوں جو کفار میں رہے سہے ۶؎ لوگوں نے عرض کیا یا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کیوں ؟ ۷؎ فرمایا چاہیے ان دونوں کی آگیں نہ دکھائی دیں ۸؎(ابوداؤد) |
۱؎ خثعم یمن میں ایک پہاڑ کا نام ہے اس پہاڑ کے دامن میں جو لوگ آباد ہیں ان کو خثعمی کہا جاتا ہے،بعض شارحین نے فرمایا کہ خثعم یمن کے ایک قبیلہ کا نام ہے،ہوسکتا ہے کہ اس قبیلہ کا نام بھی خثعم اس لیے پڑا کہ وہ اس پہاڑ کے پاس آباد ہے۔سریہ وہ لشکر کہلاتا ہے جس میں حضور انور خود بنفس نفیس تشریف نہ لے جائیں اس کی تعداد چار سو نفری تک ہوتی ہے۔(اشعہ)
۲؎ یعنی ان خثعمی لوگوں نے چاہا کہ اپنا اسلام ظاہر کریں تو انہوں نے ان مسلمانوں کو دکھاتے ہوئے نماز شروع کردی لہذا سجود سے مراد نماز ہے۔(اشعہ و مرقات) اور ہوسکتا ہے کہ ان لوگوں نے اپنی اطاعت ظاہر کرنے کے لیے ان مسلمانوں کو سجدہ کیا ہو کہ ہم تمہارے ذمی بنتے ہیں تم سے لڑنا نہیں چاہتے۔
۳؎ اس لیے کہ مسلمان سمجھے کہ یہ لوگ اپنی جان بچانے کے لیے ہم کو دھوکہ دیتے ہوئے نماز پڑھنا دکھا رہے ہیں دراصل ہیں کافر۔
۴؎ اس طرح کہ ان غازیوں نے خود جاکر یہ واقعہ عرض کیا۔
۵؎ یہ قتل خطا تھا جس میں قاتل کے عصبات پر مقتول کی پوری دیت لازم ہوتی ہے مگر چونکہ اس خطا میں ان مقتولین کی اپنی غلطی بھی ہے کہ وہ مشرکین و کفار کے ملک میں رہے جس سے نہ تو اپنا اسلام صحیح طور پر ظاہر کرسکے نہ غازی مسلمان انہیں پہچان سکے اسی لیے اس قتل میں انکی غلطی بھی ہے،اس غلطی کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کی دیت آدھی رہ گئی۔اگر کوئی شخص کسی کے سامنے دشمن یعنی چور وغیرہ کی شکل میں آئے اور مارا جائے تو اس کی دیت بالکل واجب نہیں ہوتی،اگر مسلمان جن سانپ کی شکل میں ہو اور کوئی مسلمان آدمی اسے مار دے تو بھی کچھ نہیں۔
۶؎ یہ فرمان عالی اس دیت کے آدھے رہ جانے کی علت ہے۔لفظ اظہر زائد ہے اور مشرکین سے مراد حربی کفار ہیں جن سے مسلمانوں کی جنگ ہوتی رہتی ہے بیزار ہوں یعنی ان کی محبت سے بیزار ہوں یا ان کے خون سے بیزار ہوں۔خیال رہے کہ اگر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع