30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱۱؎ یعنی بہت زیادہ سرمنڈانا اور سرمنڈانے کا عادی ہونا ورنہ حج میں قریبًا سارے حاجی سرمنڈاتے ہیں،بعض بزرگوں کو دیکھا گیا کہ وہ سرمنڈانے کی عادت کو برا سمجھتے ہیں ان کا ماخذ یہ ہی حدیث ہے۔
|
3544 -[12] وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ إِلَّا بِإِحْدَى ثَلَاثٍ زِنا بعدَ إِحْصانٍ فإِنَّهُ يُرجَمُ ورجلٌ خرَجَ مُحارِباً للَّهِ وَرَسُولِهِ فَإِنَّهُ يُقْتَلُ أَوْ يُصْلَبُ أَوْ يُنْفَى مِنَ الْأَرْضِ أَوْ يَقْتُلُ نَفْسًا فَيُقْتَلُ بِهَا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کسی اس مسلمان آدمی کا خون حلال نہیں جو گواہی دیتا ہو کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اور حضور محمد مصطفے اﷲ کے رسول ہیں ۱؎ مگر تین جرموں میں سے ایک کی وجہ سے نکاح کے بعد زنا کہ وہ سنگسار کیا جائے گا ۲؎ اور وہ شخص جو اﷲ و رسول سے جنگ کرنے نکلا۳؎ وہ یا قتل کیا جائے گا یا سولی دیا جائے گا یا زمین سے نکال دیا جائے گا۴؎ یا کسی جان کو قتل کردے تو اس کے عوض قتل کیا جائے ۵؎(ابوداؤد) |
۱؎ اس کلمہ خوانی سے مراد تمام عقائد اسلامیہ کا ماننا ہے جیسے کہا جاتا ہے کہ نماز میں الحمدﷲ پڑھنا واجب ہے یعنی پوری سورۃ ولا الضالین تک پڑھنا واجب ہے ورنہ صرف کلمہ تو قادیانی ،چکڑالوی اور تمام باطل فرقے بھی پڑھتے ہیں۔
۲؎ یہاں احصان کے معنی ہیں آزاد بالغ مسلمان کا صحیح نکاح کے ذریعہ صحبت کرلینا یہ رجم کے لیے شرط ہے لہذا کافر اور نابالغ اور غلام اور کنوارے زانی کو سنگسار نہیں کیا جاسکتا،حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کا بعض یہود کو زنا کی بنا پر سنگسار کرانا ان پر توریت کا حکم جاری فرمانے کے لیے تھا نہ کہ اسلامی حکم کی بنا پر۔
۳؎ اس سے مراد ڈاکو ہیں یا باغی،رب تعالٰی ڈاکوؤں کے متعلق فرماتاہے:"الَّذِیۡنَ یُحَارِبُوۡنَ اللہَ وَرَسُوۡلَہٗ وَیَسْعَوْنَ فِی الۡاَرْضِ فَسَادًا"۔
۴؎ اگر ڈاکو صرف قتل کرے کسی کا مال نہ لے تو قتل کیا جائے گا اور اگر قتل بھی کرے مال بھی لوٹے تو سولی دیا جائے گا اور اگر صرف مال لوٹے قتل نہ کرے تو دیس نکالے کی سزا دی جائے گی یعنی کالا پانی یا آج پاکستان میں کالا باغ۔بعض نے فرمایا کہ اگر ڈاکو قتل و لوٹ نہ کرسکے صرف لوگوں کو ڈراتا دھمکاتا راستہ روکتا پکڑا جائے تو اس کو کسی شہر یا گاؤں میں ٹھہرنے نہ دیا جائے گا یوں ہی آوارہ گرد رکھا جائے گا حتی کہ مرجائے یا صحیح توبہ کرلے،بعض نے فرمایا کہ امام کو ان چاروں سزاؤں کا اختیار ہے ان میں سے جو چاہے دے۔(مرقات واشعہ)
۵؎ یہاں قتل سے مراد قتل عمد ہے کیونکہ قصاص صرف قتل عمد میں ہے قتل خطاء یا قتل شبہ عمد میں قصاص نہیں صرف دیت ہے جیساکہ گزر چکا۔
|
3545 -[13] وَعَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ: حَدَّثَنَا أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ كَانُوا يَسِيرُونَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَامَ رَجُلٌ مِنْهُمْ فَانْطَلَقَ بَعْضُهُمْ إِلَى حَبْلٍ مَعَه فَأَخذه فَفَزعَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يُرَوِّعَ مُسْلِمًا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت ابن ابی لیلی سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ نے خبر دی ۲؎ کہ وہ حضرات رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ جارہے تھے ۳؎ ان میں سے ایک صاحب سو گئے تو ان میں سے بعض صحابی اپنی رسی کی طرف چلے اسے پکڑ لیا جس سے وہ گھبرا گئے ۴؎ تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ کسی مسلمان کے لیے درست نہیں کہ کسی مسلمان کو ڈرائے ۵؎(ابوداؤد) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع