30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ آپ کے حالات بیان ہوچکے ہیں کہ آپ کا نام نقیع ابن حارث ہے، آپ غزوہ طائف میں ایمان لائے،آپ اس غزوہ میں گرفتار ہوگئے تھے حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے آپ کو آزاد فرما دیا۔(مرقات)
۲؎ قتل یا زخمی کرنے کے ارادے سے،پہلے معنی زیادہ قوی ہیں۔ہتھیار سے مراد عام ہتھیار ہے تلوار ہو یا نیزہ یا پستول و بندوق۔خیال رہے کہ احد سے مراد کل واحد ہے یعنی ہر ایک دوسرے کے مقابل ہتھیار اٹھائے۔
۳؎ یعنی دوزخ کے قریب ہوتے ہیں کہ قتل ہوں یا کریں اور دوزخ میں جائیں۔
۴؎ یہ جب ہے جب کہ دونوں باطل پر ہوں اور اگر ان میں سے کوئی حق پر ہو تو باطل والا دوزخی ہے نہ کہ حق والا جیسے ڈاکو یا چور کے مقابلہ میں۔
۵؎ یہ جب ہے جب کہ دونوں ایک دوسرے کے قتل کا ارادہ کریں اگر ان میں سے ایک مدافع ہو کہ دفاعًا دوسرے کو قتل کرے تو حملہ آور دوزخی ہوگا نہ کہ یہ دفاع کرنے والا۔
۶؎ یعنی یہ بھی ارادۂ قتل سے ہی آیا تھا۔اس سے معلوم ہوا کہ ارادۂ گناہ بھی گناہ ہے،ہاں خیال گناہ گناہ نہیں لہذا یہ حدیث دوسری احادیث اور آیات قرآنیہ کے خلاف نہیں،چورچوری کرنے نکلا مگر اتفاقًا نہ کرسکا گنہگارہوگیا،فقہاء فرماتے ہیں کہ ارادۂ کفر بھی کفر ہے۔
۷؎ یہ حدیث ابوداؤدونسائی نے حضرت ابوبکرہ سے اور ابن ماجہ نے حضرت ابو موسیٰ سے روایت کی۔ (مرقات)
|
3539 -[7] (مُتَّفق عَلَيْهِ) وَعَن أَنَسٍ قَالَ: قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفَرٌ مِنْ عُكْلٍ فَأَسْلَمُوا فَاجْتَوَوُا الْمَدِينَةَ فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَأْتُوا إِبِلَ الصَّدَقَةِ فَيَشْرَبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا فَفَعَلُوا فَصَحُّوا فَارْتَدُّوا وَقَتَلُوا رُعَاتَهَا وَاسْتَاقُوا الْإِبِلَ فَبَعَثَ فِي آثَارِهِمْ فَأُتِيَ بِهِمْ فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَسَمَلَ أَعْيُنَهُمْ ثُمَّ لَمْ يَحْسِمْهُمْ حَتَّى مَاتُوا ". وَفِي رِوَايَةٍ: فَسَمَّرُوا أَعْيُنَهُمْ وَفِي رِوَايَةٍ: أَمَرَ بِمَسَامِيرَ فَأُحْمِيَتْ فَكَحَّلَهُمْ بِهَا وَطَرَحَهُمْ بِالْحَرَّةِ يَسْتَسْقُونَ فَمَا يُسْقَوْنَ حَتَّى مَاتُوا |
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں قبیلہ عکل کے کچھ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں آئے ۱؎ مسلمان ہوگئے انہوں نے مدینہ کو ناموافق محسوس کیا ۲؎ تو انہیں حضور نے حکم دیا کہ صدقہ کے اونٹوں میں جائیں ان کے پیشاب اور دودھ پئیں۳؎ انہوں نے یوں ہی کیا تو تندرست ہوگئے پھر مرتد ہوگئے اور ان کے چرواہوں کو قتل کردیا اور اونٹ ہانک لے گئے ۴؎ پھر حضور نے ان کے پیچھے سپاہی بھیجے ۵؎ وہ لوگ لائے گئے پھر ان کے ہاتھ پاؤں کاٹے اور ان کی آنکھیں پھوڑ دی گئیں ۶؎ پھر ان کو نہ داغا حتی کہ وہ مرگئے ۷؎ اور ایک روایت میں ہے پھر ان کی آنکھیں اندھی کردی گئیں ۸؎ اور ایک روایت میں ہے کہ سلائیوں کا حکم دیا وہ گرم کی گئیں پھر وہ ان کی آنکھوں میں پھیر دیں ۹؎ اور انہیں حرہ میں ڈال دیا پانی مانگتے تھے تو نہ پلائے جاتے تھے حتی کہ مرگئے ۱۰؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ نفر تین سے لے کر دس تک کو کہتے ہیں،یہ لوگ آٹھ آدمی تھے۔(مرقات)اشعۃ اللمعات نے فرمایا کہ سات آدمی تھے چار تو قبیلہ عرینہ کے اور تین قبیلہ عکل کے،اسی لیے بعض احادیث میں ہے کہ عرینہ کے تھے،بعض میں ہے کہ عکل کے تھے،یہ دونوں روایات درست ہیں کہ وہ دونوں قبیلوں کے تھے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع