دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

۲؎  خیال رہے کہ خارجی فرقہ حضرت علی کی جماعت سے نکلا تھا نہ کہ امیر معاویہ کی جماعت سے،پھر بینہما فرمانا تعلیقًا ہے،قرآن کریم فرماتاہے:"یَخْرُجُ مِنْہُمَا اللُّؤْلُؤُ وَ الْمَرْجَانُ"حالانکہ موتی صرف کھاری سمندر سے نکلتے ہیں یا بینہما کا مطلب ہے کہ وہ خارجی فرقہ ان دونوں جماعتوں سے الگ ہو گا کسی کے ساتھ نہ ہوگا۔

۳؎ یعنی خارجی فرقہ کو ان دونوں جماعتوں ہی سے وہ قتل کرے گی جو حق پر ہوگی یا حق تعالٰی سے قریب تر ہو گی۔چنانچہ خارجی فرقہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی فوج کے ہاتھوں قتل ہوا یہ لوگ کُل دس ہزار تھے حضرت عبداﷲ ابن عباس کے سمجھانے پر پانچ ہزار نے توبہ کرلی پانچ ہزار ذوالفقار حیدری سے مارے گئے،بہت سے مارے گئے کچھ بچے جو حضر موت اور بحرین میں تتربتر ہوگئے۔اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ حضرت امیرمعاویہ اور علی دونوں مؤمن صالح ہیں کہ ان دونوں کی جماعت کو حضور نے امتی فرمایا۔ دوسرے یہ کہ اس اختلاف میں حضرت علی امام برحق تھے امیر معاویہ کی جماعت باغی تھی۔تیسرے یہ کہ خارجی ان دونوں جماعتوں سے خارج ہیں بددین گمراہ ہیں واجب القتل ہیں،باغی خارجی کا فرق ہماری کتاب امیر معاویہ میں دیکھئے۔

3537 -[5] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ جَرِيرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ: «لَا تَرْجِعُنَّ بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَاب بعض»

روایت ہے حضرت جریر سے ۱؎  فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر ۲؎ کہ میرے بعد کافر ہو کر نہ لوٹ جانا ۳؎ کہ تم سے بعض بعض کی گردنیں مارنے لگیں۔ (مسلم،بخاری)

۱؎ آپ جریر ابن عبداﷲ بجلی ہیں،بہت حسین و جمیل اور خوش اخلاق تھے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات سے چالیس دن پہلے ایمان لائے پھر کوفہ میں رہے پھر قرقسیا بستی آگئے وہاں ہی ۱۵۰ھ؁ میں وفات پائی،آپ سے اکثر محدثین نے احادیث روایت کیں۔

۲؎ دسویں ذی الحجہ کو آپ نے منٰی شریف کے خطبہ میں یہ فرمایا۔(اشعہ)

۳؎ کافر سے مراد ناشکرا باعمل کافر ہے جو کافروں کے سے کام کرے ورنہ مسلمان کو قتل کرنا سخت حرام ہے مگر کفر نہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَ اِنۡ طَآئِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِیۡنَ اقْتَتَلُوۡا"دیکھو قتال کرنے والوں کو مؤمنین فرمایا گیا یہاں مرقات نے کفار کی سات توجیہیں فرمائیں۔

3538 -[6] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا الْتَقَى الْمُسْلِمَانِ حَمَلَ أَحَدُهُمَا عَلَى أَخِيهِ السِّلَاحَ فَهُمَا فِي جُرُفِ جَهَنَّمَ فَإِذَا قَتَلَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ دَخَلَاهَا جَمِيعًا» . وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهُ: قَالَ: «إِذَا الْتَقَى الْمُسْلِمَانِ بسيفهما فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ» قُلْتُ: هَذَا الْقَاتِلُ فَمَا بَالُ الْمَقْتُولِ؟ قَالَ: «إِنَّهُ كَانَ حَرِيصًا عَلَى قَتْلِ صَاحِبِهِ»

روایت ہے حضرت ابوبکرہ سے ۱؎  وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا جب دو مسلمان ملیں کہ ان میں سے ایک اپنے بھائی پر ہتھیار اٹھائے ۲؎ تو وہ دونوں دوزخ کے کنارہ میں ہوتے ہیں۳؎ پھر جب ان میں سے ایک اپنے صاحب کو قتل کردیتا ہے تو وہ دونوں دوزخ میں داخل ہوجاتے ہیں۴؎  انہیں سے دوسری روایت میں ہے فرمایا کہ جب دو مسلمان اپنی تلواروں سے مل پڑتے ہیں تو قاتل و مقتول دوزخ میں جاتے ہیں ۵؎ میں نے عرض کیا یہ تو قاتل ہے تو مقتول کا کیا ہے فرمایا وہ اپنے صاحب کے قتل پر حریص تھا ۶؎(مسلم،بخاری)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن