30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۳؎ یہ حدیث مذہب حنفی کی تائید کرتی ہے کہ احناف کے ہاں اگر کوئی مقتول کسی گلی کوچہ میں پایا جائے جس پر قتل کا اثر ہو جیسے خون یا زخم کاری یا گلا گھونٹنے کے آثار تب اولًا ولی مقتول سے گواہ طلب کیے جائیں گے اگر دو گواہ قتل عمد کے مل گئے تو قاتل پر قصاص لازم ہوگا ورنہ اہل محلہ سے پچاس آدمیوں کی قسم لی جائے گی لیکن اگر اثر قتل نہیں ہے کہ غالبًا وہ شخص خود ہارٹ فیل (Heart fail)سے مرا ہے۔یہاں حضور نے مدعیان سے گواہ مانگے۔اس حدیث کی تائید قرآن کریم سے بھی ہوتی ہے فرماتاہے: "وَاَشْہِدُوۡا ذَوَیۡ عَدْلٍ مِّنۡکُمْ"حدیث متواتر سے بھی حضور فرماتے ہیں البینۃ علی المدعی والیمین علی من انکر،نیز حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے فیصلے بھی اس کی تائید کرتے ہیں جیسا کہ ابن شیبہ وغیرہ نے نقل فرمایا پہلی فصل کی حدیث اگرچہ متفق علیہ ہے مگر حکم قرآنی اور احادیث متواترہ اقوال صحابہ کے خلاف ہے اسی لیے امام ابوحنیفہ نے اس پر عمل نہ فرمایا،اس کی پوری بحث اسی جگہ مرقات میں ملاحظہ فرمایئے۔
۴؎ کیونکہ تمہارے پاس قتل کے گواہ عینی موجود نہیں اگر دو گواہ عینی مل جائیں تو قسامت نہیں ہوتی۔
۵؎ یہ دیت دینا حکم شرعی نہیں بلکہ دفع فتنہ کے لیے ہے آئندہ اگر ایسا واقعہ پیش آئے تو محلہ والوں سے قسم لی جائے گی خواہ مسلمان ہوں یا کافر ذمی۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع