دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

یہ انکار کریں تو مدعیٰ علیہ سے۔ہم کہتے ہیں کہ یہ فتویٰ تھا حکم نہ تھا،نیز یہ حدیث قرآن مجید کے بھی خلاف ہے اور احادیث متواترہ کے بھی لہذا ناقابل عمل ہے،مدعی پر گواہ لازم ہیں قسم نہیں اور گواہ صرف دو چاہئیں ہماری دلیل آگے آرہی ہے۔

۱۱؎  تو بغیر دیکھے ہم کیسے قسم کھالیں کہ فلاں نے قتل کیا ہے۔

۱۲؎ اس طرح کہ یہود خیبر پچاس شخص قسم کھالیں گے کہ نہ ہم قاتل ہیں نہ قاتل کی ہم کو خبر ہے اور دیت سے بچ جائیں گے۔ معلوم ہوا کہ قسامت میں ایک فریق کے انکار قسم پر اس کے خلاف فیصلہ نہ ہوگا بلکہ فریق آخر پر پیش ہوگی بخلاف دیگر مقدمات کے۔

۱۳؎ یعنی یہود کی قسموں کا ہم کو اعتبار نہیں وہ جھوٹی قسمیں کھاسکتے ہیں،اس بنا پر امام مالک فرماتے ہیں کہ مسلمان کے خلاف کافر کی قسم معتبر نہیں کہ قسم گواہی کے قائم مقام ہے جب ان کی ایسی گواہی معتبر نہیں تو قسم کیسے معتبر ہوگی۔

۱۴؎  تاکہ مقتول کا خون ضائع نہ جائے اور فتنہ فرو ہوجائے کیونکہ یہود پر سواء قسم کے اور کوئی شئے واجب نہ ہوسکتی تھی اور مدعیان اس قسم پر راضی نہ تھے اگر حضور صلی اللہ علیہ و سلم دیت نہ عطاء فرمادیتے تو یہ مسلمان نمعلوم کتنے یہود کو قتل کر ڈالتے،ایسے بے مثال عدل کہیں دیکھنے میں نہ آیا کہ ذمی کفار کو بچانے کے لیے اپنی گرہ سے سو اونٹ دے دیئے۔خیال رہے ایسے موقعہ پر کفار کی قسم معتبر ہے کیونکہ وہ قسم مسلمان کے مقابل نہیں بلکہ اپنے سے رفع مقدمہ کے لیے ہے۔

۱۵؎  مدعیان کی یہ قسم عینی نہ ہوگی کیونکہ دو دیکھنے والوں کی گواہی سے قتل ثابت ہوجاتا ہے پھر گواہ پر قسم نہیں ہوتی بلکہ ظن و گمان کی قسم ہوگی کہ گمان غالب ہے کہ فلاں نے قتل کیا ہے۔

۱۶؎  یہ صورۃً فدیہ تھا مگر حقیقتًا عطیہ شاہانہ تھا جس کا مقصد ہم پہلے بیان کرچکے۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

3532 -[2]

عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ: أَصْبَحَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ مَقْتُولًا بِخَيْبَرَ فَانْطَلَقَ أَوْلِيَاؤُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: «أَلَكُمْ شَاهِدَانِ يَشْهَدَانِ عَلَى قَاتِلِ صَاحِبِكُمْ؟» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمْ يَكُنْ ثَمَّ أحدٌ من المسلمينَ وإِنما هُوَ يهود وَقد يجترئون عَلَى أَعْظَمَ مِنْ هَذَا قَالَ: «فَاخْتَارُوا مِنْهُمْ خَمْسِينَ فَاسْتَحْلِفُوهُمْ» . فَأَبَوْا فَوَدَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت نافع ابن خدیج سے فرماتے ہیں کہ ایک انصاری شخص خیبر میں مقتول ہوگئے ۱؎ تو ان کے اولیاء نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں گئے ۲؎ پھر یہ واقعہ حضور سے عرض کیا تو فرمایا کہ کیا تمہارے پاس دو گواہ ہیں جو تمہارے ساتھی کے قتل پر گواہی دیں وہ بولے یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں کوئی مسلمان نہ تھا ۳؎ اور وہ لوگ یہود ہیں جو اس سے بڑے جرم پربھی جرأت کرلیتے ہیں تو فرمایا کہ تم ان میں سے پچاس شخص چن لو پھر ان سے قسم لو ۴؎ ان حضرات نے انکار کیا تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے پاس سے ان کی دیت دے دی ۵؎(ابوداؤد)

۱؎ یہ مقتول وہ ہی عبداﷲ ابن سہل تھے جن کا واقعہ ابھی پہلی فصل میں گزرچکا۔

۲؎  یعنی مقتول کے حقیقی بھائی اور چچازاد جیساکہ ابھی گزرا۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن