30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
3530 -[21] وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لِجَهَنَّمَ سَبْعَةُ أَبْوَابٍ: بَابٌ مِنْهَا لِمَنْ سَلَّ السَّيْفَ عَلَى أُمَّتِي أَوْ قَالَ: عَلَى أُمَّةِ مُحَمَّدٍ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَحَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ: «الرِّجْلُ جُبَارٌ» ذُكِرَ فِي «بَابِ الْغَضَب» |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا دوزخ کے سات دروازے ہیں ۱؎ ان میں سے ایک دروازہ اس کے لیے ہے جو میری امت پر تلوار سونتے ۲؎ یا فرمایا محمدمصطفی کی امت پر(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے اور ابو ہریرہ کی حدیث کہ پاؤں ۳؎ ساقط ہے باب الغصب میں ذکر کی گئی ۴؎ |
۱؎ قرآن کریم فرماتاہے:"لَہَا سَبْعَۃُ اَبْوٰبٍ لِکُلِّ بَابٍ مِّنْہُمْ جُزْءٌ مَّقْسُوۡمٌ"دوزخ کے سات دروازے ہیں ہر دروازے کے لیے مجرموں کی خاص جماعت ہے لہذا یہ جماعت اس قرآنی آیت سے مؤید ہے اور نہایت درست ہے۔
۲؎ یعنی ظلمًا قتل کرنے کے لیے کسی مسلمان پر تلوار اٹھائے اور یہ دروازہ بمقابلہ دوسرے دروازوں کے زیادہ خطرناک ہوگا کہ یہ جرم بھی سخت ہے۔
۳؎ کہ اگر کسی کا گدھا یا گھوڑا کسی کو لات مار کر زخمی یا ہلاک کردے تو گھوڑے گدھے کے مالک پر تاوان نہیں،یوں ہی اگر کسی کی گائے بھینس سینگ مارکر زخمی کردے اس کا بھی یہ ہی حکم ہے اور اگر کسی کا کتا کسی کو کاٹ کر زخمی کردے تو اس کا یہ حکم نہ ہونا چاہیے کیونکہ بلاضرورت کتا پالنا ہی ممنوع ہے اور ایسے ظالم کتے کو آزاد چھوڑنا سخت ہے،ضرورۃً کتا پالا جائے تو اسے باندھ کر رکھے۔ واﷲ ورسولہ اعلم!
۴؎ یعنی مصابیح میں وہ حدیث یہاں تھی مگر ہم نے مناسبت کا خیال کرتے ہوئے یہ حدیث باب الغصب میں بیان کردی۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع