دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

۴؎ اس سے معلوم ہوا کہ گھر کا دروازہ بلاضرورت کھلا رکھنا گناہ ہے یہ جب ہے جب کہ دروازے کے آگے یا پیچھے پردہ کی دیوار نہ ہوکہ اس صورت میں دروازہ کھلا رہنے سے گھر والوں کی بے پردگی ہوتی ہے اس کا بہت خیال چاہیے لوگ اس سے غافل ہیں۔

۵؎ یہ حدیث احمد اور ترمذی نے بھی انہی راوی سے کچھ فرق کے ساتھ نقل فرمائی۔

3527 -[18]

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُتَعَاطَى السَّيْفُ مَسْلُولًا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے منع فرمایا کہ ننگی تلوار لی دی جائے ۱؎(ترمذی، ابوداؤد)

۱؎ یعنی تلوار ایک دوسرے کو میان میں دینا چاہیے،ننگی تلوار کے لین دین میں کسی کو لگ جانے کا خطرہ ہے یہ نہی تنزیہی ہے اور ضرورت کے وقت ننگی تلوار کا لین دین بلاکراہت درست ہے۔(از مرقات)

3528 -[19]

وَعَن الحسنِ عَنْ سَمُرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُقَدَّ السَّيْرُ بَيْنَ أُصبعَينِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت حسن سے وہ حضرت سمرہ سے راوی کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس سے منع فرمایا کہ دو انگلیوں کے درمیان تسمہ کاٹا جائے ۱؎ (ابوداؤد)

۱؎ یعنی جب جوتے کے لیے تسمہ کاٹنا ہو احتیاط سے کاٹو پاؤں یا ہاتھ کی دو انگلیوں میں چمڑا لے کر کاٹنا ممنوع ہے کہ اس میں ہاتھ پاؤں کی گاہی کے کٹ جانے کا اندیشہ ہے۔سبحان اﷲ! کیسے رحیم و کریم نبی ہیں کہ اپنی امت کے بھلے کا ہر وقت خیال رکھتے ہیں،یہ ممانعت بھی تنزیہی ہے اور شفقت کی بنا پر۔(مرقات و اشعہ)

3529 -[20]

وَعَن سعيدِ بنِ زيدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ قُتِلَ دُونَ دِينِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ وَمَنْ قُتِلَ دُونَ دَمِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ وَمَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ وَمَنْ قُتِلَ دُونَ أَهْلِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ

روایت ہے حضرت سعید ابن زید سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا جو اپنے دین کے لیے شہید کیا گیا تو وہ شہید ہے ۱؎ اور جو اپنے خون کے لیے قتل کیا گیا تو وہ شہید ہے اور جو اپنے مال کے لیے قتل کیا گیا وہ شہید ہے اور جو اپنے گھر والوں کے لیے قتل کیا گیا وہ شہید ہے ۲؎(ترمذی،ابوداؤد،نسائی)

۱؎ یعنی کفار نے اس پر یا اس نے کفار پر حملہ کیا اور یہ مارا گیا یا کسی کلمہ گو بے دین سے کسی دینی مسئلہ میں اس سے لڑائی ہوگئی اور یہ مارا گیا تو شہید ہے۔

۲؎ اس طرح کہ کوئی ظالم اسے قتل کرنے یا اس کے گھر والوں کی بے حرمتی کرنے یا اس کا مال چھیننے آیا،یہ شخص اپنی جان،عزت،مال کی حفاظت کے لیے ان کے مقابل ہوا اور مارا گیا تو یہ بھی شہید ہے کہ ظلمًا مارا گیا ہے اور اگر اس نے اس ظالم کو مار ڈالا کیونکہ بغیر قتال اس سے بچنے کی کو ئی صورت نہ تھی تو اس پر اس قتل کی وجہ سے قصاص یا دیت نہیں بلکہ موجودہ حکومتیں ایسی صورت میں بہادری کا انعام دیتی ہیں۔

3530 -[21]

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لِجَهَنَّمَ سَبْعَةُ أَبْوَابٍ: بَابٌ مِنْهَا لِمَنْ سَلَّ السَّيْفَ عَلَى أُمَّتِي أَوْ قَالَ: عَلَى أُمَّةِ مُحَمَّدٍ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَحَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ: «الرِّجْلُ جُبَارٌ» ذُكِرَ فِي «بَابِ الْغَضَب»

روایت ہے حضرت ابن عمر سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا دوزخ کے سات دروازے ہیں ۱؎ ان میں سے ایک دروازہ اس کے لیے ہے جو میری امت پر تلوار سونتے ۲؎ یا فرمایا محمدمصطفی کی امت پر(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے اور ابو ہریرہ کی حدیث کہ پاؤں ۳؎ ساقط ہے باب الغصب میں ذکر کی گئی ۴؎

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن