30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ ابو طیبہ کا نام نافع ہے محیصہ ابن مسعود انصاری کے آزاد کردہ غلام ہیں،صحابی ہیں،مدینہ منورہ میں فصد کھولنے کے بڑے ماہر تھے (اکمال)
۳؎ علماء فرماتے ہیں کہ علاج و فصد ختنہ کے لیے مریض کی جاء مرض اجنبی حکیم بھی دیکھ سکتا ہے۔(مرقاۃ و اشعہ)اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر ایسے علاج کے لیے عورت کا محرم حکیم ہو تو بمقابلہ اجنبی کے اس سے علاج کرانا بہتر ہے یہ بھی معلوم ہوا کہ نابالغ بچہ سے پردہ نہیں۔
|
3104 -[7] وَعَن جرير بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَظَرِ الْفُجَاءَةِ فَأمرنِي أَن أصرف بَصرِي. رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت جریر ابن عبداﷲ سے فرماتے ہیں ۱؎ کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سے اچانک نظر پڑ جانے کے متعلق پوچھا تو حضور نے مجھے نظر پھیرلینے کا حکم دیا ۲؎(مسلم) |
۱؎ یعنی اگر اجنبیہ عورت پر بلا قصد نظر پڑ جائے تو اس میں گناہ کیا ہے اور اس کا کفارہ کیا ہے۔
۲؎ یعنی اس اچانک نظر پڑ جانے میں تو گناہ نہیں مگر فورًا نگاہ ہٹا لو اگر دوبارہ دیکھ لیا یا اسے دیکھتے رہے تو گنہگار ہوں گے کہ اس میں گناہ کا ارادہ پالیا گیا۔اس حدیث کی بنا پر بعض علماء نے فرمایا کہ عورت پر منہ چھپانا واجب نہیں بلکہ مرد پر نگاہ نیچی رکھنا ضروری ہے کیونکہ سرکار نے مرد کو نظر پھیر لینے کا حکم دیا(مرقات)مگر یہ اسدلال ضعیف ہے اگلی حدیث میں آئے گا کہ عورت بھی اجنبی مرد کو نہ دیکھے اگرچہ مرد نا بینا ہو یہاں وہ صورت مراد ہے کہ عورت بے پردہ نہ تھی پھر مرد کی نظر پڑگئی۔
|
3105 -[8] وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْمَرْأَةَ تُقْبِلُ فِي صُورَةِ شَيْطَانٍ وَتُدْبِرُ فِي صُورَةِ شَيْطَانٍ إِذَا أَحَدَكُمْ أَعْجَبَتْهُ الْمَرْأَةُ فَوَقَعَتْ فِي قَلْبِهِ فَلْيَعْمِدْ إِلَى امْرَأَتِهِ فَلْيُوَاقِعْهَا فَإِنَّ ذَلِكَ يَرُدُّ مَا فِي نَفسه» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ عورت شیطان کی شکل میں تو آتی ہے اور شیطان کی صورت ہی میں جاتی ہے ۱؎ جب تم میں سے کسی کو کوئی عورت بھلی معلوم ہو اور اس کے دل میں کچھ وسوسہ پڑ جائے تو اپنی بیوی کی طرف قصد کرے اس سے قصد کرے ۲؎ یقینًا یہ عمل اس کے دل کے وسوسہ کو دفع کرے گا۔(مسلم) |
۱؎ یعنی اجنبی عورت کو آتے ہوئے آگے سے دیکھو یا جاتے ہوئے پیچھے سے دیکھو مرد کے دل میں وسوسے اور برے شہوانی خیال پیدا کرتی ہے جیسے شیطان برے خیال و وسوسے پیدا کرتا ہے لہذا اس سے ایسا ہی ڈرنا چاہیے جیسے شیطان سے ڈرتے ہیں کوئی متقی پرہیزگار اپنے تقویٰ پر پرہیزگاری پر اعتماد نہ کرے اور اجنبی عورتوں سے احتیاط رکھے اس میں اشارہ فرمایا گیا کہ بلا ضرورت عورت گھر سے نہ نکلے اور مرد اجنبی عورت کو کپڑوں پر سے بھی نہ دیکھے کہ فتنہ اندیشہ ہے،نیز عورت کو لازم ہے کہ لباس فاخرہ عمدہ برقعہ اوڑھ کر نہ باہر جائے کہ بھڑک دار برقعہ پردہ نہیں بلکہ زینت ہے۔(نووی و مرقات)
۲؎ یہ عمل حصول تقویٰ اور دفع وسوسے کے لیے اکسیر ہے صحبت کرلینے سے شہوت کا جوش جاتا رہے گا یہ جوش ہی میلان کی وجہ تھی،علماء فرماتے ہیں کہ عورت کو چاہیے کہ خاوند کے بلانے پر بغیر پس و پیش آجائے کوئی مانع نہ ہو کہ بسا اوقات اکثر جوش شہوت بدن و قلب کو بیمار کردیتا ہے۔(مرقات)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع