30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۴؎ نبط یا نبیط بصرہ اور کوفہ کے درمیان ایک پہاڑ کا نام ہے وہاں کے باشندے عمومًا کسان تھے اس لیے اب ہر کسان کو نبطی کہہ دیتے ہیں۔
۵؎ یعنی حاکم نے ان غریبوں کو تیز دھوپ میں کھڑا کرکے ان کے سروں پر گرم تیل ڈالا تھا تاکہ ٹیکس ادا کردیں یا بقیہ ٹیکس دے دیں۔
۶؎ یعنی اب کھولتا پانی،گرم تیل ان سے عذاب دینا حرام ہے کیونکہ یہ عذاب آخرت میں کفار کو رب تعالٰی دے گا کوئی بندہ کسی کو خدا کا عذاب نہ دے۔
۷؎ اس حدیث کو احمد،ابوداؤد،بیہقی نے بھی عیاض ابن حکم سے روایت کیا اور ابوداؤد،ترمذی،حاکم نے حضرت ابن عباس سے روایت فرمایا لا تعذبوا بعذاب اﷲ کسی کو خدا کا عذاب نہ دو۔
|
3523 -[14] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُوشِكُ إِنْ طَالَتْ بك مُدَّة أَن ترى أَقْوَامًا فِي أَيْدِيهِمْ مِثْلُ أَذْنَابِ الْبَقَرِ يَغْدُونَ فِي غَضَبِ اللَّهِ وَيَرُوحُونَ فِي سَخَطِ اللَّهِ» . وَفِي رِوَايَةٍ: «وَيَرُوحُونَ فِي لَعْنَةِ اللَّهِ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ قریب ہے اگر تمہاری عمر دراز ہوئی ۱؎ تم ایسی قوم دیکھو گے جن کے ہاتھوں میں گائے کی دم جیسی چیز ہوگی۲؎ صبح کریں گے اﷲ کے غضب میں اور شام کریں گے اﷲ کے غضب میں۳؎ اور ایک روایت میں ہے کہ شام کریں گے اﷲ کی پھٹکار میں ۴؎(مسلم) |
۱؎ یہ خطاب یا حضرت ابوہریرہ سے ہے یا کسی اور صحابی سے ہے حضرت ابوہریرہ سن رہے تھے۔
۲؎ یعنی چمڑہ کے کوڑے جس سے وہ لوگوں کو ماریں گے مگر ناحق یا حکام کے دروازوں پر یہ کوڑے لیے بیٹھے ہوں گے تاکہ لوگوں کو مار مار کر وہاں سے ہٹائیں،کسی کو فریاد کرنے کے لیے حکام تک نہ پہنچنے دیں گے۔(مرقات)
۳؎ یعنی ہر وقت اﷲ کے غضب میں رہیں گے۔صبح شام وقت کے دو کنارے ہیں ان کناروں کا ذکر فرمایا مراد ہر وقت ہے جیسے آل فرعون کے متعلق قرآن کریم میں ارشاد ہے"اَلنَّارُ یُعْرَضُوۡنَ عَلَیۡہَا غُدُوًّا وَّ عَشِیًّا"ایسا ہی یہاں ہے۔
۴؎ کیونکہ اس قسم کے لوگ دیوانے کتوں کی طرح ہیں جو مخلوق خدا کو ستاتے ہیں لہذا خدا کی لعنت کے مستحق ہوں گے مخلوق کو ستانا رب تعالٰی کی ناراضی کا باعث ہے۔
|
3524 -[15] وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صِنْفَانِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ لَمْ أَرَهُمَا: قَوْمٌ مَعَهُمْ سِيَاطٌ كَأَذْنَابِ الْبَقَرِ يَضْرِبُونَ بِهَا النَّاسَ وَنِسَاءٌ كَاسِيَاتٌ عَارِيَاتٌ مُمِيلَاتٌ مَائِلَاتٌ رؤوسهم كَأَسْنِمَةِ الْبُخْتِ الْمَائِلَةِ لَا يَدْخُلْنَ الْجَنَّةَ وَلَا يَجِدْنَ رِيحَهَا وَإِنَّ رِيحَهَا لَتُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ كَذَا وَكَذَا ". رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ دو قسم کے دوزخی لوگ وہ ہیں جنہیں ہم نے دیکھا نہیں ۱؎ ایک وہ قوم جن کے ساتھ گائے کی دم کی طرح کوڑے ہوں گے ۲؎ جن سے لوگوں کو ماریں گے اور دوسری وہ عورتیں جو پہن کر ننگی ہوں گی ۳؎ مائل کرنے والیاں مائل ہونے والیاں ۴؎ ان کے سر موٹی اونٹنیوں کے کوہانوں کی طرح ہوں گے ۵؎ وہ نہ جنت میں جائیں نہ اس کی ہوا پائیں ۶؎ حالانکہ اس کی ہوا اتنی اتنی مسافت سے محسوس کی جاتی ہے ۷؎(مسلم) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع