30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ یعنی ہماری جماعت سے نہیں یا ہمارے اہل طریقہ و اہل سنت سے نہیں لہذا اس سے کفر مراد نہیں۔
۳؎ ملاوٹ سے مراد ہے یا چیز کا عیب چھپا کر فروخت کردینا یا اصل میں نقل ملا دینا غرضکہ ہر کاروباری دھوکہ مراد ہے۔اور غشنا میں ضمیر متکلم سے مراد سارے مسلمان ہیں اہل عرب یا اہل مدینہ یعنی جس نے مسلمانوں کو یا اہل عرب کو اہل مدینہ کو دھوکہ دیا وہ ہماری جماعت سے نہیں،ترمذی اور احمد نے حضرت عثمان سے روایت کی من غش العرب لم یدخل فی شفاعتی ولم تنلہ مؤدتی جس نے عرب کو دھوکہ دیا وہ میری شفاعت نہ پائے گا اور اسے میری محبت نہ پہنچے گی۔
|
3521 -[12] وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ سَلَّ علينا السَّيفَ فليسَ منَّا» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت سلمہ ابن اکوع سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جو ہم پر تلوار سونتے وہ ہم میں سے نہیں ۲؎(مسلم) |
۱؎ آپ مشہور صحابی ہیں،بیعۃ الرضوان میں شریک ہوئے،آپ کی کنیت ابو مسلم ہے اسلمی مدنی ہیں،بڑے بہادر صحابی ہیں،اسی۸۰ سال عمر ہوئی،۴۷ ہجری میں مدینہ منورہ میں وفات پائی۔
۲؎ یعنی جو شخص کسی مسلمان پر تلوار سونت لے اگرچہ اس کے قتل کا ارادہ نہ بھی کرے تب بھی مسلمانوں کی جماعت سے خارج ہے کیونکہ اس نے مسلمانوں کا سا کام نہ کیا،مسلمان پر ظلمًا ہتھیار اٹھانا بھی حرام ہے۔خیال رہے کہ اس جیسی تمام احادیث میں ظلمًا ہتھیار اٹھانا مراد ہے ورنہ بعض صورتوں میں مسلمان کا قتل واجب ہوجاتاہے جیسے باغی،خارجی،ڈاکو،قاتل،زانی۔
|
3522 -[13] وَعَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ هشامَ بنَ حكيمٍ مَرَّ بِالشَّامِ عَلَى أُنَاسٍ مِنَ الْأَنْبَاطِ وَقَدْ أُقِيموا فِي الشَّمسِ وصُبَّ على رُؤوسِهِمُ الزَّيْتُ فَقَالَ: مَا هَذَا؟ قِيلَ: يُعَذَّبُونَ فِي الخَراجِ فَقَالَ هِشَامٌ: أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ اللَّهَ يُعَذِّبُ الَّذِينَ يُعذبونَ النَّاسَ فِي الدُّنْيَا» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت ہشام ابن عروہ سے ۱؎ وہ اپنے باپ سے راوی ۲؎ کہ ہشام ابن حکیم ۳؎ شام میں کچھ کسان آدمیوں پر گزرے ۴؎ جو دھوپ میں کھڑے کیے گئے تھے اور ان کو سروں پر تیل ڈالا گیا تھا ۵؎ تو آپ نے کہا یہ کیا ہے ؟ کہا گیا یہ لوگ ٹیکس کے بارے میں عذاب دیئے جارہے ہیں تو ہشام نے فرمایا میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ یقینًا اﷲ تعالٰی ان لوگوں کو عذاب دے گا جو لوگوں کو دنیا میں عذاب دیتے ہیں۔۶؎(مسلم)۷؎ |
۱؎ آپ مشہور تابعی ہیں،حضرت حسین کی شہادت کے سال آپ کی ولادت ہے، ۱۴۶ھ میں وفات پائی،حضرت عبداﷲ ابن زبیر اور عبداﷲ ابن عمر رضی اﷲ عنہم سے ملاقات کی ہے۔
۲؎ ان کا نام عروہ ابن زبیر ابن عوام،آپ بھی تابعی ہیں،مدینہ منورہ کے سات فقہاء میں سے آپ بھی ہیں، حضرت اسماء بنت ابوبکر صدیق آپ کی والدہ ہیں حضرت عائشہ صدیقہ کے بھانجے صائم الدھر تھے، ۹۴ھ میں آپ کی وفات ہوئی۔
۳؎ آپ ہشام ابن حکیم ابن حزام قرشی اسدی ہیں،فتح مکہ کے دن ایمان لائے،آپ کے والد حکیم ابن حزام ام المؤمنین خدیجۃ الکبریٰ کے بھتیجہ ہیں،ان کی پیدائش خانہ کعبہ میں ہوئی واقعہ فیل سے تیرہ برس قبل،ایک سو بیس سال کی عمر ہوئی، ۵۴ھ میں وفات پائی،ساٹھ سال کفر میں گزارے اور ساٹھ سال اسلام میں،زمانہ جاہلیت میں آپ نے سو۱۰۰ غلام آزاد کیے۔(مرقات)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع