30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۴؎ ان یصیب میں ان کے بعد لا پوشیدہ ہے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رفاہ عام کی چیزوں میں مسلمانوں کو نفع پہنچانے یا مسلمانوں کو نقصان سے بچانے کی نیت کرے اگرچہ دوسری قومیں بھی فائدہ اٹھالیں لہذا مسافر خانہ،ہسپتال،سایہ دار درخت،کنواں وغیرہ ان سب میں یہ ہی نیت ہونی چاہیے گو ان سے نفع سب اٹھائیں۔
|
3518 -[9] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يُشِيرُ أَحَدُكُمْ عَلَى أَخِيهِ بِالسِّلَاحِ فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي لَعَلَّ الشَّيْطَانَ يَنْزِعُ فِي يَدِهِ فَيَقَعُ فِي حُفْرَة من النَّار» |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ تم میں سے کوئی اپنے بھائی پر ہتھیار سے اشارہ نہ کرے ۱؎ کیا خبر شاید شیطان اس کے ہاتھ میں کھینچے ۲؎ تو یہ آگ کے گڑھے میں گر جائے ۳؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ نہ لڑتے وقت نہ ہنسی دل لگی میں کہ بری چیز کی دل لگی بھی بری ہے۔
۲؎ یعنی ہوسکتا ہے کہ اس کا ارادہ مارنے کا نہ ہو مگر اتفاقًا لگ جائے اور سامنے والا مرجائے ایسے واقعات بہت دیکھے گئے ہیں کہ مذا ق دلی میں پستول کا اشارہ کیا وہ چل گیا اور سامنے والے کو گولی لگی جس سے وہ ہلاک ہوگیا۔خدا کی پناہ!
۳؎ اس طرح کہ یہ اس کا قاتل بن جائے اور دوزخ میں جائے۔معلوم ہواکہ ایسا قتل بھی عذاب نار کا ذریعہ ہے اور ایسے قاتل پر تاوان بھی ہے۔
|
3519 -[10] وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَشَارَ إِلَى أَخِيهِ بِحَدِيدَةٍ فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَلْعَنُهُ حَتَّى يَضَعَهَا وَإِنْ كَانَ أخاهُ لأبيهِ وَأمه» . رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جو اپنے بھائی کی طرف لوہے سے اشارہ کرے ۱؎ تو فرشتے اس پر لعنت کرتے ہیں ۲؎ حتی کہ اسے رکھ دے اگرچہ اس کا سگا بھائی ہو ۳؎ (بخاری) |
۱؎ خواہ ڈرانے دھمکانے کے لیے خواہ مذاق میں۔لوہے سے مراد قتل کا ہر ہتھیار ہےتلوارچھری،آج کل پستول بندوق وغیرہ۔
۲؎ یا تمام فرشتے یا حافظین فرشتے یا کاتبین یا سائرین جو ذکر الٰہی کی تلاش میں زمین پر چکر لگاتے رہتے ہیں۔
۳؎ یعنی ظاہر ہے کہ کوئی اپنے سگے بھائی کو قتل نہیں کرتا تو اس پر ہتھیار اٹھانا یقینًا ڈرانے یا مذاق کے لیے ہوگا مگر یہ بھی لعنت کا باعث ہے یا مطلب یہ ہے کہ سگے بھائی پر ہتھیار اٹھانا لعنت کا باعث ہے تو اجنبی پر ہتھیار اٹھانے کا کیا پوچھنا۔
|
3520 -[11] وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلَاحَ فَلَيْسَ مِنَّا» . رَوَاهُ البُخَارِيّ وزادَ مُسلم: «ومنْ غشَّنا فليسَ منَّا» |
روایت ہے حضرت ابن عمر اور ابوہریرہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں جس نے ہم پر ہتھیار اٹھایا ۱؎ وہ ہم میں سے نہیں ۲؎ (بخاری)اور مسلم نے یہ زیادہ کیا کہ جو ہم سے ملاوٹ کرے وہ ہم میں سے نہیں ۳؎ |
۱؎ ہم سے مراد امت رسو ل اﷲ ہے،یہ حضور کا کرم کریمانہ ہے کہ مسلمانوں میں اپنے کو شامل فرمایا علینا جمع ارشاد فرمارہے ہیں صلی اللہ علیہ وسلم اور ہتھیار اٹھانے سے مراد مطلقًا اٹھانا ہے خواہ ظلمًا قتل کے لیے خواہ مذاق دل لگی کے طور پر۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع