30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۳؎ یعنی اگر مجھے یہ علم ہوتا کہ تو ارادۃً تاک جھانک رہا ہے تو اس سلائی سے تیری آنکھ پھوڑ دیتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ بغیر قصدوارادہ اگر کسی کے گھر نظر پڑ جائے تو گناہ نہیں جیسے گزرتے ہوئے اتفاقًا کسی کے کھلے دروازہ میں نظر پڑ جائے۔(مرقات)
۴؎ یعنی بغیر اجازت کسی کے گھر میں جھانکنا وہاں بلا اجازت داخل ہوجانے کی طرح ہے جیسے وہ ممنوع ہے ایسے ہی یہ ممنوع کہ اس میں گھر والوں کی بے پردگی ہے۔اس عبارت سے معلوم ہورہا ہے کہ یہ فرمان عالی ڈانٹ ڈپٹ جھڑک کے لیے ہے آنکھ پھوڑ دینے کی اجازت کے لیے نہیں کیونکہ کسی کے گھر میں بلا اجازت چلے جانے پر اس کا قتل یا آنکھ پھوڑ دینا جائز نہیں کردیتا،جیسے جان جان کے عوض ہے ایسے ہی آنکھ آنکھ کے عوض"اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَیۡنَ بِالْعَیۡنِ"لہذا مذہب احناف بہت قوی ہے۔
|
3516 -[7] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ أَنَّهُ رَأَى رَجُلًا يَخْذِفُ فَقَالَ: لَا تَخْذِفْ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْخَذْفِ وَقَالَ: «إِنَّهُ لَا يُصَادُ بِهِ صَيْدٌ وَلَا يُنْكَأُ بِهِ عَدُوٌّ وَلَكِنَّهَا قَدْ تَكْسِرُ السِّنَّ وَتَفْقَأُ الْعَيْنَ» |
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن مغفل سے ۱؎ کہ انہوں نے ایک شخص کو کنکر پھینکتے دیکھا۲؎ تو فرمایا کنکر نہ پھینک کیونکہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کنکر پھینکنے سے منع فرمایااور فرمایا کہ نہ تو اس سے شکار ہوتا ہے نہ دشمن زخمی ہوتا ہے ۳؎ لیکن یہ کسی کا دانت توڑ دیتی ہے اور آنکھ پھوڑ دیتی ہے ۴؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ آپ مزنی ہیں،بیعۃ الرضوان میں شریک تھے اولًا مدینہ منورہ میں رہے پھر بصرہ میں خواجہ حسن بصری اور العالیہ وغیرہم نے آپ سے احادیث لیں، ۶۰ھ میں وفات پائی۔
۲؎ یعنی یونہی بطور شغل کنکر وغیرہ پھینکتے دیکھا جیساکہ بعض لڑکوں کی عادت ہے۔
۳؎ یعنی یہ کام عبث بھی اور نقصان دہ بھی اس کا فائدہ کوئی نہیں۔
۴؎ لہذامضر ہے اور مضر چیز سے بچنا ضروری ہے۔
|
3517 -[8] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا مَرَّ أَحَدُكُمْ فِي مَسْجِدِنَا وَفِي سُوقِنَا وَمَعَهُ نَبْلٌ فَلْيُمْسِكْ عَلَى نِصَالِهَا أَنْ يُصِيبَ أَحَدًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ مِنْهَا بِشَيْءٍ» |
روایت ہے حضرت ابو موسیٰ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب تم سے کوئی ہماری مسجد یا ہمارے بازار میں گزرے ۱؎ اور اس کے پاس تیر ہوں۲؎ اس کے پیکان(نوک)کو تھام لے ۳؎ ایسا نہ ہو کہ کسی مسلمان کو اس سے کچھ لگ جائے ۴؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ یعنی مسلمانوں کے بازار یا مسجد سے گزرے جہاں مسلمانوں کا مجمع ہو،مسلمانوں کا ذکر یا تو احترام کے لیے ہے یا کفار حربی کے بازاروں کو نکالنے کے لیے کہ حربی کفار کو زخمی کردینا جائز بلکہ ثواب ہے۔خیال رہے کہ حربی کفار کا اور حکم ہے اور ذمی مستامن کفار کا حکم کچھ اور ہے،یہاں بازارومسجد کا ذکر ہے مگر مراد تمام اجتماعات ہیں جیسے منٰی،عرفات،مزدلفہ،عرس اور میلے وغیرہ۔
۲؎ نبل بمعنی تیر،یہ جمع ہے جس کا واحد کوئی نہیں،سہم کے معنے بھی تیر ہیں جمع سہام۔
۳؎ نصال جمع ہے نصل کی،نصل تیرکی نوک کو کہتے ہیں جس کے نیچے پر ہوتے ہیں یہ نہایت تیز ہوتی ہے یہ ہی شکار وغیرہ کے جسم میں پیوست ہوجاتی ہے،تھام لینے سے مراد ہے اس پر ہاتھ رکھ لینا یا کوئی غلاف وغیرہ چڑھا دینا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع