دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

۴؎ لفظ غرہ کے لغوی معنے ہیں چمک دار چیز پھر ہر اعلیٰ چیز کو غرہ کہا جانے لگا اب غرہ سے مراد انسان ہوتا ہے کیونکہ وہ اشرف المخلوقات ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنۡسٰنَ فِیۡۤ اَحْسَنِ تَقْوِیۡمٍ" یہاں غرہ مبدل منہ ہے اور عبد او امۃ بدل۔

۵؎ امام نووی شارح مسلم نے اور مرقات شرح مشکوۃ نے اس جگہ فرمایا کہ حدیث امۃ پرختم ہوگئی۔لفظ فرس اور بغل کی زیادتی عیسیٰ ابن یونس راوی کیطرف سے ہے یہ زیادتی باطل محض ہے کیونکہ لفظ غرہ صرف انسان پر بولا جاتا ہے گھوڑے خچر وغیرہ کو غرہ نہیں کہتے۔

۶؎  حماد ابن سلمہ علماءبصرہ میں بڑے پائے کے عالم ہیں،حمید طویل کے بھانجہ ہیں،حضرت شعبہ امام مالک ابن مبارک اور وکیع کے استاذ حدیث ہیں، ۱۶۷ھ؁ میں وفات پائی اور خالد واسطی طحان حافظ حدیث بہت متقی پرہیزگار ہیں آپ نے تین باراپنے وزن کی چاندی خیرات کی۔(اشعۃ اللمعات)

۷؎ یہ زیادتی شاذ ہے اور یہ حدیث ضعیف۔(مرقات)

3504 -[19]

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «من تطيب وَلَمْ يُعْلَمْ مِنْهُ طِبٌّ فَهُوَ ضَامِنٌ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ

روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جو علاج کرے اور اس کو علم طب معلوم نہ ہو تو وہ ضامن ہے ۱؎ (ابوداؤد،نسائی)

۱؎ یعنی جوشخص علم طب نہ رکھتا ہو اور یوں ہی کسی کا علاج کرے جس سے مریض ہلاک ہوجائے تو اس کا حکم قتل خطاء کا ہے کہ اس کے وارث عصبات پر دیت خطاء واجب ہوگی قصاص نہ ہوگا کیونکہ اس نے اراداۃً قتل نہ کیا بلکہ مریض کا علاج بھی اس کے کہنے پر کیا۔ فی زمانہ ہرشخص بیمار کو دوا بتاتا ہے اس سے احتیاط چاہیے،اس حدیث سے سبق لازم ہے،علاج میں انسانی جان کی ذمہ داری ہے۔

3505 -[20]

وَعَن عِمْران بن حُصَينٍ: أَنَّ غُلَامًا لِأُنَاسٍ فُقَرَاءَ قَطَعَ أُذُنَ غُلَامٍ لِأُنَاسٍ أَغْنِيَاءَ فَأَتَى أَهْلُهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: إِنَّا أُنَاسٌ فُقَرَاءُ فَلَمْ يَجْعَلْ عَلَيْهِمْ شَيْئًا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ

روایت ہے حضرت عمران ابن حصین سے کہ فقیروں کے ایک غلام ۱؎ نے امیروں کے ایک غلام کا کان کاٹ لیا اس کے والی نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ۲؎ بولے ہم لوگ تو فقیر ہیں تو ان پرحضور نے کچھ نہ مقرر فرمایا ۳؎ (ابوداؤد،نسائی)۴؎

۱؎ یہاں غلام سے مراد یا تو نابالغ آزاد بچہ یا نابالغ مدبر غلام جیساکہ آئندہ معلوم ہوگا یعنی ایک ایسا آزاد بچہ جس کے عصبہ وارث فقیرومساکین تھے دیت نہیں دے سکتے تھے یا ایسا غلام مدبر جس کے مولیٰ وارث فقراء تھے اس نے ایک ایسے لڑکے یا غلام کا کان کاٹ دیا جس کے عصبہ وارث یا مولے امیر تھے اور یہ مقدمہ بارگاہ رسالت میں دائر ہوا۔

۲؎ یعنی مظلوم نے یا اس کے وارثوں نے دعویٰ دائر کردیا،ظالم اور اس کے وارث جواب دعویٰ کے لیے حاضر ہوئے حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے ظالم غلام کے مولیٰ یا ظالم بچہ کے عصبہ وارثو ں پر دیت لازم فرمادی کیونکہ اگرچہ عمدًا کان کاٹا گیا تھا مگر بچہ کا ارادہ کامل نہیں اسی لیے قاتل بچہ پر قصاص نہیں بلکہ اس کے وارث عصبہ پر دیت واجب ہوتی ہے اس عمد کا حکم خطا کا ہے۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن