دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

۳؎ یعنی اسلام خود ایک حلف و معاہدہ ہے کہ ہر مسلمان دوسرے مسلمان مظلوم کی مدد کرے،اسلام نے مشرقی مغربی جنوبی شمالی مسلمانوں کو بھائی بھائی بنا کر ان میں عالمگیر اخوت پیدا فرمادی،اس سے بہتر کون سا حلف ہے اورکون سا معاہدہ ہے،رب تعالٰی فرماتا ہے:"اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوۡنَ اِخْوَۃٌ"۔

۴؎ یعنی اگر معمولی مسلمان کسی کافر کو امان دے دے تو تمام مسلمانوں پر اس کی امان کا احترام لازم ہے کہ پھر اسے نہ قتل کریں نہ لوٹیں۔خیال رہے کہ بحالت جنگ اگر سپہ سالار اعلان کردے کہ بغیر میری اجازت کسی کافر کو امان نہ دی جائے تو پھرکسی سپاہی وغیرہ کو امان دینے کا حق نہیں ورنہ پھر تو کفار نواز مسلمان تمام کفار کو امان دے کر مسلمانوں کو تباہ کرادیں گے۔

۵؎ دوران جنگ اگر لشکر اسلام بحالت جنگ غنیمت حاصل کرے تو اس غنیمت میں اس لشکر کا بھی حصہ ہوگا جو یہاں سے دور ہے کہ وہ ان کی پشت و پناہ تھا،اس کا یہ مطلب نہیں کہ کفار سے چھنا ہوا مالِ غنیمت معمولی مسلمان واپس کرسکتا ہے کہ غنیمت تو تمام غازیوں کی ملک ہوچکی ہے۔

۶؎ یعنی جنگ کرنے والا لشکر جو غنیمت حاصل کرے گا اس میں اس لشکر کا بھی حصہ دے گا جو ان کفار کے ملک میں بیٹھا ہوا ہے اگرچہ جنگ نہ کررہا ہے کیونکہ یہ لشکر ان مجاہدوں کی پشت و پناہ ہے بوقت ضرورت ان کی مدد کرتا،قعدہ کے معنے ہیں بیٹھے ہوئے سپاہی مورچوں میں۔

۷؎ احناف کے نزدیک یہاں کافر سے مراد کافر حربی ہے یعنی حربی کافر کو اگر مسلمان قتل کرآئے یا قتل کرڈالے تو اس پر قصاص نہیں،امام شافعی کےہاں ذمی ومستامن کافر کو قتل کردینے پر بھی مسلمان سے قصاص نہیں لیا جائے گا ان کے ہاں کافر سے مراد مطلقًا کافر ہے مگر امام اعظم کا فرمان قوی ہے،حضور ذمی کفار کے متعلق فرماتے ہیں فدماء ھم کدماءنا ان کے خون ہمارے خون کی طرح ہیں۔

۸؎ امام مالک و احمد کے ہاں کافر ذمی کی دیت مسلمان کی دیت سے آدھی ہے یعنی پچاس اونٹ،امام شافعی کے ہاں تہائی ہے یعنی۳۳-۳/۱ اونٹ مگر امام اعظم کے ہاں پوری دیت ہے سو اونٹ،امام اعظم کی دلیل وہ ہی حدیث ہے فدماءھم کدماءنا۔حضرت ابوبکروعمر و عثمان نے ذمی کی دیت ہزار دینار دلوائی یعنی پوری دیت،حضرت علی نے فرمایا کہ ذمی کفار نے جزیہ اسی لیے دیا کہ ان کا خون ہمارے خون کی مثل ہوجائے۔ دارقطنی نے ابن شہاب سے روایت کی کہ حضرت صدیق و فاروق یہودی عیسائیوں کی دیت مسلم مقتول کے برابر دلواتے تھے،ابوداؤد نے اپنی مراسیل میں ربیعہ ابن عبدالرحمن سے روایت کی کہ حضرت ابوبکروعمر و عثمان نے کفار ذمیوں کی دیت مسلمان کے برابر رکھی،حضرت معاویہ نے اپنی شروع امارت میں یوں ہی کیا پھر بعد میں آپ نے آدھی دیت مقتول کے وارثوں کو دلوائی اور آدھی بیت المال میں داخل فرمائی۔(مرقات و اشعہ)ابن ابی شیبہ نے علقمہ،مجاہد،عطاء،شعبی،نخعی، زہری وغیرہم سے یہ ہی روایت کی کہ ذمی کافر کی دیت مسلم کے برابر ہے،یہ حدیث منسوخ ہے۔(مرقات)

۹؎ اس کی شر ح کتاب الزکوۃ میں گزرچکی کہ عامل نہ تو یہ کرے کہ ایک جگہ بیٹھ جائے اور مال والوں کے جانور وغیرہ وہاں ہی منگاکر ان کی زکوۃ وصول کرے نہ مال والے عامل کی خبر سن کر اپنے مال دور بھیج دیں تاکہ عامل کو زکوۃ وصول کرنے میں دشواری ہو بلکہ مال و جانور اپنی جگہ رہیں عامل وہاں ہی پہنچ کر زکوۃ وصول کرے۔

۱۰؎ یعنی ذمی غلام کی دیت آزاد ذمی یا آزاد مسلمان کی دیت سے آدھی ہے لہذا یہ فرمان امام اعظم کے خلاف نہیں کہ غلام کی دیت آزاد سے آدھی ہوتی ہے اور اگر معاہد سے مراد ذمی آزاد ہے تو اس کے جواب وہ ہی ہیں جو ابھی گزر گئے۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن