30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
3099 -[2] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُبَاشِرُ الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ فَتَنْعَتُهَا لِزَوْجِهَا كَأَنَّهُ ينظر إِلَيْهَا» |
روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے نہ اختلاط کرے کوئی عورت دوسری عورت سے پھر اپنے خاوند سے اس کی تعریف یوں کرے گویا وہ اسے دیکھ رہا ہے ۱؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ یعنی یہ ممنوع ہے کہ عورت اپنے خاوند سے دوسری عورت کے حسن کا تذکرہ کرے یہ بھی فتنہ کا باعث ہے کیونکہ۔شعر
نہ تنہا عشق از دیدار خیزد بسا ایں دولت از گفتار خیزد
بعض اوقات سن کر عشق پیدا ہوجاتا ہے اسی لیے فقہا فرماتے ہیں کہ عشقیہ فحش گانے اور عورتوں کے حسن کے اشعار سننا حرام ہے کہ باعث فتنہ ہے یہ بیماری عمومًا عورتوں میں پائی جاتی ہے کہ دوسری عورتوں کے حسن کا تذکرہ اپنے خاوندوں سے کرتی ہیں سخت جرم ہے۔اس حدیث کی بنا پر بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ حیوان کی بیع سلم جائز ہے کہ بعض بیان مثل عیان کے ہوتے ہیں،ہوسکتا ہے کہ حیوان کے پورے اوصاف بیان کردیئے جائیں جس سے وہ متعین ہوجائے دیکھو سرکار فرماتے ہیں گویا وہ اسے دیکھ رہا ہے مگر ہمارے امام صاحب کے ہاں ممنوع ہے کیونکہ جانوروں کے باطنی اوصاف بیان میں نہیں آسکتے،اور بیع سلم میں پورا علم چاہیے۔
|
3100 -[3] وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَنْظُرُ الرَّجُلُ إِلَى عَوْرَةِ الرَّجُلِ وَلَا الْمَرْأَةُ إِلَى عَوْرَةِ الْمَرْأَةِ وَلَا يُفْضِي الرَّجُلُ إِلَى الرَّجُلِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَلَا تُفْضِي الْمَرْأَةُ إِلَى الْمَرْأَةِ فِي ثوب وَاحِد» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت ابو سعید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے نہ کوئی مرد کسی مرد کا ستر دیکھے نہ عورت کسی عورت کا ستر ۱؎ اور نہ مرد دوسرے مرد سے ایک کپڑے میں اختلاط کرے اور نہ عورت کسی عورت سے ایک کپڑے میں اختلاط کرے ۲؎(مسلم) |
۱؎ ناف سے گھٹنے تک کے اعضاء مطلقًا چھپانا واجب ہیں کہ نہ مرد مرد کے یہ اعضاء دیکھے نہ عورت عورت کے لیکن عورت مرد اجنبی کے لیے سر سے پاؤں تک لائق پردہ ہے اور نماز کے لیے عورت سر سے پاؤں تک جسم ڈھکے سوائے چہرہ کلائیوں تک ہاتھ اور ٹخنے کے نیچے پاؤں کے۔فقہاء فرماتے ہیں کہ بے داڑھی مونچھ کا امرد لڑکا بھی بعض احکام میں عورت کی طرح ہے کہ اس کو دیکھنے سے بھی احتیاط کرے۔(اشعہ)ضر ورتًا شرعیت کے احکام جداگانہ ہیں کہ بچہ جنتے وقت دایہ ستر دیکھتی ہے،یوں ہی بعض صورتوں میں مرد کو ننگا کرنا پڑتا ہے۔محرم مرد اپنی محرمہ عورت کا چہرہ ہاتھ پاؤں سر دیکھ سکتا ہے،خاوند بیوی کا آپس میں کوئی پردہ نہیں،اس سے کسی عضو کا چھپانا واجب نہیں،ہاں شرمگاہ کا دیکھنا بینائی ضعیف کرتا ہے ماں باپ اپنے جوان بیٹے بیٹی کو چوم سکتے ہیں،سونگھ سکتے ہیں یوں ہی جوان لڑکا،لڑکی اپنے ماں باپ کو چوم سکتا ہے دیکھنے و چھونے کے مکمل احکام شامی عالمگیری وغیرہ باب اللمس و النظر میں دیکھئے۔
۲؎ یعنی مرد مرد کے ساتھ یوں ہی عورت عورت کے ساتھ ننگے نہ لیٹیں کہ یہ حرام بھی ہے اور بے غیرتی بھی لہذا دو ننگے مرد ایک چادر اوڑھ کر نہ سوئیں،یوں ہی دو ننگی عورتیں سبحان اﷲ! کیسی پاکیزہ تعلیم ہے۔
|
3101 -[4] وَعَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِلَّا لَا يبتن رَجُلٌ عِنْدَ امْرَأَةٍ ثَيِّبٍ إِلَّا أَنْ يَكُونَ ناكحا أَو ذَا محرم» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے خبردار کوئی مرد کسی شادی شدہ عورت کے پاس رات نہ گزارے ۱؎ مگر یہ کہ اس کا خاوند یا محرم رشتہ دار(مسلم) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع