دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

۱؎ یہاں شبہ العمد یا تو خطا کی صفت کا شفہ ہے کہ الخطا بھی معرفہ ہے اور شبہ العمد بھی معرفہ باالخطا جنس ہے اور شبہ العمد اس کی ایک قسم و نوع یا شبہ العمد لفظ الخطاء کا بدل ہے۔بہرحال مطلب یہ ہی ہے کہ یہاں خطاء سے مراد شبہ عمد ہے اور قتل خطاء اس جگہ مراد ہے۔

۲؎ اس عبارت میں ما یا موصولہ ہے یا موصوفہ اور یہ عبارت خطا اور شبہ عمد دونوں کی تفسیر ہے اِنّ کی خبر نہیں خبر تو آگے آرہی ہے۔خیال رہے کہ احناف کے ہاں قتل کی تین قسمیں ہیں:قتل عمد،قتل شبہ عمد،قتل خطاء۔قتل عمد یہ ہے کہ دھاردار آلہ مار دینے والے اوزار سے باارادۂ قتل حملہ کیا جائے اور اس سے قتل واقع ہو،اس کی سزا قصاص ہے۔شبہ عمد یہ ہے کہ قاتل باارادۂ قتل ایسے اوزار سے حملہ کرے جو قتل کے لیے بنا نہیں اور اس سے قتل کردے جیسے قتل کے ارادے سے زور سے کیل یا لوہے کا قلم آنکھ میں گونپ دے جو دماغ تک پہنچ کر مقتول کا کام تمام کردے یا بہ ارادۂ قتل فوطے پر زور سے گھونسہ یا لکڑی مار دے اور موت واقع ہوجائے،ان دونوں صورتوں کے سواء اور قتل خطاء ہے جیسے بغیر ارادۂ قتل کسی کے قمچی یا گھونسہ مارا اتفاقًا نازک جگہ لگ گیا موت واقع ہوگئی یا جانور کے گولی ماری تھی کسی آدمی کے لگ گئی۔امام مالک کے ہاں قتل کی صرف دو قسمیں ہیں:قتل عمد اور قتل خطاء،وہ شبہ عمد کو نہیں مانتے،وہ اس حدیث سے دلیل پکڑتے ہیں کہ یہاں شبہ عمد کو خطا کی تفسیر بتایا گیا اسے علیٰحدہ قسم نہ مانا گیا،امام صاحب کے ہاں یہاں لاٹھی سے ہر ہلکی لکڑی بھاری لاٹھی مراد ہے۔اور مطلب حدیث کا یہ ہے کہ قتل غیرعمد خواہ شبہ عمد ہو یا قتل خطاء بھاری لاٹھی سے ہو یا پتلی قمچی سے ان میں قصاص نہیں دیت ہے،امام مالک کے ہاں یہاں لاٹھی سے مراد صرف ہلکی لکڑی ہے جس کو عمدًا قتل کے لیے استعمال نہیں کیا جاتا،امام ابوحنیفہ کی دلیل قوی ہے کہ یہاں عصا مطلق ہے۔

۳؎ تمام اماموں کا اس پر اتفاق ہے کہ قتل عمدًا میں مقتول کے وارث دیت پر راضی ہوجائیں اور قصاص چھوڑ دیں تو اس کی دیت مغلظہ(سخت)ہے اور قاتل کے مال سے ادا کی جائے گی مگر قتل شبہ عمد میں دیت مغلظہ (سخت)ہے مگر قاتل کے عصبہ وارث بہ آہستگی ادا کریں گے اورقتل خطاء میں دیت مخففہ(ہلکی)ہے جو قتل کے عصبہ وارث بہ آہستگی دیں گے دیت کا ہلکا یا سخت ہونا اونٹوں کی عمر کے لحاظ سے ہوتا ہے۔چنانچہ امام ابو حنیفہ، امام ابو یوسف،امام احمد کے ہاں دیت غلیظہ یہ ہے کہ انٹوں کی چارقسمیں کی جائیں:پچیس اک سالہ اونٹنیاں،پچیس دو سالہ،پچیس تین سالہ اور پچیس چار سالہ اور دیت خفیفہ میں ان اونٹنیوں کی پانچ قسمیں کردی جائیں:بیس ایک سالہ،بیس دو سالہ اونٹنیاں،بیس ایک سالہ اونٹ نر،بیس تین سالہ،بیس چار سالہ اونٹنیاں،یہ حدیث امام شافعی کی دلیل ہے۔امام صاحب فرماتے ہیں کہ اس حدیث کا تعارض ہے حضرت ابن مسعود اور حضرت سائب ابن یزید کی حدیث سے لہذا یہ حدیث مشکوک ہے،وہ احادیث متیقن،ہم نے یقینی احادیث کو لیا،اس کی تفصیل یہاں مرقات و اشعۃ اللمعات میں اور کتب فقہ میں ملاحظہ کیجئے۔

3491 -[6]

وَرَوَاهُ أَبُو دَاوُد عَنهُ وَابْن مَاجَه وَعَن ابْن عمر. وَفِي «شَرْحِ السُّنَّةِ» لَفْظُ «الْمَصَابِيحِ» عَنِ ابْنِ عم

اور اسے ابوداؤد نے ان ہی سے اور حضرت ابن عمر سے روایت کیا اور شرح سنہ میں مصابیح کے الفاظ حضرت ابن عمر سے مروی ہیں۔

 

3492 -[7]

وَعَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَى أَهْلِ الْيَمَنِ وَكَانَ فِي كِتَابِهِ: «أَنَّ مَنِ اعْتَبَطَ مُؤْمِنًا قَتْلًا فَإِنَّهُ قَوَدُ يَدِهِ إِلَّا أَنْ يَرْضَى أَوْلِيَاءُ الْمَقْتُولِ» وَفِيهِ: «أَنَّ الرَّجُلَ يُقْتَلُ بِالْمَرْأَةِ» وَفِيهِ: «فِي النَّفْسِ الدِّيَةُ مِائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ وَعَلَى أَهْلِ الذَّهَبِ أَلْفُ دِينَارٍ وَفِي الْأَنْفِ إِذَا أُوعِبَ جَدْعُهُ الدِّيَةُ مِائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ وَفِي الْأَسْنَانِ الدِّيَةُ وَفِي الشفتين الدِّيَة وَفِي البيضين الدِّيةُ وَفِي الذَّكرِ الدِّيةُ وَفِي الصُّلبِ الدِّيَةُ وَفِي الْعَيْنَيْنِ الدِّيَةُ وَفِي الرِّجْلِ الْوَاحِدَةِ نِصْفُ الدِّيَةِ وَفِي الْمَأْمُومَةِ ثُلُثُ الدِّيَةِ وَفِي الجائفَةِ ثلث الدِّيَة وَفِي المنقلة خمس عشر مِنَ الْإِبِلِ وَفِي كُلِّ أُصْبُعٍ مِنْ أَصَابِعِ الْيَدِ وَالرِّجْلِ عَشْرٌ مِنَ الْإِبِلِ وَفِي السِّنِّ خَمْسٌ مِنَ الْإِبِلِ» . رَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَالدَّارِمِيُّ وَفِي رِوَايَةِ مَالِكٍ: «وَفِي الْعَيْنِ خَمْسُونَ وَفِي الْيَدِ خَمْسُونَ وَفِي الرِّجْلِ خَمْسُونَ وَفِي الْمُوضِحَةِ خَمْسٌ»

روایت ہے حضرت ابوبکر ابن محمد ابن عمرو ابن حزم سے ۱؎ وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے یمن والوں کو فرمان عالی لکھا اور اس کتاب میں تھا کہ جس نے کسی مسلمان کو بلاقصورقتل کیا ۲؎ یا تو وہ اپنے ہاتھ کے قصاص میں گرفتار ہوگا مگر یہ کہ مقتول کے وارثوں کو راضی کرے۳؎ اور اس میں یہ تھا کہ مرد عورت کے عوض قتل کیا جائے گا۴؎ اور اس میں یہ تھا کہ جان میں دیت ہے سو اونٹ ۵؎ اور سونے والوں پر ہزار دینار ۶؎ اور ناک میں جب پوری کاٹ دی جائے پوری دیت سو اونٹ ہیں ۷؎ اور دانتوں میں دیت ہے ۸؎ اور ہونٹوں میں دیت ہے اور فوطوں میں دیت ہے اور آلہ تناسل میں دیت ہے ۹؎ اور پیٹھ میں دیت ہے ۱۰؎ اور آنکھوں میں دیت ہے ۱۱؎  اور ایک پاؤں میں آدھی دیت ہے ۱۲؎ اور مغز تک پہنچنے والے زخم میں تہائی دیت ہے او رپیٹ میں پہنچنے والے زخم میں تہائی دیت ہے ۱۳؎ اور ہڈی منتقل کردینے والے زخم میں پندرہ اونٹ ہیں۱۴؎  اور ہاتھ پاؤں کی انگلیوں میں سے ہر انگلی میں دس اونٹ ہیں ۱۵؎ اور دانت میں پانچ اونٹ ہیں ۱۶؎ (نسائی،دارمی) اور امام مالک کی روایت میں ہے کہ آنکھ میں پچاس اونٹ ہیں اور ہاتھ میں پچاس اونٹ اور پاؤں میں پچاس اونٹ ۱۷؎ اور ہڈی کھول دینے والے زخم میں پانچ ۱۸؎

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن