30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کی پوری دیت اور بچہ کے عوض غلام قاتل پر لازم ہوتا اور اگر عورت مرکر بچہ ڈالتی تو صرف عورت کی دیت واجب ہوتی بچہ کاکچھ نہیں۔(مرقات)
۳؎ یعنی مجرمہ مارنے والی عورت ادائے غلام سے پہلے مرگئی۔
۴؎ کیونکہ اس عورت کے وارث صرف اس کا خاوند اور لڑکے ہی تھے۔
۵؎ یعنی اس قاتلہ عورت کی میراث اس کے خاوندوبچوں کو ملے گی اور جو اس پر غلام دینا واجب تھا وہ اس کے دوسرے عصبہ وارث دیں گے۔دیت کو عقل اس لیے کہتے ہیں کہ عقل کے معنے ہیں روکنا باندھنا،چونکہ قاتل دیت کے اونٹ مقتول کے دروازے پر باندھتا تھا یا دیت قاتل کو قتل سے روکتی ہے اس لیے اسے دیت کہتے ہیں۔اس جملہ کے مرقات نے اور بھی معنے کیے مگر ہم نے جو عرض کیایہ ظاہر ہے۔واﷲ اعلم و رسولہ!
|
3488 -[3] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْهُ قَالَ: اقْتَتَلَتِ امْرَأَتَانِ مِنْ هُذَيْلٍ فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِحَجَرٍ فَقَتَلَتْهَا وَمَا فِي بَطْنِهَا فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ دِيَةَ جَنِينِهَا غُرَّةٌ: عَبْدٌ أَوْ وَلِيدَةٌ وَقَضَى بِدِيَةِ الْمَرْأَةِ عَلَى عَاقِلَتِهَا وورَّثَها ولدَها وَمن مَعَهم |
روایت ہے ان سے ہی فرماتے ہیں کہ ہذیل کی دو عورتیں لڑیں تو ایک نے دوسری کو پتھر مارا ۱؎ تو اس کو اور اس کے پیٹ کے بچہ کو قتل کردیا تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فیصلہ فرمایا کہ پیٹ کے بچہ کی دیت ایک غلام یا لونڈی ہے اورعورت کی دیت کا فیصلہ اس کے وارثوں پر فرمایا ۲؎ اور دیت کا وارث اس کے بچہ کو اور ساتھیوں کو بنایا ۳؎ |
۱؎ دونوں عورتیں آپس میں سوت تھیں،قبیلہ ہذیل کی تھیں،سوت عورتوں کی دشمنی تو مشہور ہے پتھر بڑا تھا جو قتل کے ارادے سے مارا گیا۔
۲؎ چونکہ جرم دو ہوئے تھے اس لیے اس کی سزائیں بھی دو ہوئیں بچہ کے عوض لونڈی یا غلام خود اس قاتلہ کے مال سے جیساکہ اوپرگزرا اور خود عورت کی دیت قاتلہ عورت کے عصبہ وارثوں پر مقرر فرمائی،یہ حدیث امام اعظم کی دلیل ہے کہ بغیر دھار والے ہتھیار سے قتل کردینے کی صورت میں قتل پر قصاص نہیں ہوتا دیت واجب کی،دیکھو یہاں پتھر سے عورت کو قتل کیا مگر قصاص نہ واجب ہوا۔
۳؎ حق یہ ہے کہ ورثھا کی ضمیر دیت کی طرف ہے اور ولدھا کی ضمیر مقتولہ عورت کی طرف یعنی قاتلہ کے عصبہ وارثوں سے جو دیت دلوائی گئی اس دیت کا وارث مقتولہ کی اولاد اور اس کے دوسرے وارثوں کو قرار دیا گیا،بعض لوگوں نے یہ دونوں ضمیریں قاتلہ عورت کی طرف راجع کیں یہ غلطی ہے کہ اس میں مضاف پوشیدہ ماننا پڑے گا۔معہم سے مراد اس مقتولہ کا خاوند وغیرہ وارثین ہیں،چونکہ ولد اسم جنس ہے اس لیے اس کی طرف ضمیرجمع بھی لوٹ سکتی ہے۔اس پر تو تمام آئمہ کا اتفاق ہے کہ قتل خطا کی دیت قاتل کے عصبہ وارثوں پر ہے،اس میں اختلاف ہے کہ خود قاتل بھی اس دیت میں داخل ہوگا یا نہیں،ہمارے امام اعظم فرماتے ہیں کہ داخل ہوگا بقدر حصہ وہ بھی دے گا،امام شافعی فرماتے ہیں کہ اگر وارثین سے دیت پوری نہ ہوسکے تو قاتل سے بھی حصہ لو ورنہ نہیں،امام احمد کے ہاں قاتل پر مطلقًا نہیں اگر دیت وارث پوری نہ کرسکیں تو بیت المال سے پوری کی جائے۔یہ مسئلہ کہ کس وارث
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع