دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

3483 -[38]

وَعَن جُنْدبٍ قَالَ: حَدَّثَنِي فُلَانٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَجِيءُ الْمَقْتُولُ بِقَاتِلِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَقُولُ: سَلْ هَذَا فِيمَ قَتَلَنِي؟ فَيَقُولُ: قَتَلْتُهُ عَلَى مُلْكِ فُلَانٍ ". قَالَ جُنْدُبٌ: فاتَّقِها. رَوَاهُ النَّسَائِيّ

روایت ہے حضرت جندب سے فرماتے ہیں کہ مجھے فلاں نے خبر دی ۱؎ کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ مقتول اپنے قاتل کو قیامت کے دن لائے گا ۲؎ پھر عرض کرے گا کہ اس سے پوچھ کہ مجھے کس جرم میں اس نے قتل کیا ۳؎ قاتل کہے گا کہ میں نے اسے فلاں کی سلطنت میں قتل کیا تھا ۴؎ جندب نے فرمایا کہ اس سے بہت ڈرو۵؎(نسائی)

۱؎ یعنی کسی خاص صحابی کا نام لیا جو راوی کو یاد نہ رہا مگر اس نام نہ لینے سے حدیث کی صحت پر کوئی اثر نہیں کیونکہ تمام صحابہ عادل ہیں۔(مرقات)

۲؎ بقاتلہ کی ب یا مصاحبت کی ہے یا تعدیہ کی یعنی اپنے قاتل کے ساتھ آئے گا یا قاتل کو لائے گا،اگر قاتل چند ہوں تو سب کو لائے گا۔

۳؎ یعنی اس کا حساب بھی لے اور بعد حساب سزا بھی دے۔

۴؎ جواب کا مقصد یہ ہے کہ خدایا اگرچہ جرمِ قتل تو میں نے کیا مگر میرے اس جرم میں فلاں بادشاہ یا فلاں حاکم کی حکومت کا بھی دخل ہے کیونکہ انہوں نے ملک کا انتظام اچھا نہ کیا جس سے ملک میں قتل و خون عام ہوگئے مجھے بھی اسی بد انتظامی کی وجہ سے قتل کی جرأت ہوئی تو میرے ساتھ انہیں بھی پکڑ چنانچہ وہ بادشاہ و حکام بھی اس قاتل کے ساتھ گرفتار ہوں گے۔اس سے موجودہ حکومتوں کو سبق لینا چاہیےاور ہوسکتا ہے کہ ملك میم کے کسرہ سے ہو یعنی میں نے اسے قتل کیا فلاں شخص کی ملکیت اور اس کے زیر اثر ہونے کی بنا پر کہ میں فلاں کا نوکر یا ماتحت تھا اس نے مجھ سے اسے قتل کرایا اسے بھی پکڑ۔اس سے معلوم ہوا کہ قتل کرنے والا کرانے والا قتل کی رغبت دینے والا سب ماخوذ ہوں گے۔

۵؎ حضرت جندب کسی بادشاہ یا حاکم کو سمجھا رہے ہیں یہ حدیث سنا کر اس سے کہہ رہے ہیں کہ قتل کے معاملہ میں بہت احتیاط کرو کوشش کرو کہ تمہارے زمانہ میں قتل واقع نہ ہو ورنہ اس کا انجام یہ ہے۔

3484 -[39]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«مَنْ أَعَانَ عَلَى قَتْلِ مُؤْمِنٍ شَطْرَ كَلِمَةٍ لَقِيَ اللَّهَ مَكْتُوبٌ بينَ عينيهِ آيسٌ من رَحْمَة الله».رَوَاهُ ابْن مَاجَه

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ نے کہ جوکسی مسلمان کے قتل پر آدھی بات سے بھی مددکرے تو وہ اﷲ تعالٰی سے اس حال میں ملے گا کہ اس کی دونوں آنکھوں کی درمیان لکھا ہوگا اﷲ کی رحمت سے ناامید ۱؎(ابن ماجہ)

۱؎ یعنی جس شخص نے کسی سے اقتل امر کا آدھا کلمہ اُق بھی کہہ دیا اور قاتل نے اس مسلمان کو قتل کردیا تو مرتے وقت یا قبر میں یا قیامت میں اس کی پیشانی پر لکھا ہوگا کہ یہ شخص اﷲ کی رحمت سے مایوس ہے،اس طرح تمام قیامت میں بدنام ہو جائے گا، اگر اس شخص نے حلال جان کر قتل کیا تھا تو یہ لفظ آیس من رحمۃ اﷲ بالکل ظاہر ہے کہ یہ قاتل کافر ہوگیا اور کافر رب تعالٰی کی رحمت سے مایوس،رب تعالٰی فرماتاہے:"اِنَّہٗ لَا یَایۡـَٔسُ مِنۡ رَّوْحِ اللہِ اِلَّا الْقَوْمُ الْکٰفِرُوۡنَ"اور اگر نفسانی وجہ سے مارا تھا تو مایوس سے مراد انہیں رحمت سے مایوس ہے۔خیال رہے کہ حضور کی امت کی قیامت میں ضرور پردہ پوشی ہوگی مگر جو بندہ دنیا میں خود ہی علانیہ گناہ کرتا رہا ہو اس کی پردہ پوشی نہ ہوگی کہ اس نے خود اپنی پردہ دری کی۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن