30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
آزاد کردہ غلام مراد ہے اسے غلام فرمانا پہلے حال کے لحاظ سے ہے۔تیسرے یہ کہ حدیث منسوخ ہے"اَلْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ"سے۔خیال رہے کہ احناف کے نزدیک مولےسے اپنے غلام کا قصاص نہیں لیا جاتا مگر دوسرے کا غلام قتل کردینے سے قصاص لیا جاتا ہے،امام مالک و شافعی رحمۃ اﷲ علیہما کے ہاں اس کا بھی قصاص نہیں،ان کے ہاں آزاد و غلام میں غلام کا قصاص کسی آزاد سے نہیں لیا جاتا اس کی مکمل بحث کتب فقہ میں ہے۔(مرقات،اشعہ،لمعات)
۳؎ اس پر سارے علماءحتی کہ ابراہیم نخعی و سفیان ثوری کا بھی اتفاق ہے کہ غلام کے اعضاء کا قصاص آزاد سے نہیں لیا جاتا لہذا اب حدیث سب کے نزدیک واجب التاویل ہے۔
|
3474 -[29] وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ قَتَلَ مُتَعَمِّدًا دُفِعَ إِلَى أولياءِ المقتولِ فإِنْ شاؤوا قَتَلوا وإِنْ شَاؤوا أَخَذُوا الدِّيَةَ: وَهِيَ ثَلَاثُونَ حِقَّةً وَثَلَاثُونَ جَذَعَةً وَأَرْبَعُونَ خَلِفَةً وَمَا صَالَحُوا عَلَيْهِ فَهُوَ لَهُمْ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا جو دانستہ قتل کرے تو وہ مقتول کے ولیوں پر پیش کیا جائے گا ۱؎ اگر وہ چاہیں تو قتل کریں اور اگر چاہیں تو دیت لے لیں وہ دیت تیس حقہ، تیس جزعہ اور چالیس خلفہ ہیں۲؎ اور جس چیز پر وہ صلح کرلیں وہ انہیں کی ہے۳؎(ترمذی) |
۱؎ ولیوں سے مراد وارث قرابت دار ہیں جو دیت لے سکتے ہیں۔
۲؎ حقہ وہ اونٹنی ہے جو چوتھے سال میں داخل ہوجائے۔جزعہ وہ اونٹنی جو پانچویں سال میں قدم رکھ لے۔خلفہ حاملہ اونٹنی جو اپنے پیچھے بچہ چھوڑنے والی ہو،یہ کل سو اونٹنیاں ہوئیں بمقابلہ اونٹ کے اونٹنی زیادہ قیمتی ہوتی ہے وہ ہی دیت میں دی جائے گی۔
۳؎ یعنی اگر اس دیت کے علاوہ کسی اور شئے میں دونوں فریق کی صلح ہوجائے تو وہ دی جائے،یہ دیت ہر قاتل سے لی جائے گی خواہ باپ اپنے بیٹے کو قتل کردے یا مولے اپنے غلام کو،باپ اور مولے پر قصاص نہیں دیت ہے۔امام شافعی و احمد کے ہاں اس حدیث پرعمل ہے کہ دیت کے تین حصے ہوں گے تیس تیس حقہ و جزعہ اور چالیس خلفہ،مگر ہمارے اور امام مالک کے ہاں دیت کے چار حصے ہوں گے پچیس حقہ پچیس جزعہ، پچیس بنت لبون پچیس بنت مخاض، ہماری دلیل حضرت ابن مسعود کی حدیث موقوف اور ثابت ابن یزید کی حدیث مرفوع ہے جس میں دیت کی یہ ہی تفصیل ہے جو ہم نے عرض کی،ہمارے ہاں یہ حدیث عمرو ابن شعیب صحیح نہیں اس لیے ناقابل عمل ہے۔خیال رہے کہ قتل خطا کی دیت تمام آئمہ کے ہاں قاتل کے عصبہ وارثوں پر واجب ہے خود قاتل پر نہیں۔
|
3475 -[30] وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْمُسْلِمُونَ تَتَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ وَيَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ وَيَرُدُّ عَلَيْهِمْ أَقْصَاهُمْ وَهُمْ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ أَلَا لَا يُقْتَلُ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ وَلَا ذُو عَهْدٍ فِي عَهْدِه» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ 3476 -[31] وَرَوَاهُ ابْن مَاجَه عَن ابْن عَبَّاس |
روایت ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی ۱؎ فرمایا مسلمان کے خون برابر ہیں ۲؎ اور ان کی ذمہ دار ادنی آدمی کرسکتا ہے ۳؎ اور رد کرسکتا ہے دور کا آدمی ۴؎ اور مسلمان اپنے مقابل پر ایک دوسرے کے مددگار ہیں ۵؎ خبردار مسلمان کافر کے عوض قتل نہ کیا جائے ۶؎ اور نہ معاہدہ والا اپنے ذمہ میں ۷؎(ابوداؤد،نسائی،ابن ماجہ بروایت ابن عباس) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع