30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الْقُرْاٰنَ"کیونکہ معلم عمومًا تنخواہ دار مدرسین کو کہا جاتا ہے اور جو لفظ دو معنے رکھتا ہو اچھے اور برے اس کو اﷲ تعالٰی کے لیے استعمال نہیں کرسکتے۔اﷲ تعالٰی کے نام توقیفی ہیں جو نص میں وارد ہوگئے ان ہی سے اسے پکارا جائے۔(مرقات)
|
3472 -[27] وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جدِّهِ عَن سُراقةَ بنِ مالكٍ قَالَ: حَضَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقِيدُ الْأَبَ مِنِ ابْنِهِ وَلَا يُقِيدُ الِابْنَ من أَبِيه. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَضَعفه |
روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے وہ سراقہ ۱؎ ابن مالک سے راوی فرماتے ہیں میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ باپ کا قصاص بیٹے سے لیتے تھے اور بیٹے کا قصاص باپ سے نہ لیتے تھے ۲؎ ترمذی نے اسے ضعیف فرمایا ۳؎ |
۱؎ آپ کا نام سراقہ ابن مالک ابن جعثم ہے،مدلجی کنعانی ہیں،مقام قدید میں رہتے تھے،بڑے شاعر تھے،ان کا واقعہ ہے کہ ہجرت کے دن آپ غار ثور تک بری نیت سے پہنچے تھے اورآپ کے گھوڑے کو زمین نے پکڑ لیا تھا،پھر اس جگہ ایمان بھی لائے امان بھی حاصل کی،آپ ہی سے حضور نے فرمایا تھا کہ میں تمہارے ہاتھ میں کسریٰ پرویز کے کنگن دیکھتا ہوں،آپ کی وفات ۱۲۰ھ میں ہوئی۔شعر
ابن مالک کو دی بشارت تاج اے میرے غیب داں تیرے صدقے
۲؎ یعنی اگر باپ کو بیٹا قتل کردیتا تھا تو حضور صلی اللہ علیہ و سلم اس کا قصاص بیٹے سے لیتے تھے اور اگر اس کے برعکس بیٹے کو باپ قتل کردیتا تو باپ سے قصاص نہ لیتے تھے۔
۳؎ وجہ ضعیف یہ ہے کہ اس کی اسناد میں اضطراب ہے مگر خیال رہے کہ قریبًا تمام اہل علم کا اس حدیث پر عمل ہے کہ باپ سے بیٹے کا قصاص نہیں لیتے اس عمل علماء سے حدیث کا ضعف جاتا رہا،اس کی تحقیق ہماری کتاب جاء الحق حصہ دوم میں ملاحظہ فرمائیں۔
|
3473 -[28] وَعَن الْحسن عَن سَمُرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَتَلَ عَبْدَهُ قَتَلْنَاهُ وَمَنْ جَدَعَ عَبْدَهُ جَدَعْنَاهُ».رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ وَزَادَ النَّسَائِيُّ فِي رِوَايَةٍ أُخْرَى: «وَمن خصى عَبده خصيناه» |
روایت ہے حضرت حسن سے وہ سمرہ سے راوی ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جو اپنے غلام کو قتل کرے ہم اس کو قتل کریں گے ۲؎ اور جو اپنے غلام کے اعضاء کاٹے ہم اس کے اعضاء کاٹیں گے۔(ترمذی،ابوداؤد،ابن ماجہ،دارمی)اور نسائی نے دوسری روایت میں یہ زیادہ کیا کہ جو اپنے غلام کو خصی کرے ہم اسےخصی کرینگے۳؎ |
۱؎ خواجہ حسن بصری تابعی ہیں،اولیائے امت کے سردار اورسمرہ ابن جندب صحابی،آپ بصرہ میں رہے اس لیے خواجہ حسن بصری نے بہت سی روایات آپ سے لیں۔
۲؎ اس حدیث کی بنا پر حضرت ابراہیم نخعی و سفیان ثوری نے فرمایا کہ آقا سے اپنے غلام کا قصاص لیا جائے گا۔(مرقات)باقی تمام آئمہ کا اس پر اتفاق ہے کہ مولیٰ سے غلام کا قصاص نہیں لیا جاتا،وہ حضرات اس حدیث کی تین توجیہیں فرماتے ہیں:ایک یہ کہ یہ حکم ڈرانے دھمکانے کے لیے ہے تاکہ مولٰی اپنے غلام کو قتل کرنے کی ہمت نہ کرے جیسے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا جو شراب پیئے اسے کوڑے مارو،پھر پیئے پھر مارو،پھر پیئے پھر مارو،پھر پیئے پھر مارو ،پھر پیئے تو قتل کردومگر اس کے باوجود حضور کی خدمت اقدس میں چوتھی بار شراب پینے والا لایا گیا تو اسے قتل نہ فرمایا۔معلوم ہوا کہ وہ حکم ڈرانے کے لیے تھا۔دوسرے یہ کہ اس سے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع