دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

۲؎ یعنی اگر باپ اپنے بیٹے کو ظلمًا قتل کردے تو اس کے عوض باپ کو قتل نہ کیا جاوے گا بلکہ اس سے دیت لی جائے گی،ماں،دادا،نانا سب کا یہ ہی حکم ہے۔یہ ہی مذہب ہے امام ابوحنیفہ و امام شافعی و احمد کا،امام مالک کے ہاں سب سے قصاص لیا جاوے گا۔خیال رہے کہ اگر بیٹا باپ کو قتل کردے تو اس سے قصاص لیا جاوے گا۔

3471 -[26]

وَعَن أبي رِمْثَةَ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ أبي فقالَ: «مَنْ هَذَا الَّذِي مَعَكَ؟» قَالَ: ابْنِي أَشْهَدُ بِهِ قَالَ: «أَمَا إِنَّهُ لَا يَجْنِي عَلَيْكَ وَلَا تَجْنِي عَلَيْهِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَزَادَ فِي «شَرْحِ السُّنَّةِ» فِي أَوَّلِهِ قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ أَبِي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَى أَبِي الَّذِي بِظَهْرِ رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم فَقَالَ: دَعْنِي أُعَالِجُ الَّذِي بِظَهْرِكِ فَإِنِّي طَبِيبٌ. فَقَالَ: «أَنْتَ رفيقٌ واللَّهُ الطبيبُ»

روایت ہے حضرت ابو رمثہ سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں اپنے والد کے ساتھ آیا تو فرمایا یہ جو تمہارے ساتھ ہے کون ہے ؟ عرض کیا حضور گواہ رہیں کہ یہ میرا بیٹا ہے۲؎ فرمایا آگاہ رہو کہ نہ وہ تم پر جرم کرے گا نہ تم اس پر۳؎ (ابوداؤد،نسائی)اور شرح سنہ میں اس کے اول میں یہ زیادہ فرمایا انہوں نے کہا میں اپنے باپ کے ساتھ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو میرے باپ نے وہ چیز دیکھی جو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی پیٹھ میں تھی۴؎ عرض کیا مجھے اجازت دیجئے کہ میں آپ کی پیٹھ والی چیز کا علاج کردوں کہ میں طبیب ہوں تو فرمایا کہ تم رفیق ہو اﷲ طبیب ہے ۵؎

۱؎ آپ کا نام رفاعہ ابن یثربی تمیمی ہے،آپ امرؤ القیس کی اولاد سے ہیں۔

۲؎ یا اشہد صیغہ مخاطب امر ہے یعنی حضور گواہ رہیں یا اشہد متکلم مضارع ہے یعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ میری پشت سے ہے۔انکا مقصد یہ تھا کہ میں اور یہ چونکہ باپ بیٹے ہیں اس لیے میرے جرم کا یہ ذمہ دار ہوگا اور اس کے جرم کا میں ذمہ دار جیساکہ زمانہ جاہلیت میں مروج تھا اس لیے حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے وہ فرمایا جو آگے مذکور ہے۔

۳؎ یعنی تمہارے جرم میں وہ نہ پکڑا جائے گا اور اس کے جرم میں تم نہ پکڑے جاؤ گے،اس کا قصاص تم سے اور تمہارا قصاص اس سے نہ لیا جائے گا یا کل قیامت میں تمہارے گناہ میں وہ نہ پکڑا جائے گا اور اس کے گناہ میں تم گرفتار نہ ہو گے اپنی کرنی اپنی بھرنی ہوگی۔خیال رہے کہ بچہ کے گناہ پر باپ کی پکڑ جب ہوگی جب باپ نے بچہ کی تربیت میں کوتاہی کرکے اسے مجرم بنایا ہو لہذا یہ حدیث دوسری احادیث کے خلاف نہیں۔

۴؎  مہر نبوت جو پشت پر دو کاندھوں کے درمیان پیدائش شریف سے ہی قدرتی طورپر انڈے کے برابر تھی ابھرا ہوا گوشت تھا یہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی دلیل تھی، یہ حضرت سمجھے کہ کوئی پھوڑا وغیرہ ہے عارضی بیماری اس لیے وہ عرض کیاجس کا ذکر آگے آرہا ہے۔

۵؎ یعنی یہ چیز قابل علاج نہیں بلکہ تم قابل علاج ہوکہ اس قسم کی گفتگو کررہے ہو اپنے کو شافی الامراض سمجھتے اور کہتے ہو،شافی امراض اﷲ تعالٰی ہے۔خیال رہے کہ یہاں طبیب بمعنی شافی مطلق ہے نہ کہ فن طب سیکھا ہوا لہذا اﷲتعالٰی کو طبیب کہنا شرعًا درست نہیں کہ یہ لفظ طبابت کا پیشہ کرنے والوں پر بھی بولا جاتا ہے جیسے اﷲ تعالٰی کو معلم نہیں کہہ سکتے اگرچہ وہ خود فرماتاہے:"عَلَّمَ

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن