30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ یعنی قتل ناحق کی نحوست سے انسان توفیق خیر سے محروم رہ جاتا ہے۔بلح بلوحًا کے معنے ہیں تھک جانا،محروم رہ جانا،حیران ہوجانا یہ حیرانی دنیا میں تو اس طرح ہوگی کہ اس کے دل کو اطمینان،نیکیوں کی توفیق میسر نہ ہوگی اور خدشہ ہے کہ جوابات قبر میں حیرانی رہ جائے اور ہوسکتا ہے کہ قیامت کے حساب میں حیران و سرگرداں رہے،غرضکہ خون ناحق دنیا و آخرت کا وبال ہے۔خیال رہے کہ ظلمًا قتل کرنا،قتل کرانا،قتل میں مدد دینا،بعد قتل قاتل کی حمایت کرنا سب ہی اس سزا کے مستحق ہیں۔مرقات میں ایک حدیث نقل فرمائی کہ فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جس نے قتل ناحق میں آدھی بات سے مدد دی وہ کل قیامت میں اٹھے گا تو اس کی پیشانی پر لکھا ہوگا آیسٌ من رحمۃ اﷲ یہ اﷲ کی رحمت سے مایوس ہے۔
|
3468 -[23] وَعَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «كُلُّ ذَنْبٍ عَسَى اللَّهُ أَنْ يَغْفِرَهُ إِلَّا مَنْ مَاتَ مُشْرِكًا أَوْ مَنْ يقتُلُ مُؤمنا مُتَعَمدا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد 3469 -[24]وَرَوَاهُ النَّسَائِيّ عَن مُعَاوِيَة |
روایت ہے انہی سے وہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی کہ فرمایا ممکن ہے اﷲ تعالٰی سارے گناہ بخش دے ۱؎ سوائے اس کے کہ جو مشرک مرے یا جو دانستہ مؤمن کو قتل کرے ۲؎(ابوداؤد)
اور نسائی نے حضرت معاویہ سے ذکر کی۔ |
۱؎ ہر گناہ سے مراد شرک و کفر کے علاوہ گناہ ہیں کیونکہ وہ دونوں لائق بخشش نہیں۔معلوم ہوا کہ حقوق العباد بھی لائق بخشش ہیں کہ رب تعالٰی صاحب حق سے معاف کرادے مگر قتل ناحق لائق بخشش نہیں اسکی ضرور سزا ملے گی الا برحمۃ اﷲ۔
۲؎ قتل مؤمن سے مراد ظلمًا قتل ہے عمدًا قتل کی قید اس لیے لگائی کہ خطاء اور شبہ عمد قتل کا یہ حکم نہیں اسی لیے ان دونوں قتلوں میں قصاص نہیں۔اس حدیث کی بنا پر بعض لوگوں نے گناہ کبیرہ کرنے والے کو کافر مانا ہے اور بعض نے کہا کہ وہ کافر تو نہیں مگر مؤمن بھی نہیں بلکہ فاسق ہے یعنی نہ مؤمن نہ کافر،بعض نے فرمایا کہ وہ ہے تو مؤمن مگر دوزخ میں ہمیشہ رہے گا،مگر مذہب اہل سنت یہ ہے کہ گناہ کبیرہ کرنے والا مؤمن ہی ہے اور اس کی نجات ضروری ہے۔اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جو کوئی کسی مسلمان کو ناحق قتل کرے قتل کو حلال جان کر یا اس لیے قتل کرے کہ وہ مؤمن کیوں ہوا وہ دوزخی دائمی ہے لائق بخشش نہیں کہ اب یہ قاتل کافر ہوگیا اور کافر کی بخشش نہیں،یا یہ فرمان ڈرانے دھمکانے کے لیے ہے کہ یہ جرم اسی لائق تھا کہ اس کا مرتکب ہمیشہ دوزخ میں رہتا ہے اور اس کا گناہ بخشا نہ جاتا اگر یہ توجیہیں نہ کی جائیں تو یہ حدیث بہت آیات و احادیث کے خلاف ہوگی۔حضور فرماتے ہیں میری شفاعت میری امت کے گناہ کبیرہ والوں کے لیے بھی ہوگی،رب تعالٰی فرماتاہے اﷲ تعالٰی شرک نہ بخشے گا اس کے سواء جسے چاہے گا بخش دے گا۔
|
3470 -[25] وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُقَامُ الْحُدُودُ فِي الْمَسَاجِدِ وَلَا يُقَادُ بِالْوَلَدِ الْوَالِدُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ والدارمي |
روایت ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ مسجدوں میں اﷲ کی حدیں قائم نہ کی جائیں ۱؎ اور بیٹے کی وجہ سے باپ سے قصاص نہ لیا جائے ۲؎ (ترمذی،دارمی) |
۱؎ یعنی مسجد میں مجرموں کے فیصلے تو کرو مگر مسجدوں میں سزائیں نہ دو کہ اس میں مسجدوں کی بے حرمتی ہے کہ سزاؤں میں خون وغیرہ بھی نکلتا ہے جس سے مسجد خراب ہوگی،مسجدیں نماز،ذکر،درس وغیرہ کے لیے ہیں یہ کام ان کے خلاف ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع