30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۶؎ اس میں انس ابن نضر کی تعریف ہے کہ تم اﷲ تعالٰی کے ایسے مقبول بندے ہو کہ رب تعالٰی پر قسم کھا جاؤ تو رب تعالٰی تمہاری قسم پوری فرمادے،دیکھو تم نے قسم کھالی تھی رب تعالٰی نے پوری کردی اور ممکن ہے کہ دیت قبول کرلینے والوں کی تعریف ہو کہ یہ لوگ ایسے نیک ہیں اور انہوں نے اس وقت ایسا نیک کام کیا ہے کہ اگر یہ آئندہ رب تعالٰی پر قسم کھالیں تو رب تعالٰی ان کی قسم پوری فرمادے گا۔اس سے معلوم ہوا کہ قصاص میں شفاعت اور سفارش کرنا بہتر ہے اور عورت سے بھی قصاص لیا جائے گا اور اگر دانت پورا توڑ دیا جائے تو اس میں قصاص ہے۔دانت کا ٹکڑا توڑ دینے میں آئمہ کا اختلاف ہے،ہڈی توڑ دینے کے قصاص میں بہت تفصیل ہے اگر دیکھنا ہو تو کتب فقہ کا مطالعہ کرو۔
|
3461 -[16] وَعَن أبي جُحيفةَ قَالَ: سَأَلْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ لَيْسَ فِي الْقُرْآنِ؟ فَقَالَ: وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ وَبَرَأَ النَّسَمَةَ مَا عِنْدَنَا إِلَّا مَا فِي الْقُرْآنِ إِلَّا فَهْمًا يُعْطَى رَجُلٌ فِي كِتَابِهِ وَمَا فِي الصَّحِيفَةِ قُلْتُ: وَمَا فِي الصَّحِيفَةِ؟ قَالَ: الْعَقْلُ وَفِكَاكُ الْأَسِيرِ وَأَنْ لَا يُقْتَلَ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَذَكَرَ حَدِيثَ ابْنِ مَسْعُودٍ: «لَا تُقْتَلُ نَفْسٌ ظُلْمًا» فِي «كتاب الْعلم» |
روایت ہے حضرت ابوجحیفہ سے ۱؎ فرماتے ہیں میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا تمہارے پاس کوئی ایسی چیز ہے جو قرآن میں نہیں ۲؎ تو فرمایا اس کی قسم جس نے دانہ چیرا اور جان پیدا کی ہمارے پاس کچھ نہیں سوائے اس کے جو قرآن میں ہے۳؎ سوائے اس سمجھ کے جو کسی شخص کو دی جائے کتاب اﷲ میں۴؎ اور وہ جو اس صحیفہ میں ہے ۵؎ میں نے پوچھا کہ صحیفہ میں کیا ہے فرمایا دیت اور قیدی کو چھوڑانا۶؎ اور یہ کہ مسلمان کافر کے عوض نہ قتل کیا جائے ۷؎(بخار ی)اور حضرت ابن مسعود کی حدیث لا تقتل نفس ظلمًا،الخ کتاب العلم میں ذکر کردی گئی ۸؎ |
۱؎ آپ کا نام وہب ابن عبداﷲ ہے،عامری ہیں،حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی زیارت کی ہے مگر بہت بچپن میں،حضور کے وصال شریف کے وقت بہت کمسن تھے،کوفہ میں قیام رہا،حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت میں آپ کی طرف سے افسر مال رہے،وہاں ہی ۷۴ھ میں وفات پائی،حضرت علی کے ساتھ تمام جنگوں میں شریک ہوئے آپ سے بہت روایات ہیں۔
۲؎ زمانہ حیدری میں روافض پیدا ہوچکے تھے انہوں نے مشہور کررکھا تھا کہ حضرت علی کہ پاس قرآن کریم کے علاوہ اور صحیفے اور خصوصی اسرار الہیہ ہیں جوکسی کے پاس نہیں اس لیے اکثر لوگ جناب علی مرتضیٰ سے ایسے سوالات کرتے تھے۔عندکم میں خطاب تمام اہل بیت رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سے ہے جن کے امیر حضرت علی ہیں۔(مرقات)یعنی آپ کے یا آپ کے خاندان والوں کے پاس کوئی خصوصی چیز ہے جو عام مسلمانوں کو نہ دی گئی ہو۔
۳؎ مافی القرآن میں حدیث شریف بھی داخل ہے کیونکہ حدیث شریف قرآن مجید کی شرح اور اس کی تفسیر ہے۔
۴؎ یعنی رب تعالٰی نے مجھے قرآن مجید کی سچی اچھی فہم عطا فرمائی ہے جس سے میں ایسے قرآنی نکات نکال لیتا ہوں جو تم کو معلوم نہیں ہوتے۔اس فرمان عالی سے اجتہاد استنباط اور فقہ کا ثبوت ہوا کہ فہم قرآن اﷲ کی بڑی نعمت ہے۔
۵؎ یعنی ہاں ان اوراق میں کچھ شرعی احکام ہیں جو شاید تمہارے پاس نہ ہوں،یہ کوئی خاص اسرار نہیں جوکسی کو بتائے نہ جائیں۔
۶؎ یعنی اس صحیفہ اور اوراق میں قتل خطاء وغیرہ کی دیت و خون بہا کے کچھ احکام ہیں کہ کس جرم کی دیت کتنی ہے اور یہ حکم ہے کہ جہاں تک ہو سکے مسلمان قیدیوں کو آزاد کرو،مقروضوں کی امداد کرو،مکاتبین کا بدل کتابت ادا کرو کہ یہ سب قیدی چھوڑانے کی صورتیں ہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع