30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۴؎ اس سے چند مسئلے ثابت ہوئے:ایک یہ کہ بھاری چیز سے مار ڈالنے پر قصاص ہے،قصاص کے لیے صرف دھار دار آلہ سے مارنا شرط نہیں،یہ ہی قول ہے امام مالک و شافعی کا اور ہمارے آئمہ میں سے صاحبین کا مگر امام اعظم کے ہاں اس میں قصاص نہیں، قصاص تلوار،چاقو،نیزہ وغیرہ سے قتل کرنے میں ہے۔امام صاحب اس کے متعلق فرماتے ہیں کہ حضور کا یہ عمل شریف سیاسۃً یعنی ملکی انتظام کے لیے بطور تعزیر تھا قصاص نہ تھا اب بھی حاکم تعزیرًا یہ کرسکتا ہے۔دوسرے یہ کہ قصاص میں نوعیت قتل کا لحاظ رکھا جائے کہ جس طرح قاتل قتل کرے اسی طرح حاکم اس کو قتل کرکے قصاص لے،یہ بھی قول امام شافعی کا ہے،امام اعظم کے ہاں قاتل کو صرف تلوار سے قتل کیا جائے گا اس نے کسی طرح قتل کیا ہو،ورنہ جو شخص چھوٹی بچی کو زنا کرکے قتل کردے وہاں مساوات قتل کیوں کر ہوگی،یہ قتل قصاصًا نہ تھا بلکہ سیاسۃً تھا اس لیے نوعیت قتل میں برابری کی گئی۔خیال رہے کہ امام مالک کے ہاں صرف مقتول کے قول پر ہی قصاص لینا جائز ہے جمہور علماء کے ہاں نہیں،یہ حدیث جمہور علماء کی دلیل ہے۔تیسرے یہ کہ عورت کا قصاص مرد سے لیا جائے گا۔
|
3460 -[15] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْهُ قَالَ: كَسَرَتِ الرُّبَيِّعُ وَهِيَ عَمَّةُ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ثَنِيَّةَ جَارِيَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَأَتَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِالْقِصَاصِ فَقَالَ أَنَسُ بْنُ النَّضْرِ عَمُّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ لَا وَاللَّهِ لَا تُكْسَرُ ثَنِيَّتُهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَنَسُ كِتَابُ اللَّهِ الْقِصَاصُ» فَرَضِيَ الْقَوْمُ وَقَبِلُوا الْأَرْشَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ مَنْ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى الله لَأَبَره» |
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں کہ ربیع نے جو انس ابن مالک کی پھوپھی ہیں ۱؎ ایک انصاری عورت کا دانت توڑ دیا ۲؎ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں آئی حضور نے قصاص کا حکم دیا تو انس ابن نضر جو انس ابن مالک کے چچا ہیں عرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم اس کا دانت واﷲ نہ توڑا جائے گا۳؎ تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اے انس اﷲ کی تحریر قصاص ہے ۴؎ پھر قوم راضی ہوگئی اور دیت قبول کرلی ۵؎ تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اﷲ کے بندوں میں وہ ہیں کہ اگر اﷲ پر قسم کھالیں تو اﷲ تعالٰی ان کی قسم پوری کرے ۶؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ آپ ربیع ر کے پیش ب کے کسرہ ی کے شدوکسرہ سے بنت نضر انصاریہ ہیں،حارثہ بنت سراقہ کی والدہ صحابیہ ہیں،انس ابن مالک ابن نضر کی پھوپھی،مالک ابن نضر کی بہن۔
۲؎ ثنیہ وہ دانت ہے جو رباعی دانتوں اور کیلوں کے درمیان ہے اس کی جمع ثنایا آتی ہے۔
۳؎ یعنی رب کی قسم مجھے اﷲ تعالٰی کے کرم سے امید قوی ہے کہ وہ اس لڑکی اور اس کے وارثوں کو دیت لینے پر راضی کردے گا ان کے دل میں رحم ڈال دے گا اور میری بہن ربیع قصاص سے بچ جائے گی،اس میں حضور کے فرمان کا انکار نہیں ورنہ کفر لازم آتا ہے اور ان پر سختی کی جاتی۔
۴؎ یعنی حکم شرعی تو یہ ہی ہے کہ قصاص لیا جائے کہ دانت کے عوض دانت توڑا جائے وہ لڑکی معاف کردے اور اس کے عزیز راضی ہوجائیں ان کی خوشی،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَالْجُرُوۡحَ قِصَاصٌ" اور فرماتاہے: "السِّنَّ بِالسِّنِّ"۔
۵؎ یہاں مرقات نے فرمایا کہ اﷲ تعالٰی اپنے مقبول بندوں کی قسم پوری کردیتا ہے ان بزرگوں نے قسم کھا کر کہا تھا کہ ربیع کے دانت نہ توڑے جائیں گے رب تعالٰی نے ان کی قسم پوری فرمادی اور دیت پر صلح کرادی،یہ ہے لو اقسم علی اﷲ لابرہ کا ظہور۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع