دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

۳؎ چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے اس مقتول کی دیت اپنے پاس سے دی تاکہ ان دو قبیلوں میں فتنہ نہ ہو۔خیال رہے کہ دیت یعنی خون بہا کو عربی میں عقل کہتے ہیں،عقل کے معنے ہیں روکنا،چونکہ یہ قتل کو روکنے والی چیز ہے لہذا عقل کہلاتی ہے اسی لیے رسّی کو عقال کہتے ہیں کہ وہ جانور کو بھاگنے سے روکتی ہے اور دانش و سمجھ کو عقل کہتے ہیں کہ وہ انسان کو بری باتوں سے روکتی ہے۔

۴؎ یعنی مقتول کے وارثوں کو یہ اختیار ملیں گے۔خیال رہے کہ یہ اختیار عمدًا قتل میں ہیں خطاء یا شبہ عمد قتل میں ان وارثوں کو قصاص لینے کا حق نہیں صرف دیت ہی لے سکتے ہیں۔

۵؎ اس حدیث کی بنا پر امام شافعی و احمد و اسحاق نے فرمایا کہ قصاص کی طرح دیت کا اختیار بھی مقتول کے ورثاء کو ہے قاتل کو انکار کرنے کا حق نہیں مگر امام ابوحنیفہ و امام مالک فرماتے ہیں کہ دیت میں قتل کی رضا ضروری ہے اگر وہ قبول کرے تو دیت دے قبول نہ کرے تو قصاص دے،یہ ہی قول امام حسن و نخعی کا ہے،یہ حدیث امام اعظم کے خلاف نہیں۔خیال رہے کہ اگر مقتول کے وارثوں میں سے ایک بھی دیت لینے پر راضی ہوجائے تو باقی وارثوں کو قصاص لینے کا حق نہیں رہتا اسی لیے فقہاء فرماتے ہیں کہ اگر ان وارثوں میں کوئی غائب یا نابالغ ہو تو قصاص واجب نہیں جب تک کہ غائب آ نہ جائے اور بچہ بالغ نہ ہوجائے،ان وارثوں میں مرد عورت سب یکساں برابر کے مستحق ہیں۔

۶؎ یعنی صاحب مصابیح نے اپنی کتاب شرح سنہ میں بروایت شافعی یہ حدیث نقل فرمائی۔

۷؎  یہ صاحب مصابیح  پر اعتراض ہے   کہ باوجود یہ کہ خود  انہوں نے اپنے کتاب شرح سنہ میں  صاف بیان فرمایا کہ یہ حدیث مسلم و بخاری کی نہیں مگر پھربھی اسے مصابیح نے فصل اول میں بیان کردیا حالانکہ پہلی فصل میں مسلم یا بخاری کی روایت آنی چاہیے۔

3458 -[13]

وَأَخْرَجَاهُ مِنْ رِوَايَةِ أَبِي هُرَيْرَةَ يَعْنِي بِمَعْنَاهُ

اور فرمایا کہ مسلم،بخاری نے بروایت ابوہریرہ اس کی یعنی اس کے معنے کی روایت کی ۱؎

۱؎  یہ عبارت اس اعتراض کی تکمیل ہے کہ یہ حدیث یہاں فصل اول میں نہ آ نی چاہیے۔

3459 -[14] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَنَسٍ: أَنَّ يَهُودِيًّا رَضَّ رَأْسَ جَارِيَةٍ بَيْنَ حَجَرَيْنِ فَقِيلَ لَهَا: مَنْ فَعَلَ بِكِ هَذَا؟ أَفُلَانٌ؟ حَتَّى سُمِّيَ الْيَهُودِيُّ فَأَوْمَأَتْ بِرَأْسِهَا فَجِيءَ بِالْيَهُودِيِّ فَاعْتَرَفَ فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُضَّ رَأْسُهُ بِالْحِجَارَةِ

روایت ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے کہ ایک یہودی نے ایک لڑکی کا سر دو پتھروں کے درمیان کچل دیا ۱؎ تو اس سے کہا گیا کہ تیرے ساتھ یہ حرکت کس نے کی کیا فلاں نے کی یا فلاں نے حتی کہ اس یہودی کا نام لیا گیا تو اس نے سر سے اشارہ کردیا ۲؎ پھر یہودی کو لایا گیا اس نے اقرار کرلیا ۳؎ تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے حکم دیا تو اس کا سر پتھروں سے کچل دیا گیا۴؎ (مسلم، بخاری)

۱؎ رض کے معنے ہیں دلنا یا کچلنا اسی لیے دال کو رضاض اور دلیہ کو رضیض کہا جاتا ہے کہ دال تو دلی جاتی ہے دلیہ کچلا جاتا ہے۔

۲؎ اشارۃً ہاں کا اقرار کیا۔معلوم ہوا کہ لڑکی کے ہوش قائم تھے زبان بند ہوچکی تھی،اب بھی قریب الموت زخمی سے پولیس آخری بیان لیتی ہے اس کا ماخذ یہ ہے۔

۳؎ اس اقرار کرانے سے معلوم ہوا کہ صرف مریض کے الزام سے قصاص نہ ہوگا اس کے لیے یا دو گواہ ہوں یا ملزم کا اقرار اگر یہودی اس وقت انکار کرتا تو اس سے قسم لی جاتی۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن