30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۴؎ اس جملہ کا مطلب بھی وہ ہی ہے جو ابھی عرض کیا گیا کہ وہ شخص چھری گھونپتا رہے گا اور اس سے جو تکلیف اسے دنیا میں ہوئی تھی برابر ہوتی رہے گی مگر جان نہ نکلے گی۔خلود کے وہ ہی معنے ہیں جو ابھی عرض کیے گئے۔خیال رہے کہ ڈاکو،باغی پر نماز جنازہ نہ پڑھی جائے گی،خودکشی کرنے والے پر امام ابوحنیفہ و محمد کے نزدیک نماز جنازہ نہیں،امام ابویوسف کے ہاں پڑھی جائے،شہید پر نماز جنازہ ہمارے ہاں ہے،امام شافعی کے ہاں نہیں،وہ کہتے ہیں اس کے سارے گناہ شہادت سے معاف ہوگئے پھر نماز جنازہ کی کیا ضرورت ہے،ہم کہتے ہیں کہ نماز جنازہ معافی گناہ کے لیے نہیں ہوتی ورنہ چھوٹے بچوں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم پر نہ ہوتی بلکہ یہ اظہار شرافت کے لیے ہوتی ہے،شہید اس کا زیادہ مستحق ہے۔
|
3454 -[9] وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الَّذِي يَخْنُقُ نَفْسَهُ يَخْنُقُهَا فِي النَّارِ وَالَّذِي يَطْعَنُهَا يَطْعَنُهَا فِي النَّارِ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جو اپنا گلا گھونٹ لے ۱؎ تو وہ آگ میں گلا گھونٹتا رہے گا اور جو اپنے کو نیزہ مارے تو وہ آگ میں نیزہ مارتا رہے گا۲؎ (بخاری) |
۱؎ خواہ ہاتھ سے گلا گھونٹے یا پھانسی لگا کر مرجائے یا کسی سے اپنا گلا گھنٹوا لے یا اپنے کو دوسرے سے پھانسی لگوالے سب کا یہ ہی حکم ہے۔خیال رہے کہ پھانسی کے مجرم کا اپنے کو حاکم کے سامنے پھانسی کے لیے پیش کردینا اور اقرار قتل کرکے پھانسی پر چڑھ جانا اس میں داخل نہیں،بعض صحابہ کرام نے بارگاہِ اقدس میں زنا کا اقرار کرکے اپنے کو رجم کے لیے پیش فرمادیا اور ان کا یہ عمل بہترین توبہ میں شمار ہوا،بعض مردان خدا نے پھانسی کے وقت پھانسی کے پھندے کو چوما ہے کہ یہ پھندا توبہ کی قبولیت کا ذریعہ ہے،عشق کے کام نیارے۔
۲؎ خیال رہے کہ جو شخص شرعًا قتل کا مستحق ہو مگر مروجہ قانون اسے قتل نہیں کرتا تو وہ شخص خود اپنے کو قتل ہرگز نہ کرے اگر کرے گا تو اس سزا کا مستحق ہوگا کیونکہ سزائے قتل میں حاکم کا فیصلہ ضروری ہے جیسے زنا کی سزا رجم یعنی سنگسار کرنا ہے مگر موجودہ قانون یہ سزا جاری نہیں کرتا تو کوئی زانی اپنے کو قتل نہ کرے،زبانی توبہ صدقہ وغیرہ کرے،اگر قتل کرلے گا تو خودکشی کی حرام موت مرے گا کہ یہ سزا نہیں خودکشی ہے۔
|
3455 -[10] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ جُنْدُبِ بْنِ عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ رَجُلٌ بِهِ جُرْحٌ فجزِعَ فأخذَ سكيّناً فحزَّ بِهَا يَدَهُ فَمَا رَقَأَ الدَّمُ حَتَّى مَاتَ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: بَادَرَنِي عَبْدِي بِنَفْسِهِ فَحَرَّمْتُ عَلَيْهِ الْجنَّة " |
روایت ہے حضرت جندب ابن عبداﷲ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے تم سے پہلے والی امتوں میں ایک شخص تھا جسے زخم تھا وہ گھبرا گیا اس نے چھری لی اس سے اپنا ہاتھ کاٹ لیا ۱؎ پھر اس کا خون نہ تھما حتی کہ مرگیا اﷲ تعالٰی نے فرمایا کہ میرے بندے نے مجھ پر ۲؎ جلدی کی میں نے اس پرجنت حرام کردی ۳؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ حز ح مہملہ سے بھی ہے اور جیم معجمہ سے بھی ہے دونوں کے معنے ہیں کاٹ لینا،اس نے اپنی نبض پر شگاف دے لیا جس سے سارا خون نچڑ گیا وہ ہلاک ہوگیا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع