30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
3452 -[7] وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَتَلَ مُعَاهِدًا لَمْ يَرَحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ وَإِنَّ رِيحَهَا تُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ أربعينَ خَرِيفًا» . رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمرو سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جوکسی عہد و پیمان والے کو قتل کردے ۱؎ وہ جنت کی خوشبو نہ پائے گا۲؎ حالانکہ اس کی خوشبو چالیس سال کی راہ سے محسوس کی جاتی ہے۳؎(بخاری) |
۱؎ عہدوپیمان والے کافر سے مراد یا ذمی کفار ہیں مسلمان کی رعایا اور مستامن جو کچھ مدت کے لیے امان لے ہمارے ملک میں آئیں اور معاہد جن سے ہماری صلح ہو ان میں سے کسی کو بلاوجہ قتل کرنادرست نہیں،ہاں اگر وہ کوئی ایسی حرکت کریں جس سے ان کا قتل درست ہوجائے تو قتل کئے جائیں۔
۲؎ یعنی اگرچہ وہ اپنے مسلمان ہونے کی وجہ سے جنت پہنچ تو جائے گا مگر وہاں کی مہک و خوشبو کما حقہ نہ سونگھ سکے گا اس کو اس جرم میں گویا زکام کرادیا جائے گا۔(مرقات)یا اولًا جنت میں نہ جائے گا اگرچہ آخر میں پہنچ جائے۔
۳؎ چونکہ اہل عرب موسم خریف سے سال شروع کرتے تھے اسی لیے سال کو خریف کہتے تھے۔اس سے معلوم ہوا کہ ان شاء اﷲ جنت کی خوشبو میدان قیامت میں پہنچے گی مسلمان اس خوشبو سے لطف اندوز ہوں گے۔ (اشعہ)
|
3453 -[8] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ تَرَدَّى مِنْ جَبَلٍ فَقَتَلَ نَفْسَهُ فَهُوَ فِي نَارِ جَهَنَّمَ يَتَرَدَّى فِيهَا خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا وَمَنْ تَحَسَّى سُمًّا فَقَتَلَ نَفْسَهُ فَسُمُّهُ فِي يَدِهِ يَتَحَسَّاهُ فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِحَدِيدَةٍ فَحَدِيدَتُهُ فِي يَدِهِ يَتَوَجَّأُ بِهَا فِي بَطْنِهِ فِي نَارِ جهنَّمَ خَالِدامخلَّداًفِيهَا أبدا» |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے جو پہاڑ سے چھلانگ لگاکر اپنےآپ کو ہلاک کرلے ۱؎ تو وہ دوزخ کی آگ میں چھلانگ لگاتا رہے گا اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہے گا ۲؎ اور جو زہر پی کر اپنےآپ کو ہلاک کرے تو اس کا زہر اس کے ہاتھ میں ہوگا جسے وہ دوزخ کی آگ میں ہمیشہ ہمیشہ پیتا رہے گا۳؎ اور جو اپنےآپ کو لوہے سے ہلاک کرے تو اس کا لوہا اس کے ہاتھ میں ہوگا جسے وہ دوزخ کی آگ میں ہمیشہ ہمیشہ اپنے پیٹ میں گھونپتا رہے گا ۴؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ تردّی کے لغوی معنے ہیں اپنے کو ہلاکت کے لیے پیش کرنا،اب اصطلاح میں مرنے کے لیے کودنے چھلانگ لگانے کو تردی کہا جاتا ہے یہاں یہ ہی معنے مراد ہیں۔
۲؎ یا تو خلود کے معنے ہیں بہت دراز ٹھہرنا،ابدًا اس درازی کی تاکید کے لیے ہے یا اس سے وہ شخص مراد ہے جو یہ کام حلال سمجھ کر کرے کہ اب وہ کافر ہوگیا،یا یہ مطلب ہے کہ اس طرح خودکشی کرنے والا اس ہمیشگی عذاب کا مستحق ہے اگرچہ اﷲ تعالٰی اسے ایمان کی برکت سے رحم فرما کر دوزخ سے نکال دے گا لہذا یہ حدیث ان آیات و احادیث کے خلاف نہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ مؤمن کتنا ہی گنہگار ہو آخر کار جنت میں پہنچے گا۔
۳؎ معلوم ہوا کہ جیسے دوزخ میں کھولتا پانی،سانپ بچھو کے زہر عذاب کے لیے مہیا کیے گئے ہیں یوں ہی علیٰحدہ زہربھی وہاں موجود ہے،زہر سے خودکشی کرنے والا ہمیشہ زہر کھاتا پیتا رہے گا اور اسے زہر چڑھنے کی تکلیف ہوتی رہے گی مگر جان نہ نکلے گی۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع