دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

۲؎ یعنی بحالت جہاد میراکسی کافر سے مقابلہ ہوجائے وہ موقعہ پاکر میرا ہاتھ کاٹ ڈالے پھر واقعہ در پیش آئے جو آگے مذکور ہے۔

۳؎ یعنی وہ مسلمان ہوگیا اور مجھے اس کے اسلام کی خبر ہوگئی اس کا کلمہ سن کر۔

۴؎ یعنی نہ تو اسے قتل کرو کہ اب وہ مسلمان ہوگیا اور نہ اپنے ہاتھ کے عوض اس کا ہاتھ کاٹو کیونکہ اگر کافر حربی بحالت قتال مسلمان کو قتل یا زخمی کردے پھرمسلمان ہوجائے تو اسلام لانے کے بعد زمانہ کفر کے جرم کا قصاص نہیں ہوتا،رب تعالٰی فرماتاہے:"اِلَّا مَنۡ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ صٰلِحًا"بہرحال یہ قاعدہ کلیہ ہے۔

۵؎ یعنی کفر کی وجہ سے نہ سہی اس کے ظلم کی وجہ سے مجھے اجازت دیجئے کہ اس سے بدلہ لے لوں،کلمہ پڑھنے سے کفر ختم ہوگیا ظلم تو اس کے سر پر سوار ہے۔

۶؎ کیونکہ اس کے کلمہ پڑھ لینے کی وجہ سے اس کے سارے گناہ معاف ہوچکے جو کفر کے زمانہ میں کئے  یہ بحالت جنگ جو قتل و زخم کیا وہ بھی معاف ہوگیا۔خیال رہے کہ کافر کے مؤمن ہوجانے پر زمانہ کفر کے گناہ تو معاف ہوگئے مگر حقوق اور سزائیں معاف نہ ہوئیں لہذا اسے زمانہ کفر کا قرض ادا کرنا ہوگا اور اس زمانہ کی چوری کی وجہ سے ہاتھ کاٹا جائے گا بحالت قتال قتل و زخم کا بدلہ نہ لیا جائے گا یہ فرق خیال میں رہے۔

۷؎ یعنی جیسے وہ کافر کفر کی وجہ سے مباح الدم مستحق قتل تھا ویسے ہی اب تم اس قتل کی وجہ سے مستحق قتل ہوجاؤ گے حکم یکساں ہے وجہ حکم میں فرق ہے کیونکہ وہ مسلمان ہوکر معصوم الدم ہوگیا اورجو ایسے شخص کو قتل کردے اسے قتل کیا جاتا ہے اور جیسے تم پہلے محفوظ الدم تھے ایسے ہی اب وہ محفوظ الدم ہوگیا،یا یہ مطلب ہے کہ اب اس قتل کی وجہ سے تم مستحق عذاب ہوگئے اور وہ کلمہ پڑھ لینے کی وجہ سے مستحق رحمت ہوگیا،اس کا مطلب یہ نہیں کہ تم کافر ہوگئے جیساکہ خوارج کا عقیدہ ہے کہ گناہ کبیرہ کا مرتکب کافرہوجاتاہے وہ اسی حدیث سے استدلال کرتے ہیں مگر یہ استدلال ضعیف ہے۔

3450 -[5] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أُنَاسٍ مِنْ جُهَيْنَةَ فَأَتَيْتُ عَلَى رَجُلٍ مِنْهُمْ فَذَهَبْتُ أَطْعَنُهُ فَقَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَطَعَنْتُهُ فَقَتَلْتُهُ فَجِئْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ: «أقَتلتَه وقدْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ؟» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا فَعَلَ ذَلِكَ تَعَوُّذًا قَالَ: «فهَلاَّ شقَقتَ عَن قلبه؟»

روایت ہے حضرت اسامہ ابن زید سے فرماتے ہیں ہم کو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے جہینہ کے کچھ لوگوں کی طرف بھیجا ۱؎ تو میں ان میں سے ایک شخص کے سر پر پہنچا اسے نیزہ مارنے لگا تو اس نے کہہ دیا لا الہ الا اﷲ مگر میں نے اس کے نیزہ مارکر قتل کردیا ۲؎ پھر میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ کو اس واقعہ کی خبر دی۳؎ فرمایا کیا تم نے اسےقتل کردیا حالانکہ وہ گواہی دے چکا تھا لا الہ الا اﷲ کی میں نے کہا یارسول اﷲ اس نے بچنے کے لیے کہا۴؎ فرمایا تم نے اس کا دل کیوں نہ چیرلیا ۵؎(مسلم،بخاری)

۱؎ یعنی قبیلہ جہینہ کے کفار سے جہاد کرنے کو لشکر اسلام بھیجا جس میں میں بھی تھا،حضرت اسامہ حضور علیہ السلام کے بہت محبوب صحابی ہیں۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن