30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حرام کی نماز کی نذر مانی ہو تو جہاں پڑھ لےدرست ہے۔(مرقات)اشعۃ اللمعات میں فرمایا کہ امام اعظم کے نزدیک بھی یہ درست نہیں نذر یا مساوی میں ادا ہوگی یا اعلیٰ میں۔
۳؎ یعنی ہم نے تم کو وہ بات بتائی تھی جو اعلیٰ بھی تھی اور آسان بھی لیکن تم کو اپنی بات پر اصرار ہے تو جاؤ وہاں ہی یعنی بیت المقدس میں ہی پڑھ کر آؤ۔معلوم ہوا کہ وہ حضور کا مشورہ تھا حکم نہ تھا اور اگر حکم تھا تو استحبابی اسی لیے اس کے نہ ماننے کا اختیار تھا۔
|
3441 -[16] وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ أُخْتَ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ مَاشِيَة وَأَنَّهَا لَا تطِيق ذَلِكَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ لَغَنِيٌّ عَنْ مَشْيِ أُخْتِكَ فَلْتَرْكَبْ وَلْتُهْدِ بَدَنَةً» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ وَفِي رِوَايَةٍ لِأَبِي دَاوُدَ: فَأَمَرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَرْكَبَ وَتُهْدِيَ هَدْيًا وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ لَا يَصْنَعُ بِشَقَاءِ أُخْتِكَ شَيْئًا فَلْتَرْكَبْ ولتحج وتكفر يَمِينهَا» |
روایت ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنھما سے کہ عقبہ ابن عامر کی بہن نے نذر مانی کہ پیدل حج کریں ۱؎ اور وہ اس کی طاقت نہ رکھتی تھیں تو فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اﷲ تعالٰی تمہاری بہن کے پیدل چلنے سے بے نیاز ہے وہ سوار ہوجائیں اور ایک ہدی لے جائیں۲؎ (ابو داؤد،دارمی)اور ابو داؤد کی روایت میں ہے کہ انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ سوار ہوجائیں اور ہد ی لے جائیں۳؎ اور ان کی ایک روایت میں ہے کہ فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اﷲ تعالٰی تمہاری بہن کی اس مشقت سے کچھ نہ کرے گا۴؎ وہ سوار ہوجائیں،حج کرلیں اور اپنی قسم کا کفارہ دیں ۵؎ |
۱؎ اس طرح کہ مدینہ منورہ سے مکہ معظمہ پیدل جاکر حج کریں۔
۲؎ امام شافعی کے ہاں بدنہ صرف اونٹ کو کہتے ہیں،امام اعظم کے ہاں بدنہ میں اونٹ و گائے بکری سب شامل ہیں یعنی ڈیل دار جانور۔
۳؎ بعض علماء فرماتے ہیں کہ یہ ہدی کا حکم استحبابی ہے اس صورت میں اس پر کفارہ قسم یا کفارہ نذر واجب ہے مگر حضرت علی فرماتے ہیں کہ اس صورت میں ہدی واجب ہے۔
۴؎ شقاء بمعنی مشقت ہے سعادت کا مقابل نہیں یعنی اس کے معنے بدبختی کم نصیبی نہیں۔مطلب یہ ہے کہ تمہاری بہن کی اس مشقت سے رب تعالٰی خوش نہیں۔
۵؎ کفارہ سے مراد کفارہ قباحۃ حج ہے ہدی یا اس کے قائم مقام دس روزے لہذا یہ عبارت گزشتہ عبارت کے خلاف نہیں مگرچونکہ یہ کفارہ اس نذر کی بنا پر واجب ہوا لہذا اسے نذرکی طرف منسوب فرمادیا گیا۔(مرقات)
|
3442 -[17] وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ عُقْبَةَ بن عَامر سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أُخْتٍ لَهُ نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ حَافِيَةً غَيْرَ مُخْتَمِرَةٍ فَقَالَ: «مُرُوهَا فَلْتَخْتَمِرْ وَلْتَرْكَبْ وَلْتَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ».رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ والدارمي |
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن مالک سے کہ عقبہ ابن عامر نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے اپنی بہن کے متعلق دریافت کیا ۱؎ جنہوں نے نذر مانی تھی کہ ننگے پاؤں بغیر دوپٹہ حج کریں گی ۲؎ فرمایا انہیں حکم دے دو کہ دوپٹہ اوڑھیں اور سوار ہو جائیں اور تین دن روزہ رکھیں۳؎(ابوداؤد،ترمذی،نسائی،ابن ماجہ، دارمی) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع