دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

حضور صلی اللہ علیہ و سلم اپنے ہاتھ سے کھولیں تو کھولوں گا چنانچہ حضور نے اپنے ہاتھ سے کھولا اس ستون کا نام استوانہ توبہ بھی ہے استوانہ ابو لبابہ بھی۔اب بھی حجاج وہاں کھڑے ہوکر توبہ کرتے ہیں۔کھلنے کے بعد آپ نے عرض کیا کہ میں محلہ چھوڑ دوں گا جہاں رہنے کی وجہ سے یہ گناہ ہوا اور اپنا سارا مال خیرات کردوں گا توبہ کی خوشی میں۔

۳؎ یہ منت و نذر نہ تھی بلکہ قبول توبہ کے شکریہ میں صدقہ کرنے کا ارادہ تھا اس لیے حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے صرف تہائی خیرات کرنے کی اجازت دی۔صوفیاءکرام فرماتے ہیں کہ گناہ کرکے صدقہ دینا کہ اس صدقے کی برکت سے گناہ کا اثر دل سے جاتا رہے بہتر ہے ان کی دلیل یہ ہی حدیث ہے۔(مرقات)اب بھی مفتی صاحبان بعض موقعہ پر صدقہ کا حکم دے دیتے ہیں اس حدیث کی وجہ سے۔خیال رہے کہ بابا فرید الدین گنج شکر جو بارہ سال کنویں میں لٹک کر عبادت کرتے رہے کہ سواء نماز کے اوقات کے کسی وقت کنویں سے باہر نہ آتے اور نماز پڑھتے ہی پھر وہاں لٹک جاتے،اس کا ماخذ یہ حدیث بن سکتی ہے،مرقات نے یہاں فرمایا کہ ابولبابہ نے سات دن کچھ نہ کھایاحتی کہ غشی طاری ہوگئی،بینائی بہت کم ہوگئی،صوفیاء کے فقر فاقہ،ترکِ غذا وغیرہ اسی سے ثابت ہوتے ہیں۔خیال رہے کہ انہیں حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے ترک سکونت کی اجازت دی،ترمیم صرف صدقے میں فرمائی۔

3440 -[15]

وَعَن جَابر بن عبد الله: أَنَّ رَجُلًا قَامَ يَوْمَ الْفَتْحِ فَقَالَ: يَا رَسُول الله لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ إِنْ فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْكَ مَكَّةَ أَنْ أُصَلِّيَ فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ رَكْعَتَيْنِ قَالَ: «صلى الله عَلَيْهِ وَسلم هَهُنَا» ثمَّ عَاد فَقَالَ: «صل هَهُنَا» ثُمَّ أَعَادَ عَلَيْهِ فَقَالَ: «شَأْنَكَ إِذًا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد والدارمي

روایت ہے حضرت جابر ابن عبداﷲ سے کہ فتح مکہ کے سال ایک شخص کھڑا ہوا عرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم میں نے اﷲ کے لیے نذر مانی تھی کہ اگر اﷲ تعالٰی آپ کو فتح مکہ عطا کرے تو میں بیت المقدس میں دو رکعتیں پڑھوں گا ۱؎ فرمایا یہاں ہی پڑھ لو۲؎ تو انہوں نے پھر سوال دھرایا،فرمایا یہاں ہی پڑھ لو،پھر سوال دہرایا،فرمایا اچھا تو تم جانو ۳؎ (ابوداؤد،دارمی)

۱؎ مقدس میم کے فتح دال کے کسرہ سے بمعنی بزرگی والا گھر مگر عوام مقدس باب تفعیل کا اسم مفعول بولتے ہیں۔شاید ان صاحب کا خیال یہ ہوگا کہ بیت المقدس کی نماز حرمین شریفین کی مسجد بیت اﷲ اور مسجد نبوی شریف کی نماز سے افضل ہے حالانکہ مسجد حرام شریف میں ثواب زیادہ ہے۔

۲؎ اگر یہ سوال مکہ معظمہ میں تھا تو یہاں سے مراد مسجد حرام شریف ہے اور اگر مدینہ منورہ میں سوال ہوا ہے تو یہاں سے مراد مسجد نبوی شریف ہے۔خیال رہے کہ مکہ معظمہ کی مسجد کا ثواب بیت المقدس سے دوگنا ہے کہ وہاں ایک کا ثواب پچاس ہزار ہے اور حرم شریف میں ایک لاکھ اور مسجد نبوی کا ثواب بیت المقدس کے برابر مگر مسجد نبوی میں نماز کا درجہ زیادہ ہے کہ یہاں حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے قرب ہے اور اگر کوئی شخص نذر سے اعلیٰ عبادت اداکردے تو نذر ادا ہوجاتی ہے،چونکہ نذرتھی بیت المقدس کی اور یہ صاحب ادا کرتے ہیں مسجد حرام یا مسجد نبوی میں جو وہاں سے اعلیٰ ہے لہذا بہرحال نذر پوری ہوجاتی۔مساجد میں اعلیٰ مسجد حرام ہے، پھرمسجد نبوی،پھر مسجد قدسی،پھر اپنے شہر کی جامع مسجد،پھر محلہ کی مسجد،پھر گھر کی مسجد(جاء نماز)امام زفر و ابویوسف کا مذہب ہے کہ مسجد قدسی کی نماز کی نذر حرم شریف اور مسجد نبوی کی نماز سے ادا ہوجاتی ہے مگر اس کے برعکس درست نہیں یعنی مسجد حرام کی نماز کی نذر مسجد قدسی کی نماز سے ادا نہیں ہوتی مگر امام اعظم و محمد کے نزدیک نماز میں جگہ کی تخصیص معتبر نہیں لہذا اگر مسجد

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن