30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ یہ حدیث امام اعظم کی بڑی قوی دلیل ہے حضرت امام شافعی کے خلاف ہے،ان کے ہاں حرام چیز کی نذر میں کفارہ بھی نہیں ہوتا،امام اعظم کے ہاں ایسی نذر کا پورا کرنا حرام ہے اس کا کفارہ واجب ہے۔
۳؎ یہ حدیث امام سیوطی نے جامع صغیر میں احمد اور ائمہ اربعہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے،نسائی نے عمران ابن حصین سے نقل کی۔
|
3436 -[11] وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ نَذَرَ نَذْرًا لم يسمه فَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ. وَمَنْ نَذَرَ نَذْرًا لَا يُطِيقُهُ فَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ. وَمَنْ نَذَرَ نَذْرًا أَطَاقَهُ فَلْيَفِ بِهِ».رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه وَوَقفه بَعضهم على ابْن عَبَّاس |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا جو نذر مانے اور اسے مقرر نہ کرے تو اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۱؎ اور جو گناہ میں منت مانے تو اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے اور جو ایسی نذر مانے جس کی طاقت نہ ہو تو اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۲؎ اور جو ایسی نذر مانے جس کی طاقت رکھتا ہو تو اسے پورا کرے ۳؎ (ابوداؤد،ابن ماجہ)بعض نے یہ حدیث حضرت ابن عباس پر موقوف کی۔ |
۱؎ یعنی جو نذرمطلق مانے مثلًا اگر میرے بیمار کو شفا ہوگئی تو مجھ پر اﷲ کے لیے نذر ہے یہ نہ کہے کس چیز کی نذر ہے روزہ حج صدقہ وغیرہ تو اس پر کفارہ دینا واجب ہے کیونکہ وہ اس نذر کے پوراکرنے پر قادر نہیں،امام احمدوشافعی وغیرہم نے حدیث کی اور توجیہیں کی ہیں مگر وہ تمام تکلفات ہیں۔صحیح توجیہ یہ ہی ہے جو ہم نے عرض کی یہ ہی امام اعظم کا مذہب ہے۔فتح القدیر میں فرمایا کہ نذرمطلق صیغۃً نذر ہوتی ہے کلمًا قسم،ہاں اگر یہ الفاظ کہتے وقت کسی خاص عبادت کی نیت کرے درست ہے اور اس پر وہ ہی عبادت لازم ہوگی۔
۲؎ مثلًا کہے کہ اگر میرا فلاں کام ہوجائے تو میں اﷲ کے لیے پہاڑ اٹھالوں گا یا آسمان پر چڑھ جاؤں گا وغیرہ، چونکہ یہ کام طاقت سے باہر ہے یا کہے کہ میں حج کروں گا حالانکہ خرچ پاس نہ ہو یا کہے کہ پیدل حج کروں گا حالانکہ راستہ دراز ہو بیچ میں سمندر حائل ہو ان سب میں کفارہ واجب ہوگا۔
۳؎ نذر پوری کرنے کے واجب ہونے کی شرائط ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ ایسے کام کی نذر مانے جس کی جنس کا کوئی واجب بعینہ ہو اور اس کے پوراکرنے پر طاقت بھی رکھتا ہو لہذا وضو کرنے،بیمار پرسی کرنے،نمازجنازہ میں شرکت کرنے کی نذر پوری کرنا واجب نہیں کہ وضو وغیرہ واجب بعینہ نہیں اور ایسی نذر میں بھی کفارہ کا اختیار ہوتا ہے مگر پوری کرنا مقدم۔
|
3437 -[12] وَعَن ثَابت بن الضَّحَّاك قَالَ: نَذَرَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنْحَرَ إِبِلًا بِبُوَانَةَ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ كَانَ فِيهَا وَثَنٌ مِنْ أَوْثَانِ الْجَاهِلِيَّةِ يُعْبَدُ؟» قَالُوا: لَا قَالَ: «فَهَلْ كَانَ فِيهِ عِيدٌ مِنْ أَعْيَادِهِمْ؟» قَالُوا: لَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أوف بِنَذْرِك فَإِنَّهُ لَا وَفَاءَ لِنَذْرٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ وَلَا فِيمَا لَا يَمْلِكُ ابْنُ آدَمَ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت ثابت ابن ضحاک سےفرماتے ہیں کہ کسی شخص نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ میں نذر مانی کہ مقام بوانہ میں اونٹ ذبح کرے گا ۱؎ پھر وہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ کو یہ خبردی۲؎ تب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ کیا وہاں جاہلیت کے بتوں سےکوئی بت تھا جس کی پوجا ہوتی تھی لوگوں نے کہا نہیں،فرمایا کیا وہاں ان کے میلوں سے کوئی میلہ لگتا تھا لوگ بولے نہیں۳؎ تب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اپنی نذر پوری کرو۴؎ کیونکہ نہ تو اﷲ کے گناہ میں نذر درست ہے اور نہ اس میں جس کا انسان مالک نہ ہو ۵؎(ابوداؤد) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع