30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
3427 -[2] وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ نَذَرَ أَنْ يُطِيعَ اللَّهَ فَلْيُطِعْهُ وَمَنْ نَذَرَ أَنْ يَعْصِيَهُ فَلَا يَعْصِهِ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جو شخص اﷲ کی اطاعت کی نذر مانے وہ اس کی اطاعت کرے ۱؎ اور جو اس کی نافرمانی کی نذر مانے وہ نافرمانی نہ کرے ۲؎ (بخاری) |
۱؎ کیونکہ اﷲ تعالٰی کی عبادت تو ویسے بھی کرنی چاہیےاور جب نذر مان لی تو بدرجہ اولیٰ کرنی چاہیے۔
۲؎ خیال رہے کہ جو کام بذات خود گناہ ہو اس کی نذر درست ہی نہیں جیسے شراب پینے،جوا کھیلنے،کسی مسلمان کو ناحق قتل کرنے کی نذر کہ ایسی نذریں باطل ہیں ان کا پوراکرنا حرام مگر ان پر کفارہ واجب ہے کہ یہ کام ہرگز نہ کرے اور کفارہ ادا کرے،اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے کہ اس نے رب تعالٰی کے نام کی بے حرمتی کی مگر جو کام کسی عارضہ کی وجہ سے ممنوع ہوں ان کی نذر درست ہے یا ان کی قضا کرے یا کفارہ دے جیسے عید کے دن کے روزے یا طلوع آفتاب کے وقت نفل پڑھنے کی منت کہ یہ منت درست ہے،یہ ہی مذہب احناف ہے۔
|
3428 -[3] وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«لَا وَفَاءَ لِنَذْرٍ فِي مَعْصِيَةٍ وَلَا فِيمَا لَا يَمْلِكُ الْعَبْدُ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَفِي رِوَايَةٍ: «لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيّة الله» |
روایت ہے حضرت عمران ابن حصین سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ نہ تو نافرمانی کی منت پوری کرنی چاہیے نہ اس کی جس کا بندہ مالک نہ ہو ۱؎(مسلم)اور ایک روایت میں ہے کہ اﷲ کی معصیت میں نذر نہیں۔ |
۱؎ مثلًا کہے کہ خدایا اگر میرا یہ کام ہوگیا تو فلاں کے غلام کو آزادکردوں گا یا فلاں کی بکری کی قربانی دے دونگا۔ احمد،ابوداؤد،ابن ماجہ، نسائی نے حضرت عمران ابن حصین سے روایت کی کہ فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے گناہ کی نذر درست نہیں اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے۔(مرقات)جس سے معلوم ہوا کہ معصیت وغیرہ کی نذرمعتبر ہے مگر پوری نہ کرے کفارہ ادا کرے،یوں ہی غیر کی مملوکہ چیز کی نذر درست نہیں مگر اس کا کفارہ واجب ہے۔
|
3429 -[4] وَعَن عقبَة بن عَامر عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «كَفَّارَةُ النَّذْرِ كَفَّارَةُ الْيَمِينِ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ |
روایت ہے حضرت عقبہ ابن عامر سے ۱؎ وہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں کہ نذر کا کفارہ قسم کا ہی کفارہ ہے ۲؎ (مسلم) |
۱؎ آپ صحابی ہیں،جہنی ہیں،امیرمعاویہ کی طرف سے مصر کے گورنر رہے جب کہ امیرمعاویہ کے بھائی عقبہ ابن ابی سفیان فوت ہوگئے،پہلے وہ گورنر تھے،آپ سے بہت صحابہ و تابعین نے احادیث روایت کیں۔(مرقات و اشعہ)
۲؎ یعنی جو شخص نذر پوری نہ کرے یا شرعًا و عقلًا پوری نہ کرسکے تو اس کا کفارہ دے۔نذر کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے غلام آزاد کرنا یا دس مسکینوں کا کھانا یا کپڑا،اگر طاقت نہ ہو تو تین روزے،نذر خواہ معلق ہو یامطلق سب کا حکم یہ ہی ہے۔
|
3430 -[5] وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: بَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ إِذا هُوَ بِرَجُل قَائِم فَسَأَلَهُ عَنْهُ فَقَالُوا: أَبُو إِسْرَائِيلَ نَذَرَ أَنْ يَقُومَ وَلَا يَقْعُدَ وَلَا يَسْتَظِلَّ وَلَا يَتَكَلَّمَ وَيَصُومَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مُرُوهُ فَلْيَتَكَلَّمْ وَلْيَسْتَظِلَّ وَلْيَقْعُدْ وَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ» . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم خطبہ پڑھ رہے تھے کہ ایک شخص کھڑا ہوا دیکھا ۱؎ حضور نے اس کے متعلق پوچھا لوگوں نے بتایا کہ یہ ابو اسرائیل ہے ۲؎ اس نے نذر مانی ہے کہ کھڑا رہے نہ بیٹھے گا نہ سایہ لے گا نہ کلام کرے گا۳؎ اور روزے رکھے گا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اسے حکم دو کہ کلام کرے سایہ لے لے اور بیٹھ جائے ۴؎ اور اپنا روزہ پورا کرلے۔ (بخاری) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع