30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
3419 -[14] وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ حَلَفَ بِغَيْرِ اللَّهِ فَقَدْ أَشْرَكَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ جو کوئی غیر خدا کی قسم کھائے اس نے شرک کیا ۱؎ (ترمذی) |
۱؎ اگر بت کی قسم کھائی تو شرک جلی کیا اور اگر ماں باپ اور اولاد کی شرعی قسم کھالی ان کی تعظیم کی بنا پر تو شرک خفی کیا۔ نبی و کعبہ کی بھی قسم شرعی جائز نہیں مگر جو کہے کہ اگر میں یہ کروں تو نبی یا قرآن یا کعبہ سے بری ہوں تو قسم ہوجائے گی جس پر کفارہ واجب ہوگا کہ نبی و قرآن سے بری ہونا کفر ہے کفر کی قسم معتبر ہے۔(مرقات)
|
3420 -[15] وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ حَلَفَ بِالْأَمَانَةِ فَلَيْسَ منا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت بریدہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جو کوئی امانت کی قسم کھائے وہ ہم میں سے نہیں ۱؎ (ابوداؤد) |
۱؎ اگر امانت سے مراد شرعی احکام ہیں یعنی نماز روزہ وغیرہ تو یہ قسم ناجائز ہے اور اس میں کفارہ نہیں، قرآن کریم میں شرعی احکام کو امانت فرمایا گیا ہے"اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَۃَ عَلَی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ"یہ قسمیں کفار کھاتے تھے نماز کی قسم وغیرہ،اور اگر مراد امانت اﷲ ہے تو قسم معتبر ہے اسی پر کفارہ واجب کہ امانت اﷲ کی صفت ہے اور صفات الٰہی کی قسم معتبر ہے جیسے اﷲ کے علم یا قدرت یا سمع بصر کی قسم، رب تعالٰی کا نام شریف امین بھی ہے۔(مرقات،واشعہ)خیال رہے کہ جو کہے بسم اﷲ میں یہ کروں گا اگرچہ قسم ہی کی نیت سے کہے قسم نہ ہوگی کہ یہ عرف کے خلاف ہے ایسے ہی حق اﷲ کی قسم معتبر نہیں۔
|
3421 -[16] وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَالَ: إِنِّي بَرِيءٌ مِنَ الْإِسْلَامِ فَإِنْ كَانَ كَاذِبًا فَهُوَ كَمَا قَالَ وَإِنْ كَانَ صَادِقًا فَلَنْ يَرْجِعَ إِلَى الْإِسْلَامِ سَالِمًا ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ |
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جو کہے میں اسلام سے بری ہوں تو اگر وہ جھوٹا ہو ۱؎ تو وہ ایسا ہی ہے جیسا اس نے کہا ۲؎ اور اگر سچا ہو تو اسلام کی طرف سلامت نہ پھرے گا۳؎(ابوداؤد،نسائی،ابن ماجہ) |
۱؎ یعنی یوں کہے کہ اگر میں نے یہ کیا ہو تو میں اسلام سے بری و دور ہوجاؤں گا اور وہ جانتا ہے کہ اس نے یہ کام کیا اس وقت جھوٹ بول رہاہے۔
۲؎ یعنی اسلام سے بری دور ہو ہی جائے گا،یہ فرمان انتہائی ڈرانے کے لیے ہے جیسے فرمایا گیا جو نماز چھوڑے اس نے کفرکیا۔مطلب یہ ہے کہ اس قسم میں اس کے کفر کا اندیشہ ہے۔خیال رہے کہ اگر گزشتہ پر یہ قسم کھائی ہے تو صرف گناہ ہوگا کفارہ نہ ہوگا کیونکہ غموس قسم میں کفارہ نہیں ہوتا۔ اگر آئندہ پر یہ الفاظ بولے کہ اگر میں یہ کام کروں تو اسلام سے بیزار و بری ہوجاؤں اگر حلال کو حرام کرنے کے لیے کہا ہے تو قسم ہوجائے گی کہ تحریم حلال قسم ہے۔
۳؎ یعنی اگر اپنے کو سچا سمجھ کر یہ کلمات کہے اور واقعہ تھا وہ جھوٹا تب بھی اس نے بڑا گناہ کیا مثلًا اس نے کہا کہ اگر میں نے فلاں سے بات کی ہو تو میں اسلام سے دور ہوجاؤں خیال تھا کہ میں نے بات نہیں کی مگر کی تھی،تب بھی اس کلمہ میں گناہ ہے کہ اس نے اسلام
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع