30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ یعنی ایسی قسموں کا پورا کرنا گناہ ہے اس پر واجب ہے کہ ایسی قسمیں توڑے اور گھر والوں کے حقوق اد اکرے،رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَ لَا تَجْعَلُوا اللہَ عُرْضَۃً لِّاَیۡمٰنِکُمْ اَنۡ تَبَرُّوۡا وَتَتَّقُوۡا وَتُصْلِحُوۡا بَیۡنَ النَّاسِ"۔خیال رہے کہ یہاں اٰثم تفضیل مقابلہ کے لیے نہیں،یہ مطلب نہیں کہ یہ قسم پوری نہ کرنا بھی گناہ مگر پوری کرنا زیادہ گناہ ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ ایسی قسم پوری کرنا بہت بڑا گناہ ہے پوری نہ کرنا ثواب کہ اگرچہ رب تعالٰی کے نام کی بے ادبی قسم توڑنے میں ہوتی ہے اسی لیے اس پر کفارہ واجب ہوتا ہے مگر یہاں قسم نہ توڑنا زیادہ گناہ کا موجب ہے۔
|
3415 -[10] وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَمِينُكَ عَلَى مَا يُصَدِّقُكَ عَلَيْهِ صَاحبك» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے تیری قسم اس پر ہے جس پر تیرا ساتھی تیری تصدیق کرے ۱؎(مسلم) |
۱؎ یعنی جس قسم سے کسی کا حق وابستہ ہو اس میں توریہ یعنی ظاہر معنے کے خلاف کی نیت کرنا درست نہیں لیکن اگر ظالم ظلم کرنے کے لیے ہم سے قسم لے رہا ہے تو وہاں ضرور توریہ کرکے اپنی جان و آبرو بچالے،ابراہیم علیہ السلام نے اپنی بیوی سارا کے متعلق فرمایا کہ یہ میری بہن ہیں یعنی دینی بہن،شاہ مصر کے ظلم سے بچنے کے لیے ہجرت کی راہ میں صدیق اکبر نے ایک کافر کو جواب دیا رجل یھدینی السبیل یہ صاحب(یعنی محمد رسول اﷲ) مجھے راہ دکھانے والے ہیں یعنی راہ خدا دکھانے والے،یہ ہے توریہ،حضرت سوید ابن حنظلہ فرماتے ہیں کہ ہجرت کرکے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں روانہ ہوا، میرے ساتھ وائل ابن حجر حضرمی تھے راہ میں دشمن مل گئے میں نے ان سے کہا کہ خدا کی قسم یہ شخص میرا بھائی ہے تاکہ وہ انہیں قتل نہ کر دیں،پھر میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سے اس قسم کا ماجرا عرض کیا، فرمایا تم نے اچھا کیا وائل ابن حجر تمہارے دینی بھائی ہیں۔
|
3416 -[11] وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْيَمِينُ عَلَى نِيَّةِ الْمُسْتَحْلِفِ» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے انہی سےفرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ قسم قسم لینے والے کی نیت پر ہے ۱؎(مسلم) |
۱؎ یعنی جب مقدمہ میں مدعی مدعیٰ علیہ سے قسم لے تو قسم کے الفاظ میں مدعی کی نیت کا اعتبار ہوگا مدعی علیہ تاویل کرکے دوسرے معنے خلاف ظاہر کی نیت نہیں کرسکتا کہ اس صورت میں مدعی علیہ ظلمًا مدعی کا حق مارنا چاہتا ہے اس لیے تاویلیں کرکے قسم کھارہا ہے اگر بعد تاویل کرکے قسم کھا جائے تو تاویل معتبر نہیں مدعی کی نیت کا اعتبار ہے۔
|
3417 -[12] عَن عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: (لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ)فِي قَوْلِ الرَّجُلِ: لَا وَاللَّهِ وَبَلَى وَاللَّهِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَفِي شَرْحِ السُّنَّةِ لَفْظُ الْمَصَابِيحِ وَقَالَ: رَفَعَهُ بَعْضُهُمْ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنهُ |
روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ نازل ہوئی یہ آیت کہ اﷲ تعالٰی تمہاری پکڑ نہیں فرماتا،تمہاری لغو قسموں پر انسان کے اس قول کے متعلق نہیں، واﷲ ہاں واﷲ ۱؎(بخاری)اور شرح سنہ میں مصابیح کے الفاظ ہیں ۲؎ اور فرمایا کہ بعض راویوں نے اسے حضرت عائشہ سے مرفوع کیا ۳؎ |
۱؎ قسم لغو وہ ہے جس میں نہ کفارہ ہو نہ گناہ،لغو بمعنے بے کار، قسم لغو کی تفسیر میں اختلاف ہے ۔امام شافعی کے ہاں قسم لغو یہ ہے کہ بغیر ارادہ منہ واﷲ باﷲ نکل جائے جیسے بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے واﷲ آئے واﷲ جائے وغیرہ،یہ حدیث امام شافعی رحمۃ اﷲ علیہ کی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع