دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

3401 -[14]

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ كَاتَبَ عَبْدَهُ عَلَى مِائَةِ أُوقِيَّةٍ فَأَدَّاهَا إِلَّا عَشْرَ أَوَاقٍ أَوْ قَالَ: عَشْرَةَ دَنَانِيرَ ثُمَّ عَجَزَ فَهُوَ رَقِيقٌ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد وَابْن مَاجَه

روایت ہے عمرو ابن شعیب سے،وہ اپنے والد سے،وہ اپنے دادا سے راوی کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا جس نے اپنے غلام کو سو اوقیہ چاندی پر مکاتب کیا ۱؎ تو اس نے سب ادا کردیا،سوائے دس اوقیہ کے یا فرمایا سوائے دس دیناروں کے ۲؎ پھر وہ عاجز ہوگیا تو وہ غلام ہی ہے ۳؎(ترمذی،ابوداؤد،ابن ماجہ)

۱؎ ا س طرح کہ اس سے کہہ دیا تو سو اوقیہ چاندی ادا کردے تو تو آزاد ہے،ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے سو اوقیہ چالیس سو یعنی چار ہزار درہم کا ہوا،ایک درہم ساڑھے چار آنہ کا۔

۲؎ یا تو یہ شک صحابی کو ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے دس اوقیہ فرمایا یا دس۱۰ دینار یا نیچے کے راوی کو شک ہے کہ میرے استاد حدیث نے کیا فرمایا۔ خیال رہے کہ ایک دینار دس درہم یعنی پونے تین روپے کا ہوتا تھا اب تو اس کی قیمت بہت زیادہ ہے کہ سونا بہت گراں ہے۔

۳؎ یا تو خود غلام ہی کہہ دے کہ اب میں بقیہ روپیہ ادا نہیں کرسکتا یا مکاتبت کی مدت گزر جائے،یہ دونوں صورتیں عجز کی ہیں۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اس صورت میں ادا کیا ہوا روپیہ مولا کا ہوگا اور یہ مکاتب پہلے کی طرح مکمل غلام ہوجائے گا۔معلوم ہوا کہ کل بدل کتابت کی ادا سے عاجزہونا یا بعض سے عاجز ہونا حکم میں یکساں ہے کہ ان صورتوں میں یہ پورا غلام بن جائے گا۔

3402 -[15]

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا أَصَابَ الْمُكَاتَبُ حَدًّا أَوْ مِيرَاثًا وَرِثَ بِحِسَابِ مَا عَتَقَ مِنْهُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ قَالَ: «يُودَى الْمُكَاتَبُ بِحِصَّةِ مَا أَدَّى دِيَةَ حر وَمَا بَقِي دِيَة عبد» . وَضَعفه

روایت ہے حضرت ابن عباس سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں جب مکاتب سزا یا وراثت کو پہنچےتو اس حساب سے وارث کیا جائے گا جتنا آزاد ہوچکا ۱؎(ابوداؤد،ترمذی)اور ترمذی کی روایت میں ہے فرمایا دیت دیا جائے گا مکاتب ادا کیے ہوئے حصہ کی آزاد کی دیت اور باقی کی غلام کی دیت اور اسے ضعیف کہا ۳؎

۱؎ یعنی سزا اور وراثت میں مکاتب آزاد بھی مانا جائے گا اور غلام بھی،جتنا زر کتابت ادا کرچکا ہے اتنا آزاد ہوگا جتنا زر کتابت اس کے ذمہ ہے اتنے میں غلام مثلًا ایک شخص ایک ہزار روپیہ پر مکاتب تھا اور پانچ سو ادا کرچکا تھا اب اس مکاتب کا والد جو آزاد و مالدار تھا فوت ہوگیا اورمکاتب اس کا اکلوتا بیٹا ہے جو سارے ترکہ کا وارث ہونا چاہیے تو اب یہ مکاتب آدھے ترکہ کا وارث ہوگا کیونکہ یہ آدھا آزاد ہے،اسی طرح اگر اس مکاتب کو کسی نے قتل کردیا قاتل پردیت واجب ہوئی اس مکاتب کی قیمت مثلا ً ایک سو روپیہ تھی تو قاتل اس مقتول مکاتب کی آدھی دیت یعنی پچاس اونٹ اس مکاتب کے وارثوں کو دیں گے اور آدھی قیمت یعنی پچاس روپیہ مالک کو ادا کریں گے۔

۲؎ یودی دیت کا مضارع مجہول ہے ودی یدی باب ضرب سے یعنی دیت دیا جائے گا اور ادی تادیت کا ماضی معروف یعنی یودی کے پیش واؤ کے سکون د کے فتح سے ہے اور ادّی دال کے شد و فتح سے ہے،اس کا مطلب یہ ہوا کہ آزاد مقتول کی دیت سو اونٹ ہے اور غلام مقتول کی دیت پچاس اونٹ اوریہ مکاتب آدھا زر کتابت ادا کرچکا ہے تو اس کی دیت پچھتراونٹ ہوگی مگر چونکہ مولے کو مقتول غلام کی دیت نہیں ملتی بلکہ غلام کی قیمت ملتی ہے اس لیے اسے آدھی قیمت دی جاوے گی۔

۳؎ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مکاتب جس قدر زر کتابت ادا کرچکا اتنا آزاد ہے مگر پچھلی حدیث سے معلوم ہوا کہ جب تک اس کے ذمہ ایک پیسہ بھی ہے وہ غلام ہے مگر یہ حدیث ضعیف ہے اس لیے پچھلی حدیث کے متعارض نہیں ہوسکتی اور سوائے امام نخعی

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن