30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
3397 -[10] وَعَن الْمَلِيحِ عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ شِقْصًا مِنْ غُلَامٍ فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «لَيْسَ لِلَّهِ شَرِيكٌ» فَأَجَازَ عتقه. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت ابوالملیح ۱؎ سے وہ اپنے والد سے راوی کہ ایک شخص نے ایک غلام کا حصہ آزاد کردیا ۲؎ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی بارگاہ میں یہ عرض کیا گیا تو فرمایا کہ اﷲ کا کوئی شریک نہیں ۳؎ پھر اس کی آزادی کو جائز رکھا ۴؎(ابوداؤد) |
۱؎ آپ تابعی ہیں،آپ کا نام عامر ابن اسامہ ابن عمیر ہے،ہذلی ہیں، بصری ہیں، بہت سے صحابہ سے ملاقات ہے،آپ کے والد اسامہ ابن عمیر صحابی ہیں۔
۲؎ ظاہر یہ ہے کہ یہ شخص پورے غلام کا مالک تھا مگر آزاد کیا اس کا آدھا یا چوتھائی باقی اپنی ملک میں رکھا،یہ مطلب نہیں کہ اس کے چند شخص مالک تھے ان میں سے ایک نے اپنا حصہ آزاد کردیا۔
۳؎ یعنی اس غلام کا کچھ حصہ تو اللہ کے لیے آزاد ہوگیا اور کچھ حصہ تیرا تھا، یہ صورت رب تعالٰی کے ساتھ شرکت ہے یہ بہتر نہیں، بہتر یہ ہی ہے کہ پورے غلام کو آزاد کر۔
۴؎ یعنی اسے حکم دیا کہ پورا غلام آزاد کردے اس نے ایسا ہی کیا،یہ حکم استحبابی تھا جیسا کہ اشعۃ اللمعات میں ہے لہذا یہ حدیث امام اعظم کے خلاف نہیں،امام اعظم غلام کی عتق کے تجزیہ و تقسیم کے قائل ہیں،یعنی ان کے ہاں ہوسکتا ہے کہ ایک غلام کا بعض حصہ آزاد ہو بعض غلام۔ جو علماء فرماتے ہیں کہ عتق کی تقسیم نہیں ہوسکتی،بعض کی آزادی کل کی آزادی ہے وہ اس حدیث سے دلیل پکڑتے ہیں مگر یہ استدلال کمزور ہے پچھلی احادیث اس کے خلاف گزر چکیں،چنانچہ مسلم،بخاری کی روایت گزر چکی عتق منہ ماعتق۔
|
3398 -[11] وَعَن سفينة قَالَ: كُنْتُ مَمْلُوكًا لِأُمِّ سَلَمَةَ فَقَالَتْ: أُعْتِقُكَ وَأَشْتَرِطُ عَلَيْكَ أَنْ تَخْدُمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا عِشْتَ فَقُلْتُ: إِنْ لَمْ تَشْتَرِطِي عَلَيَّ مَا فَارَقْتُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا عِشْتُ فَأَعْتَقَتْنِي وَاشْتَرَطَتْ عَلَيَّ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ |
روایت ہے حضرت سفینہ سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ میں ام سلمہ کا غلام تھا وہ بولیں کہ میں تمہیں آزاد کرتی ہوں اور تم پر یہ شرط لگاتی ہوں کہ جب تک جیو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت کرو۲؎ میں نے کہا کہ اگر آپ یہ شرط نہ بھی لگائیں تو بھی میں زندگی بھر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو نہ چھوڑتا ۳؎ چنانچہ انہوں نے مجھے آزاد کردیا اور یہ شرط لگادی ۴؎ (ابوداؤد،ابن ماجہ) |
۱؎ آپ کا نام رباح یا مہربان یا رومان ہے فارسی النسل ہیں،مشہور ہے کہ آپ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے غلام ہیں۔اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ حضرت ام سلمہ کے غلام ہیں ہوسکتا ہے کہ حضور انور کے غلام ہوں آپ نے جناب ام سلمہ کو مرحمت فرمایا ہو،کسی سفر میں ایک شخص تھک گیا تو اس نے اپنی تلوار،ڈھال نیزہ وغیرہ بہت سی چیزیں ان پر ڈال دیں،حضور نے فرمایا تم تو سفینہ یعنی کشتی ہو اس دن سے آپ کا لقب سفینہ ہوگیا۔ آپ کے چار بیٹے ہیں: عبدالرحمن،محمد زیاد اور کثیر ان سب سے روایات لیں، آپ ہی کا واقعہ ہے کہ عہد فاروقی میں ایک جنگل میں ایک شیر نے آپ پر حملہ کرنا چاہا تو آپ نے فرمایا اے ابو سائب میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کا غلام ہوں راستہ بھول گیا ہوں تو وہ شیر کتے کی طرح دم ہلاتا آپ کے آگے آگے چل دیا جیسا کہ اسی مشکوۃ باب الکرامات میں آئے گا۔ان شاءاﷲ!
۲؎ یعنی تم کو آزاد بالشرط کرتی ہوں کہ تم بعد آزادی ہمیشہ حضور کی خدمت کرنا۔معلوم ہوا کہ عتق بالشرط جائز ہے،اس میں اختلاف ہے کہ غلام کو اس شرط کا پورا کرنا ضروری ہے یا نہیں اوراگر نہ پوری کرے تو اس پر کچھ تاوان ہے یا نہیں،حق یہ ہے کہ ضرور پوری کرے کہ وعدہ کرچکا ہے،وعدہ پورا کرنا ضرور ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع