30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جائز نہیں،اس پر تمام امت کااجماع ہے،حضرت علی رضی اللہ عنہ پہلے ام ولد کی بیع کے قائل تھے بعد میں آپ نے اس سے رجوع فرمالیا جیسا کہ مرقات وغیرہ میں ہے۔
|
3395 -[8] وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: بِعْنَا أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ نَهَانَا عَنْهُ فَانْتَهَيْنَا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم اور ابوبکر صدیق کے زمانہ میں ام ولد لونڈی کو فروخت کیا ۱؎ پھر جب زمانہ فاروقی ہوا تو انہوں نے ہمیں اس سے منع کردیا پس ہم باز رہے ۲؎(ابوداؤد)۳؎ |
۱؎ یا تو نسخ سے پہلے یا بعض صحابہ کو ممانعت کی خبر نہ ہوئی اور بے خبری میں وہ فروخت کرتے رہے زمانہ صدیقی میں ایک دو حضرات نے یہ بیع کی،حضرت جابر سمجھے کہ اس بیع کا عام رواج تھا،یہاں یہ ذکر نہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو اس بیع کی خبر ہوئی اور آپ نے منع نہ فرمایا جب تک یہ مذکور نہ ہو تب تک حجت نہیں۔
۲؎ حضرت ابوبکر صدیق کا زمانہ خلافت بہت تھوڑا ہے اور بالکل جہادوں میں گھرا ہوا اس لیے یا تو آپ کو اس بیع کی نسخ کی خبر نہ پہنچی یا ان لوگوں کی فروخت کی خبر نہ ہوئی،زمانہ فاروقی بفضلہ تعالٰی دس سال ہے اور اس زمانہ شریف میں شرعی احکام کی بہت چھان بین ہوگئی اس لیے آپ کو ممانعت کی خبر پہنچی اور ان حضرات کی اس بیع کی بھی اس لیے اس کی ممانعت کا اعلان فرمادیا اور کسی صحابی نے اختلاف نہ فرمایا،یہ ہوا اجماع صحابہ اگر یہ حکم مشکوک ہوتا تو صحابہ میں ضرور اختلاف واقع ہوتا۔
۳؎ حاکم نے کہا کہ یہ حدیث صحیح علیٰ شرط مسلم ہے،یہ حدیث نسائی وغیرہ نے مختلف الفاظ سے مختلف اسنادوں سے روایت کی مگر وہ تمام ضعیف ہیں،ام ولد کی بیع کی ممانعت کی روایات بہت ہیں اور صحیح ہیں جو مرقات نے جمع فرمادیں۔حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ جب حضرت ماریہ قبطیہ کے بطن شریف سے جناب ابراہیم پیدا ہوئے تو حضور عالی نے فرمایا کہ انہیں ان کے اس بچہ نے آزاد کر دیا چنانچہ حضور کی وفات کے بعد جناب ماریہ آزاد ہوئیں دوسرے ترکات کی طرح صدقہ نہ بنیں۔
|
3396 -[9] وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَعْتَقَ عَبْدًا وَلَهُ مَالٌ فَمَالُ الْعَبْدِ لَهُ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ السَّيِّدُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ |
روایت ہے حضرت عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جو اپنا غلام آزاد کرےجس کے پاس مال ہو ۱؎ تو وہ مال اس کا ہے مگر یہ کہ مولیٰ شرط لگائے ۲؎ (ابوداؤد،ابن ماجہ) |
۱؎ یعنی اس کے قبضہ میں مال ہو اگرچہ وہ مال اس کے مولے ہی کی ملک ہے،یہاں مال سے مراد غلام کا کمایا ہوا مال ہے مثلًا بندہ ماذون تھا اسے تجارت کی اجازت تھی اس نے تجارت کی،مال حاصل ہوا،ابھی مولے کو نہ دیا تھا کہ غلام آزاد کردیا گیا۔
۲؎ یعنی آزاد کردہ غلام کا مال آزاد کرنے والے مولے کا ہوگا،ہاں اگر مولیٰ مہربانی فرما کر کہہ دے کہ یہ مال تیرا ہی ہے لے جا،تو پھر ویسا ہی ہوگا،یہ ہی قول جمہور علماء کا ہے،خواجہ حسن بصری،عطاء،نخعی بھی یہ ہی فرماتے ہیں۔
|
3397 -[10] وَعَن الْمَلِيحِ عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ شِقْصًا مِنْ غُلَامٍ فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «لَيْسَ لِلَّهِ شَرِيكٌ» فَأَجَازَ عتقه. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت ابوالملیح ۱؎ سے وہ اپنے والد سے راوی کہ ایک شخص نے ایک غلام کا حصہ آزاد کردیا ۲؎ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی بارگاہ میں یہ عرض کیا گیا تو فرمایا کہ اﷲ کا کوئی شریک نہیں ۳؎ پھر اس کی آزادی کو جائز رکھا ۴؎(ابوداؤد) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع