30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۳؎ یہ چھ غلام زنجی تھے سب کی قیمت برابر تھی اگر قیمت میں کمی بیشی ہوتی تو دو غلام آزاد نہ ہوتے بلکہ تہائی مال میں جتنے آتے وہ آزاد ہوتے۔اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے ایک یہ کہ مرتے وقت کا آزاد کرنا یوں ہی صدقہ خیرات و ہبہ وغیرہ درست ہے، دوسرے یہ کہ اس وقت یہ تمام کام اپنے تہائی مال میں کرسکتا ہے کہ باقی دو تہائی مال اس کے وارثوں کا ہے۔
۴؎ امام اعظم اور امام شعبی،امام شریح و خواجہ حسن بصری کا فتویٰ یہ ہے کہ اس صورت میں ان چھ غلاموں کا تہائی آزاد ہوگا یعنی ہر ایک غلام کا ۳/۱ حصہ اور ہر غلام اپنے ۳/۲ دو تہائی آزاد کرانے کے لیے کمائی کریں قیمت اداکرکے آزاد ہوجائیں۔
۵؎ کیونکہ اس نے ناجائز کام کیا جس مال سے وارثوں کا حق متعلق تھا انہیں آزاد کردیا،معلوم ہوا کہ مردے کو دینی قصور کی وجہ سے برا کہا جاسکتا ہے۔وہ جو حدیث پاک میں ہے کہ اپنے مردوں کو بھلائی سے یاد کرو اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیاوی وجہ سے اسے برا نہ کہو۔(اشعہ)
۶؎ اس سے معلوم ہوا کہ عبرت کے لیے اگر امام کسی غلطی کرنے والے پر خود نماز نہ پڑھے دوسرے سے پڑھوادے اور اسے مسلمانوں کے قبرستان سے علیٰحدہ دفن کرادے تاکہ لوگ آئندہ ایسی غلطی نہ کریں تو درست ہے یہ تبلیغ کی ایک قسم ہے۔شاید اس شخص کی وفات اور دفن کے وقت سرکار مدینہ منورہ سے باہر سفر میں ہوں گے ورنہ عمومًا حضور صحابہ کرام کے کفن دفن میں شرکت فرماتے تھے۔
|
3391 -[4] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَجْزِي وَلَدٌ وَالِده إِلَّا أَن يجده مَمْلُوكا فيشتر بِهِ فيعتقه» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ کوئی بیٹا اپنے باپ کو بدلہ نہیں دے سکتا مگر اس طرح کہ اسے غلام پائے تو اسے خرید لےتاکہ آزاد کردے ۱؎(مسلم) |
۱؎ ف تعقیبیہ نہیں بلکہ تعلیلیہ ہے کیونکہ ماں باپ و دیگر خاص قرابتدار خریدتے ہی آزاد ہوجاتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ بیٹا اپنے باپ کی کتنی ہی خدمت کرے مگر اس کا حق ادا نہیں کرسکتا،اس کا حق ادا کرنے کی صرف یہ صورت ہے کہ اگر بیٹا آزاد اور مالدار ہو باپ غلام ہو تو بیٹا اسے خرید لے تاکہ وہ باپ اس کی ملکیت میں آتے ہی آزاد ہوجائے،یہ مطلب نہیں کہ پہلے باپ کو خرید کر اس کا مالک بن جائے پھر اپنے طور پر اسے آزاد کرے لہذا یہ حدیث نہ تو اگلی آئندہ حدیث کے مخالف ہے نہ قول فقہاء اس حدیث کے خلاف۔
|
3392 -[5] (مُتَّفق عَلَيْهِ) وَعَنْ جَابِرٍ: أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ دَبَّرَ مَمْلُوكًا وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ فَبَلَغَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَنْ يَشْتَرِيهِ مني؟» فَاشْتَرَاهُ نعيم بن النَّحَّامِ بِثَمَانِمِائَةِ دِرْهَمٍ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: فَاشْتَرَاهُ نُعَيْمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَدَوِيُّ بثمانمائة دِرْهَم فجَاء بِهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَفَعَهَا إِلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: «ابْدَأْ بِنَفْسِكَ فَتَصَدَّقْ عَلَيْهَا فَإِنْ فَضَلَ شَيْءٌ فَلِأَهْلِكَ فَإِنْ فَضَلَ عَنْ أَهْلِكَ شَيْءٌ فَلِذِي قَرَابَتِكَ فَإِنْ فَضَلَ عَنْ ذِي قَرَابَتِكَ شَيْءٌ فَهَكَذَا وَهَكَذَا» يَقُولُ: فَبين يَديك وَعَن يَمِينك وَعَن شمالك |
روایت ہے حضرت جابر سے کہ ایک انصاری آدمی نے اپنا غلام مدبر کیا ۱؎ اور اس کے پاس اس کے سوا اور مال نہ تھا ۲؎ یہ خبر نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو پہنچی تو آپ نے فرمایا مجھ سے اسے کون خریدتا ہے۳؎ چنانچہ اسے نعیم ابن نحام نے آٹھ سو درہم کے عوض خرید لیا ۴؎ (مسلم،بخاری)اور مسلم کی روایت میں یوں ہے کہ اسے نعیم ابن عبداﷲ عدوی نے آٹھ سو درہم کے عوض خریدا ۵؎ وہ یہ درہم نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں لائے آپ نے وہ درہم اسے دیئے ۶؎ پھر فرمایا کہ اپنے نفس سے شروع کروکہ اس پر خرچ کرو ۷؎ پھر اگر کچھ بچ رہے تو اپنے گھر والوں کو دو پھر اگر گھر والوں سے کچھ بچ رہے تو اپنے قرابت والوں کو دو۸؎ پھر اگر تمہارے قرابت داروں سے بھی کچھ بچ رہے تو یوں دو اور یوں دو، حضور انور اپنے آگے دائیں بائیں اشارہ فرماتے جاتے تھے ۹؎ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع