30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
آزاد کرنے والا فقیر ہے تو اس وقت تو غلام کا یہ ہی حصہ دار ہوگا مگر باقی مالکوں کو حق ہوگاکہ یا تو وہ بھی آزاد کردیں یا غلام سے مشقت کراکر اپنےحصوں کی قیمت وصول کرلیں اور غلام یہ قیمت دے کر آزاد ہوجائے،بہرحال تمام اماموں کا اس پر تو اتفاق ہے کہ اگر آزاد کرنے والا غنی ہے تو سارا غلام آزاد ہوجائے گا آزادی منقسم نہ ہوگی،اس پر بھی متفق ہیں کہ اگر آزاد کرنے والا فقیر ہے تو اتنا ہی حصہ آزاد ہوگا جتنا آزاد کیا گیا،اختلاف اس میں ہے کہ باقی حصہ غلام رہے گا یا نہیں،امام شافعی کے ہاں رہے گا ہمارے ہاں نہیں صاحبین تقسیم عتق کے قائل نہیں ان کے ہاں بہرحال پورا غلام آزاد ہوگا،معتق غنی ہو یا فقیر،ہاں فقیری کی صورت میں غلام آزاد ہوتو چکا مگر محنت کرکے اپنی بقیہ قیمت باقی مالکوں کودے دے،سب کے دلائل کتب فقہ میں اور مرقات میں اسی جگہ دیکھئے۔
|
3389 -[2] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَعْتَقَ شِقْصًا فِي عَبْدٍ أُعْتِقَ كُلُّهُ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ اسْتَسْعَى الْبعد غيرمشقوق عَلَيْهِ» |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں جس نے غلام میں ایک حصہ آزاد کیا تو وہ پورا آزاد ہوگیا اگر اس کے پاس مال ہواور اگر اس کے پاس مال نہ ہو تو غلام سے محنت کرائی جائے بغیر اس پر مشقت ڈالے ۱؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ اس حدیث کے معنی صاحبین کے ہاں یہ ہیں کہ اگر آزاد کرنے والا فقیر ہے تو غلام پورا آزاد ہوگیا مگر کمائی کرے باقی مالکوں کو اپنے بقیہ حصے کی قیمت ادا کرے اور امام صاحب کے ہاں یہ معنی ہیں کہ ابھی اس کا ایک حصہ ہی آزاد ہوا جب کمائی کرکے اپنی بقیہ قیمت ادا کرے گا تب باقی آزاد ہوگا،امام شافعی کے ہاں یہ معنے ہیں کہ اس صورت میں غلام کا ایک حصہ آزاد ہوگیا باقی مالک بدستور اپنے اپنے حصوں میں اس سے اپنا کام لیں بلکہ امام شافعی فرماتے ہیں کہ یہ جملہ استسعی العبد الخ حضور کا فرمان ہے ہی نہیں یہ قتادہ راوی کا اپنا قول ہے مگر حق یہ ہے کہ حضور ہی کا فرمان ہے جیسا کہ دوسری روایات سے ثابت ہے۔
|
3390 -[3] وَعَن عمرَان بن حُصَيْن: أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ سِتَّةَ مَمْلُوكِينَ لَهُ عِنْدَ مَوْتِهِ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُمْ فَدَعَا بهم رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَزَّأَهُمْ أَثْلَاثًا ثُمَّ أَقْرَعَ بَيْنَهُمْ فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ وَأَرَقَّ أَرْبَعَةً وَقَالَ لَهُ قَوْلًا شَدِيدًا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَرَوَاهُ النَّسَائِيُّ عَنْهُ وَذَكَرَ: «لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أُصَلِّيَ عَلَيْهِ» بَدَلَ: وَقَالَ لَهُ قَوْلًا شَدِيدًا وَفِي رِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ: قَالَ: «لَوْ شَهِدْتُهُ قَبْلَ أَنْ يُدْفَنَ لَمْ يُدْفَنْ فِي مَقَابِر الْمُسلمين» |
روایت ہے حضرت عمران ابن حصین سے کہ ایک شخص نے اپنی موت کے وقت اپنے چھ غلاموں کو آزاد کردیا ۱؎ اس کے پاس سوائے ان کے اور کوئی مال نہ تھا۲؎ تو انہیں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے بلایا تو ان کے تین حصے کیے پھر ان میں قرعہ ڈالا۳؎ چنانچہ دو کو آزاد کردیا اور چار کو غلام رکھا ۴؎ اور میت کے لیے بہت سخت الفاظ فرمایئے ۵؎ اور ابوداؤد کی روایت میں ہے کہ فرمایا اگر ہم دفن کیے جانے سے پہلے ہوتے تو وہ مسلمان کے قبرستان میں دفن نہ کیا جاتا ۶؎ |
۱؎ اس طرح کہ ان سب سے کہہ دیا تم سب آزاد ہو جاؤ یہ نہ کہا کہ میرے بعد آزاد ہوجاؤ گے یعنی عتق تنجیزی تھا۔
۲؎ اگر اس مرنے والے کے پاس ان غلاموں کے سواء اور مال ہوتا کہ یہ غلام اس کا تہائی بن جائے تو یہ سب آزاد ہوجاتے کہ مرتے وقت اپنے تہائی مال میں تصرف جائز ہے زیادہ میں نہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع