دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

باب اعتاق العبد المشترک و شری القریب و العتق فی المرض

مشترک غلام آزادکرنے ۱؎ اور قرابتدار کو خریدنے۲؎ اور بیماری میں آزادکرنے کا بیان ۳؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ یعنی ایک غلام چند شخصوں کا مشترک ہو ان مالکوں میں سے ایک آزاد کردے تو بقیہ مالک کیا کریں،اس میں اختلاف ہے عتق تقسیم ہوسکتا ہے یا نہیں اس طرح کہ غلام آدھا آزاد ہوجائے اور آدھا غلام رہے،امام ابوحنیفہ کے ہاں ہوسکتا ہے،صاحبین کے ہاں نہیں رضی اللہ عنہم اس پر بہت سے شرعی مسائل متفرع ہوتے ہیں۔

۲؎   کہ کون قریبی عزیز اپنی ملک میں آنے سے آزاد ہوتا ہے اور کون عزیز آزاد نہیں ہوتا۔

۳؎ یعنی بیماری موت میں آزاد کرنے اور مدبر کرنے کا حکم۔

3388 -[1] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ وَكَانَ لَهُ مَالٌ يَبْلُغُ ثَمَنَ الْعَبْدِ قُوِّمَ الْعَبْدُ قِيمَةَ عَدْلٍ فَأُعْطِيَ شُرَكَاؤُهُ حِصَصَهُمْ وَعَتَقَ عَلَيْهِ الْعَبْدُ وَإِلَّا فَقَدْ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ»

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جو کسی غلام میں اپنا حصہ آزاد کردے تو اگر اس کے پاس مال ہوجو غلام کی قیمت کو پہنچ جائے ۱؎ تو اس پر غلام کی قیمت لگائی جائے انصاف کی پھر بقیہ شریکوں کو ان کے حصے دے دیئے جائیں اور غلام اس پر ہی آزادہوگا ۲؎ وگرنہ اس غلام میں سے جتنا ہوگیا وہ ہوگیا ۳؎(مسلم،بخاری)

۱؎  شرك شین کے کسرہ ر کے سکون سے بمعنی حصہ۔(نہایہ)یعنی اگر چند شخص ایک غلام کے مالک تھے اور غلام ان سب میں مشترک تھا کہ ایک مالک نے اپنا حصہ آزاد کردیا  تو اگر اس آزاد کرنے والے کے بعد کھانے پینے اور لباس اور رہنے کے مکان و خدمت کے غلام غرض ضروریات سے بچا ہوا اتنا مال ہو جو باقی حصہ داروں کے حصوں کی قیمت کے برابر ہو لہذا اس آزاد کرنے والے کے مکان،جائیداد،کپڑے فروخت کراکر ان شرکاء کو نہ دلوایا جائے گا یہ قیود بہت خیال میں رہیں۔(مرقات)

۲؎ یعنی آزاد کرنے والا اگر اس قدر مال کا مالک ہے جو اوپر مذکور ہوا تو باقی مالکوں کے حصوں کی انصاف والی قیمت اس سے دلوائی جاوے گی اور غلام پورا آزاد ہوگا اور یہ اکیلا ہی آزاد کرنے والا مانا جائے گا اس کی ولاء ساری کی ساری اسی معتق کی ہوگی۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس صورت میں اس ایک مالک کے آزاد کرتے ہی سارا غلام آزاد ہوجائے گا،ان بقیہ مالکوں کو قیمت دینے پر آزادی موقوف نہ ہوگی، نیز یہ حکم ہر غلام و معتق کا ہے خواہ مؤمن ہوں یا کافر اور اس آزادی سے راضی ہوں یا ناراض،یہ ہی مذہب ہے صاحبین کا،اسی کو امام طحاوی وغیرہ نے اختیار فرمایا۔

۳؎ یعنی اگر وہ آزاد کرنے والا مالک تنگدست ہے کہ اس کے پاس مذکورہ مال نہیں ہے تو اتنا حصہ غلام کا آزاد ہوگیا، باقی حصہ غلام ہی ہے،باقی مالکوں کو حق ہے کہ یا غلام سے محنت و مشقت کرا کر اس کی بقیہ قیمت وصول کر کے آزاد کردیں یا غلام ہی رہنے دیں، وہ بھی بخوشی  بغیر عوض آزاد کردیں یہ مذہب ہے امام شافعی کا اور یہ حدیث ان کی دلیل ہے۔ غرضکہ  ان کے ہاں غلام کی آزادی کے حصے ہوسکتے ہیں کہ اس غلام کا بعض حصہ آزاد ہے بعض غلام۔ ہمارے امام اعظم کے ہاں اگرچہ آزادی منقسم ہو سکتی ہے مگر منقسم رہ نہیں سکتی لہذا  امام اعظم کے ہاں اگر

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن