30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۵؎ سبحان اﷲ! یہ ہے اس سید الکونین افصح العرب کی فصاحت و بلاغت کہ عتق سے مراد ہے آزاد کرنا،آزاد وہ ہی کرے گا جو مالک ہوگا لہذا اس کے معنی ہوئے اپنا غلام آزاد کرنا،اور فک کے بمعنی ہیں پھنسی گردن چھوڑانا یعنی کسی اور کا غلام ہے اس نے اسے مکاتب کردیا ہے،یہ مال ادا کرنے پر قادر نہیں،اس کی گردن پھنسی ہے تواس کی کلی یا بعض قیمت ادا کرکے آزاد کرادے۔
۶؎ منحہ میم کے کسرہ نون کے جزم سے بمعنی عطیہ،اب اس دودھ والے جانور کو منحہ کہتے ہیں۔جو کسی کو دودھ پینے کے لیے عاریۃً دیا جائے اونٹنی یا بکری گائے وغیرہ۔ وکوف و کف سے ہے بمعنی قطرے ٹپکنا،کہا جاتا ہے وکف السقف بارش میں چھت ٹپکی،اس سے مراد بہت دودھ دینے والی اونٹنی بکری وغیرہ ہے جس کا دودھ ٹپکتا ہو زیادتی کی وجہ سے،یہ عبارت مبتداء ہے اس کی خبر خیر پوشیدہ یعنی بہت دودھ والے جانور کا عاریۃً دے دینا بھی بہت ہی اچھا عمل ہے جنت میں پہنچانے والا،یا المنحۃ منصوب ہے فعل پوشیدہ کا مفعول۔
۷؎ یعنی تیرا عزیز قرابتدار اگر تجھ پر ظلم کرے مگر تو اس پر مہربانی سے رجوع کرے یہ بھی جنتی ہونے کا عمل ہے۔(اشعہ)یا جو تیرا عزیز قرابتدار دوسروں پر ظلم کرے تو تو اس کی قرابت ومحبت واپس کردے ، اس سے تعلق توڑ دے تاکہ وہ اس حرکت سے توبہ کرے ،محض قرابتدار ی کی وجہ سے اس کی حمایت نہ کر۔(مرقات)
۸؎ یعنی لوگوں پر ظاہری و باطنی احسان کر،کھانا پانی ظاہری احسان ہے جس سے جسم کی پرورش ہے اور برائی سے روکنا بھلائی کا حکم دینا باطنی احسان جس سے دل و دماغ کی پرورش ہے۔
۹؎ اس طرح کہ زبان سے بری بات جھوٹ غیبت گالی وغیرہ نہ نکالو۔یہاں خیر شر کا مقابل ہے لہذا اس خیر میں جائز و مباح کلام بھی داخل ہے۔علماء فرماتے ہیں کہ بہترین عمل یہ ہے کہ کثرت سکوت،لزوم البیوت،قناعۃ بالقوت الی ان یموت یعنی دراز خاموشی، اکثر گھر میں رہنا،تا حیات تھوڑے پر قناعت کرنا۔
|
3385 -[4] وَعَن عَمْرو بن عبسة أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ بَنَى مَسْجِدًا لِيُذْكَرَ اللَّهُ فِيهِ بُنِيَ لَهُ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ وَمَنْ أَعْتَقَ نَفْسًا مُسْلِمَةً كَانَتْ فِدْيَتَهُ مِنْ جَهَنَّمَ. وَمَنْ شَابَ شَيْبَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَانَتْ لَهُ نُورًا يَوْم الْقِيَامَة» . رَوَاهُ فِي شرح السّنة |
روایت ہے حضرت عمرو بن عبسہ سے ۱؎ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جو اس لیے مسجد بنائے کہ اس میں اﷲ کا ذکر کیا جائے،تو اس کے لیے جنت میں گھر بنایا جائے گا ۲؎ اور جو مسلمان نفس کو آزاد کرےتو وہ اس کا دوزخ سے فدیہ ہوگا۳؎ اور جو اﷲ کی راہ میں بوڑھا ہو ۴؎ تو اس کے لیے قیامت کے دن نور ہوگا۵؎(شرح السنہ)۶؎ |
۱؎ آپ کی کنیت ابو نجیح ہے،سلمی ہیں، چوتھے مسلمان ہیں، آپ کے فضائل بیان کیے جاچکے ہیں۔
۲؎ مسجد چھوٹی بنائے یا بڑی،اکیلا بنائے یا دوسروں کے ساتھ مل کر اگر نیت میں اخلاص ہے تو ان شاءاﷲ یہ ہی ثواب ہے،اس سے وقف مسجد مراد ہے نہ کہ گھر کی مسجد جو گھر میں ایک گوشہ نماز کے لیے مخصوص کرلیا جاتا ہے۔
۳؎ کہ اﷲ اس آزاد کرنے کے سبب اسے دوزخ سے نجات دے گا یہ لازم نہیں کہ اس آزاد کردہ غلام کوضرور دوزخ ہی میں بھیجے، فدیہ سے یہ مراد نہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع