دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

3381 -[6]

عَنْ هِلَالِ بْنِ أُسَامَةَ عَنْ أَبِي مَيْمُونَةَ سُلَيْمَانَ مَوْلًى لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا جَالِسٌ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ جَاءَتْهُ امْرَأَةٌ فَارِسِيَّةٌ مَعَهَا ابْنٌ لَهَا وَقَدْ طَلَّقَهَا زَوْجُهَا فَادَّعَيَاهُ فَرَطَنَتْ لَهُ تَقُولُ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ زَوْجِي يُرِيدُ أَنْ يَذْهَبَ بِابْنِي. فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: اسْتهمَا رَطَنَ لَهَا بِذَلِكَ. فَجَاءَ زَوْجُهَا وَقَالَ: مَنْ يُحَاقُّنِي فِي ابْنِي؟ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: اللَّهُمَّ إِنِّي لَا أَقُولُ هَذَا إِلَّا أَنِّي كُنْتُ قَاعِدًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ زَوْجِي يُرِيدُ أَنْ يَذْهَبَ بِابْنِي وَقَدْ نَفَعَنِي وَسَقَانِي مِنْ بِئْرِ أَبِي عِنَبَةَ وَعِنْدَ النَّسَائِيِّ: مِنْ عَذْبِ الْمَاءُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اسْتَهِمَا عَلَيْهِ» . فَقَالَ زَوْجُهَا مَنْ يُحَاقُّنِي فِي وَلَدِي؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَذَا أَبُوكَ وَهَذِهِ أُمُّكَ فَخُذْ بِيَدِ أَيِّهِمَا شِئْتَ» فَأَخَذَ بيد أمه. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد. وَالنَّسَائِيّ لكنه ذكر الْمسند. وَرَوَاهُ الدَّارمِيّ عَن هِلَال بن أُسَامَة

روایت ہے حضرت ہلال ابن اسامہ رضی اللہ عنھما سے وہ ابو میمونہ سلیمان سے راوی ۱؎ جو اہلِ مدینہ کے مولیٰ ہیں فرماتے ہیں کہ اس حال میں کہ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک عورت فارسی ان کے پاس آئی جس کے ساتھ اس کا بچہ تھا اور اسے اس کے خاوند نے طلاق دے دی تھی ان دونوں نے بچہ کا دعویٰ کیاعورت نے فارسی میں کلام کیا ۲؎ بولی اے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ میرا خاوند چاہتا ہے کہ میرے بچے کو لے جائے تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس پر قرعہ ڈال لو آپ نے فارسی میں یہ فرمایا ۳؎ پھر اس کا خاوند آیابولا کہ میرے بچہ میں مجھ سے کون جھگڑ سکتا ہے۴؎ تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا الٰہی میں نہیں کہتا ۵؎ مگر اس لیے کہ میں بیٹھا ہوا تھا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ کہ آپ کی خدمت میں ایک عورت حاضر ہوئی بولی یارسول اﷲ میرا خاوند چاہتا ہے کہ میرے بچہ کو لے جائے ۶؎ حالانکہ یہ بچہ مجھے آرام پہنچاتاہے مجھے ابو عنبہ کے کنوئیں سے پانی پلاتا ہے ۷؎  اور نسائی کے ہاں کہ میٹھا پانی پلاتا ہے ۸؎  تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اس پر تم دونوں قرعہ ڈال لو تو خاوند بولا میرے بچہ کے متعلق مجھ سے کون جھگڑ سکتا ہے ۹؎  تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ یہ تیرا باپ ہےاور یہ تیری ماں ہے تو ان میں سے جس کا چاہے ہاتھ پکڑ لے اس نے اپنی ماں کا ہاتھ پکڑلیا ۱۰؎ (ابوداؤد،نسائی)لیکن نسائی نے مسند کا ذکر کیا اور دارمی نے ہلال ابن اسامہ سے روایت کی۔

۱؎  ہلال ابن اسامہ تبع تابعی ہیں،ثقہ ہیں اور ابومیمونہ تابعی ہیں،ان کے نام میں اختلاف ہے یا سلمان ہے بغیر ی کے یا سلیمان ہے ی کے ساتھ یا سلیم ہے یا سلمہ یا اسامہ،صاحب مشکوۃ کے نزدیک سلیمان ہے ی سے،خیال رہے کہ ہلال کے والد کا نام علی ابن اسامہ ہے تو اسامہ ہلال کے دادا ہیں،یہاں دادا کی طرف منسوب ہیں قبیلہ بنی فہر سے ہیں۔(مرقات وغیرہ)

۲؎ رطنت رطانۃٌ سے رطانۃٌ وہ کلام کرنا جو عام طور پر سمجھا نہ جاسکے یعنی غیر ملکی زبان میں گفتگو اسی لیے عرب لوگ عجمی بول چال کو رطانۃ کہتے ہیں،یہاں فارسی گفتگو مراد ہے کہ عرب کے لیے وہ غیر ملکی زبان ہے۔غالب یہ ہے کہ واقعہ مدینہ منورہ کا ہے یہ عورت مدینہ منورہ میں رہتی تھی مگر گفتگو فارسی میں کرتی تھی یا عربی فارسی ملی جلی بولتی تھی۔

۳؎ ظاہر یہ ہے کہ رطن کا فاعل جناب ابوہریرہ ہیں مدینہ منورہ میں فارسی لوگوں کے آنے جانے کی وجہ سے صحابہ کرام فارسی سمجھ بھی لیتے تھے اور کچھ بول بھی لیتے تھے جیسے آج وہاں کے باشندے عمومًا اردو بولتے سمجھتے ہیں،بعض نے فرمایا کہ درمیان میں ترجمان تھا رطن کا فاعل وہ ترجمان ہی ہے۔

۴؎ یعنی اس کے خاوند کو دعویٰ کا پتہ چلا تو جواب دعویٰ کے لیے وہ حضرت ابوہریرہ کے پاس آیا جب کہ اس کی بیوی وہاں ہی موجود تھی اس کا کہنا یہ تھا کہ قرعہ ڈالنے کی کیا ضرورت ہے بچہ باپ کا ہوتا ہے کہ اس سے نسب چلتا ہے لہذا میں ہی اس کا مستحق ہوں۔

۵؎ آپ کا اللّٰہم فرمانا رب تعالٰی کو گواہ بنانے کے لیے تھا گویا ایک طرح کی قسم تھی یعنی خدایا تو گواہ ہے میں تیری قسم کھاتا ہوں۔

۶؎ یعنی آج کا یہ واقعہ بالکل اسی واقعہ کی مثل ہے جو بارگاہِ رسالت میں پیش ہوا تھا وہ ہی صورت ہے وہ ہی نوعیت۔

۷؎  عنبہ عین کے کسرہ نون و ب کے زبر سے کوئی خاص کنواں تھا مدینہ منورہ میں جس کا پانی بہت اچھا تھا اب وہ کنوان نہیں،مقصد یہ ہے کہ اگر یہ بچہ میرے پاس نہ رہا تو مجھے کوئی پانی لا کر دینے والابھی نہیں ہے،مجھے اس بچہ کی سخت ضرورت ہے۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن